میرا کو سیٹھی اور جگنو کی بیٹی ہونے کا فائدہ یا نقصان؟

معروف صحافی نجم سیٹھی اور جگنو محسن کی بیٹی میرا سیٹھی کا کہنا ہے کہ انہیں معروف والدین کی اولاد ہونے کا فائدہ بھی ہوا ہے اور نقصان بھی۔ جو لوگ انکے والدین سے نظریاتی طور پر اختلاف کرتے ہیں وہ بلاوجہ ان کے بھی خلاف ہیں اور انہیں بھی مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے تاہم جو لوگ ان کے والدین کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ میرا سیٹھی کا شمار پاکستان کی جانی پہچانی ادکاراؤں میں تو ہوتا ہی ہے لیکن اب وہ لکھاری بھی بن گئی ہیں۔ حال ہی میں اںکی انگریزی کہانیوں کی کتاب ’آر یو انجوائنگ‘ شائع ہوئی ہے جسے عالمی میگزین ووگ نے 2021 میں لازمی پڑھنے والی بہترین کتابوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اپنی کتاب کی اشاعت کے بعد میرا سیٹھی پوچھا گیا کہ انہوں نے اس کتاب کی تکمیل میں پانچ سال کیوں لگا دیئے تو انکا کہنا تھا کہ لکھاری کے ذہن میں موجود خیالات اکثر کچے ہوتے ہیں، انہیں مجتمع کر کے اور میچور کر کے کاغذ پر اُتارنے میں وقت لگتا ہے، لہذا تحت الشعور میں پائے جانے والے انکے خیالات کو شعور میں آتے ہوئے پانچ سال لگ گئے۔ اپنی کہانیوں کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ ان کے اپنے مشاہدات پر مبنی ہیں، وہ جب بھی کہیں جاتی ہیں تو ایک مصنف کی حیثیت سے آس پاس پر گہری نگاہ ڈالتی ہیں اور پھر موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں، انکا کہناہے کہ اسی لیے ان کی تحریر میں پاکستانی معاشرے میں موجود جدت اور روایت کے ٹکراؤ کے اثرات نظر آتے ہیں، میرا سیٹھی کا کہنا ہے کہ وہ معاشرے میں موجود گھٹن کی وجہ جاننا چاہتی ہیں کہ ایسا کیوں ہے اور اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
میرا سیٹھی نے انگریزی میں کتاب لکھنے اور اس میں جابجا اردو الفاظ استعمال کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انگریزی اور اردو دونوں میں سوچتی ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے کتاب میں جا بجا جگہ کی مناسبت سے جملے لکھے اور موڈ کے مطابق انگریزی یا اردو لفظ استعمال کیے، انہوں نے بتایا کہ ان کی کتاب امریکہ اور برطانیہ میں چھپی ہے اور پھر وہاں سے پاکستان میں درآمد کی گئی ہے۔ کتاب میں موجود کہانیوں بارے میرا نے کہا کہ انہوں نے اپنے حساب سے کہانیاں لکھی ہیں، ان میں دلچسپی کا عنصر دل سے آنا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ ان کہانیوں پر نکتہ چینی بھی ہوئی ہے مگر مثبت تنقید بھی ضروری ہے۔
میرا سیٹھی کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یہ کہانیاں اُردو میں بھی شائع ہوں، اس لیے اگر کوئی اس کتاب کا ترجمہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو تو وہ ان سے رابطہ کرسکتا ہے۔اپنی کہانیوں کو ٹی وی یا فلم کی صورت میں ڈھالنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایک پروڈیوسر سے بات ہوئی ہے جس کے لیے سکرین پلے لکھنا پڑے گا تاہم میرا سیٹھی کے مطابق ان کی کہانیاں ’بولڈ‘ ہیں۔
ہم ٹی وی کے مزاحیہ ڈرامے ’چپکے چپکے‘ میں گُل آپا کا کردار کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ ڈرامہ اس کی کاسٹ کی وجہ سے کیا تھا اور بحیثیت ایک اداکارہ کے جو ان کا فن ہے، اس لیے وہ یہ نہیں سوچتیں کہ اصل زندگی سے ڈرامے کا کردار کس حد تک مختلف ہے۔
میرا کے مطابق وہ اس چیز سے اجتناب کرتی ہیں جس سے لوگوں کو تکلیف پہنچے اور وہ فن کو درس سے الگ رکھنے کی قائل ہیں ۔ پاکستان میں حقوقِ نسواں کی تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے میرا سیٹھی نے بتایا کہ مساوی حقوق ہر کامیاب معاشرے کی علامت ہیں اور پاکستان میں حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف تشدد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ انکا۔کہنا تھانکہ ’ابھی پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کا بِل بھی منظور نہیں ہو سکا، کیونکہ اس میں سیاست آ جاتی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو ایسی چیزیں سنجیدگی سے لینی چاہئیں، میرا سیٹھی کا مطالبہ ہے کہ ملک کے آئین میں ہی خواتین کے حقوق کو ذرا تگڑا ہونا چاہئے تاکہ کسی کو خواتین کے حقوق کے بارے میں فکر لاحق ہی نہ ہو ، حال ہی میں لکس سٹائل ایوارڈز میں خواتین کے ملبوسات پر ہونے والی شدید نکتہ چینی کے بارے میں میرا نے کہا کہ میں ہوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ مردانگی کیا ہے؟
انہوں نے سوال اُٹھایا کہ مردانگی عورت کے لباس پر شروع اور اس پر ختم کیوں ہوتی ہے؟ اگر عورت کے لباس میں شوخی نظر آئے تو کسی کی مردانگی کو دھمکی کیوں لگتی ہے؟ میرا سیٹھی نے کہا کہ اس ملک میں روادار مرد اور بااختیار عورت ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
