لاہور دھماکے میں ممبئی اور بحرین کا کنکشن پکڑا گیا


لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں حافظ سعید کے گھر کے باہر ہونے والے طاقتور بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان دشمنوں نے اس مرتبہ دہشت گردی کے لیے افغان سرحد کی بجائے خلیجی ریاست بحرین کا راستہ اختیار کیا اور اس مقصد کے لیے دو پاکستان خاندان استعمال کیے جنکے بھارتی شہر ممبئی میں رابطے ہیں۔ دونوں خاندانوں نے پیسوں کے لالچ میں اپنا ایمان بیچا اور دھماکے میں سہولت کاری کی۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے ان خاندانوں کے ممبئی میں روابط کا پتہ بھی لگا لیا ہے اور وہ اکاؤنٹس بھی ٹریس کر لیے ہیں جن میں دھماکہ کروانے کے لیے رقوم بھجوائی گئی تھیں۔ یاد رہے کہ جوہر ٹاؤن میں ہوئے دھماکے میں ملوث تمام نیٹ ورک پکڑا گیا ہے اور تحقیقات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ انسداد دہشت گردی کے محکمہ سی ٹی ڈی نے لاہور، جھنگ، کراچی اور راولپنڈی سے ملزمان کا سراغ لگایا۔ اس دھماکے کا مقصد پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس پر اثر انداز ہونا تھا جہاں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جانا تھا۔
کاؤنٹر ٹریرازم ڈیپارٹمینٹ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں حافظ سعید کے گھر کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے میں ’بارود سے بھر گاڑی کھڑی‘ کرنے والے اہم ملزم پیٹر ڈیوڈ کو پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا جس کی نشاندہی پر نو مزید افراد بھی گرفتار کیے گئے جن میں ایک عورت بھی شامل ہے۔ یوں دھماکے میں ملوث 10 افراد کا پورا نیٹ ورک دھر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کے مقام پر گاڑی کھڑی کرنے والی عید گل کو راولپنڈی کے علاقے روات سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو سی سی ٹی وی کیمروں، نادرا اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے شناخت کیا گیا تھا۔ جب پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے گھر پہنچے تو وہ گھر پر موجود نہیں تھا جبکہ اس کی بیوی اور بچے موجود تھے جن کی مدد سے عید گل کو گرفتار کر لیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے خریدار، بارودی مواد نصب کرنے والا شخص، ریکی کرنے والا شخص اور دھماکے میں ملوث تمام دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں دہشت ’ملک دشمن ایجنسیاں یعنی را اور این ڈی ایس براہ راست ملوث ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ’بارود سے بھری گاڑی کھڑی‘ کرنے والے ملزم اور پہلے سے گرفتار ماسٹر مائنڈ دیوڈ کا آپس میں رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کو ایک ہی بار دیکھا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں کہ پہلی اور آخری ملاقات تب ہوئی تھی جب ڈیوڈ نے 23 جون کے حملے سے دو روز قبل یعنی 21 جون کو دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی لاہور میں نیازی اڈے کے قریب عید گل کے حوالے کی تھی۔ذرائع کے مطابق تب بھی دونوں ملزمان نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور دونوں نے ایک دوسرے کے چہرے ٹھیک طرح نہیں دیکھے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان کو ان کے ہینڈلرز مشرق وسطیٰ کے ملک بحرین سے براہ راست ہدایات دے رہے تھے۔ ڈیوڈ کراچی کا رہائشی ہے جو کہ بحرین میں کئی برس قیام پذیر رہا ہے اور مبینہ طور پر جسم فروشی کے دھندے سے منسلک ہے۔ اس سلسلے میں اس کا نہ صرف پاکستان کے دیگر شہروں میں بہت آنا جانا تھا بلکہ وہ خلیجی ممالک بھی آتا جاتا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ڈیوڈ نے اپنی ایک خاتون دوست کے ذریعے اس کے گجرات کے رہائشی سوتیلے بھائی کی مدد سے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا بندوبست کروایا جس کے بعد وہ کار ملزم کے حوالے کر دی گئی جسے لے کر وہ براستہ موٹروے راولپنڈی چلا گیا اور حملے کے روز دوبارہ گاڑی لاہور لے کر آیا اور حافظ سعید کے گھر کے نزدیک کھڑی کر دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عید گل نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں بم حملے کا منصوبہ تقریباً ایک سال قبل بنا تھا اور جس کے لیے اس سمیت مختلف لوگوں کو اس میں شامل کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش دعویٰ کیا ہے کہ وہ ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کے لیے دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث رہا ہے لیکن گذشتہ چند برسوں سے وہ اس دہشت گرد گروپ سے علیحدہ ہو چکا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عید گل نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا ہے کہ حملے کے روزوہ حافظ سعید کے گھر کے قریب گاڑی کھڑی کر کے وہاں سے پیدل نکلا اور بعد میں رکشے کے ذریعے لاری اڈے پہنچا اور اس کے بعد بس میں بیٹھ کر روات، راولپنڈی چلا آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا بھی ماضی میں ایک خلیجی ملک میں آنا جانا رہا ہے۔ گاڑی میں دھماکہ خیز مواد کس نے اور کہاں نصب کیا یا کروایا، اس سوال کے جواب میں پولیس ذرائع نے اتنا ہی بتایا کہ ملزم نے ابھی انھیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے خود گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا یا کسی اور نے کر کے دیا تھا لیکن وہ بہت جلد اس سوال کے جواب تک بھی پہنچ جائیں گے۔

Back to top button