لاہور بم دھماکے کا نشانہ حافظ سعید تھے یا پولیس تھی؟

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے مکان سے چند فرلانگ دور ہونے والے خوفناک بم دھماکے کے بعد تفتیشی ادارے یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا دہشت گردوں کا اصل ٹارگٹ حافظ سعید تھے، انکی رہائش گاہ تھی یا اس کے باہر تعینات پولیس اہلکار؟
باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے باہر پولیس اہلکار اس لیے تعینات کیے گے تھے کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ گھر میں رہائش پزیر تھے۔ یاد رہے کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے کے الزام پر حافظ سعید کو تین مختلف کیسوں میں سالہا سال قید کی سزائیں سنانے کے بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا، لیکن کچھ مہینے پہلے انہیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جیل سے نکال۔کر انکی جوہر ٹاون رہائش گاہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
حافظ سعید کو مختلف سزائیں سنانے پر جماعت الدعوہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب پاکستانی ریاست بین الاقوامی دباؤ پر کر رہی ہے تاکہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کیا جا سکے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ حافظ سعید کے گھر کے باہر خوفناک دھماکہ تب ہوا جب پیرس مین ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری ہے جسمیں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے مین فیصلہ کیا جانا ہے۔ جوہر ٹاون دھماکے میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور کم از کم 22 زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے چھ کی حالت نازک ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بم دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے گلی میں موجود ایک درجن سے زائد مکان بری طرح متاثر ہوئے جبکہ چار مکان مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ دھماکے سے سڑک پر 6 فٹ گہرا کھڈا بھی پڑ گیا۔ پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کر لیے۔ دھماکے کے مقام سے ملنے والے بال بیرنگز سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بم دھماکا تھا۔
سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے دھماکے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار سمیت تین افراد کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نےعلاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس نے بتایا کہ دھماکے کے مقام پر ایک گڑھا پڑ گیا ہے اور اس مقام کے نزدیک ایک تباہ شدہ گاڑی اور ایک موٹر سائیکل کھڑی پائی گی ہے۔ دھماکے کے بعد جائے وقوع پر موجود انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ ایک طاقتور بم دھماکہ تھا جس کا ہدف وہاں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی پنجاب کو حال ہی میں لاہور میں دہشت گردی کی ایک ممکنہ کارروائی کے حوالے سے اطلاع ملی تھی جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور اسی وجہ سے دہشت گرد براہ راست پولیس اہلکاروں تک نہیں پہنچ پائے جو کہ حافظ سعید کے گھر کے باہر تعینات تھے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے ماہرین معلوم کریں گے کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی اور کیا یہ کوئی خودکش حملہ تھا یا نہیں۔
جب آئی جی پنجاب انعام غنی سے حافظ سعید کے مکان کی موجودگی اور اس پر ممکنہ حملے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے تصدیق کی کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ کا مکان نزدیک ہی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ وہاں تک جانے کے راستے میں پولیس کی رکاوٹیں تھیں جس کی وجہ سے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی گاڑی مکان کے قریب نہیں پہنچی اور اب تک کا ابتدائی تجزیہ یہی ہے کہ حملہ گھر کے باہر تعینات پولیس والوں پر کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں جن مکانات کو نقصان پہنچا ہے ان کی تلافی کی جائے گی۔حملے کی ذمہ داری کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک عناصر پاکستان کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے اس لیے یہاں کہ امن و امان کے تباہ کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں ہوتی ہیں۔
دھماکے کے مقام پر عینی شاہدین نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دھماکہ اس قدر زوردار تھے کہ قریبی کئی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کے قریب واقع کئی گھروں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ ایک عینی شاہد خاتون نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے دھماکے سے پہلے ایک مشکوک موٹرسائیکل کو گلی میں چکر لگاتے دیکھا تھا لیکن اس کو اس کی سیکیورٹی والوں نے روکنے کی زحمت نہیں کی۔
ان کا دعوٰی تھا کہ وہی موٹر سائیکل دھماکے سے پھٹی تھی۔ دھماکے کی جگہ پر ایک سبز رنگ کی جیب بھی مکمل طور پر تباہ کن حالت میں ملی ہے۔آئی جی پنجاب انعام غنی کامکہنا ہے کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتا تھا مگر پولیس کی پیٹرولنگ اور ناکہ بندی کی وجہ سے دہشت گرد اپنا ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے۔ آئی جی کے مطابق اگر پولیس کا ناکہ موجود نہ ہوتا تو حملہ آور آگے تک بھی جا سکتے تھے۔ اس موقع پر ایک صحافی نے آئی جی پولیس سے سوال کیا کہ ’دھماکے کے مقام کے قریب ہی جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کا گھر بھی ہے جو انڈیا کے ’موسٹ وانٹڈ‘ ہیں، کیا آپ کو اس میں کسی عالمی ایجنسی کا ہاتھ نظر آتا ہے؟‘ اس پر انعام غنی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی عالمی ایجنسی یہ تو نہیں کہے گی کہ یہ دھماکہ اس نے کروایا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جہاں تک یہاں پر ہائی ویلیو ٹارگٹ کے گھر کا سوال ہے، اسی کے باہر پولیس کا ناکہ ہے اور اسی وجہ سے تباہ ہونے والی گاڑی گھر تک نہیں جا پائی ہے۔ اگر یہ ناکہ نہ ہوتا تو یہ گاڑی کہیں اور بھی جا سکتی تھی۔‘
یاد رہے کہ ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا قیمتی ترین اثاثہ سمجھے جانے والے جہادی رہنما حافظ محمد سعید کو دہشت گردوں کی فنڈنگ کا جرم ثابت ہونے پر تین کیسوں میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ حافظ سعید کو اوپر تلے سزائیں سنانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے جماعت الدعوہ کے ذرائع نے الزام عائد کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ دراصل پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے انکی قیادت کو سزائیں دلوا رہی ہے۔ جماعت الدعوہ کی قیادت نے اپنے دعوے کی سپورٹ میں یہ دلیل پیش کی کہ جب نواز شریف دور میں میں حکومت نے ہمارے خلاف ایکشن لینے کی تجویز دی تھی تو تب کی فوجی قیادت نے اس عمل کو ڈان لیکس کا نام دے کر سختی کے ساتھ مسترد کر دیا تھا۔ لیکن آج کی قیادت نے صرف بین الاقوامی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے حافظ سعید کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ہے۔ تاہم اس تنقید کے کچھ مہینے بعد حافظ سعید کو کوٹ لکھپت جیل لاہور سے ان کی جوہر ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پر منتقل کر دیا گیا تھا اوع گھر کے باہر بھاری سکیورٹی تعینات کردی گئی تھی۔
یاد رہے کہ بھارت نے حافظ سعید کو نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ ان حملوں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سعید ان حملوں میں انڈیا کو مطلوب ہیں اور اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے انھیں عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ کیونکہ ممبئی حملوں میں کئی امریکی شہری بھی مارے گئے تھے اس لیے امریکہ نے حافظ سعید کے سر پر 10 ملین ڈالر انعام بھی رکھا ہوا ہے۔
