لاہور میںTLPاور فورسز میں تصادم کی اصل کہانی

رینجرز اور پولیس کی جانب سے لاہور میں 18 اپریل کو تحریک لبیک کے دھرنا مظاہرین کے خلاف خونریز آپریشن کا بنیادی مقصد 20 مارچ کے روز اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والے ناموس رسالت مارچ کو روکنا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز کا یہ آپریشن آؤٹ آف کنٹرول ہونے کے بعد ایک خونی تصادم کی شکل اختیار کر گیا جس کے نتیجے میں اب تک چار مظاہرین جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔دوسری جانب لاہور پولیس کا کہنا ہے تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت 12 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جن کو چھڑوانے کے لیے انہوں نے رینجرز کی مدد سے آپریشن کیا لیکن مزاحمت کے نتیجے میں تصادم ہو گیا۔ تاہم پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس دوران ہونے والی ہلاکتیں ان کے ہاتھوں نہیں ہوئیں کیونکہ اسوقت اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت صرف رینجرز کو ہے۔
اتوار کی صبح تحریک لبیک کے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک کے مرکز کے قریب ہوا جہاں علامہ خادم حسین رضوی کا گھر اور مزار دونوں واقع ہیں۔ ان پر تشدد جھڑپوں میں ٹی ایل پی کے کم از کم 4 کارکنان مارے گے جن میں سے دو کی ڈیڈ باڈیز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ٹی ایل پی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنان کو رینجرز اور پولیس والوں کی جانب سے سیدھی گولیاں ماری گئی جبکہ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ تب کی گئی جب فورسز کے جوانوں کو اپنی جانیں خطرے میں دکھائی دیں۔ لیکن پھر بھی مناواں پولیس سٹیشن پر حملہ آور ہجوم کو بھگانے کے لیے صرف ٹانگوں پر گولیاں ماری گئیں۔ اس دوران 15 پولیس اہلکار مظاہرین کے ہاتھوں زخمی بھی ہوئے۔ ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر دھاوا بولا جبکہ لاہور پولیس کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق سمیت پولیس کے 12 مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی مظاہرین نے 12 اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد یرغمال بنا رکھا تھا جبکہ رینجرز کے دو جوان بھی تحریکِ لبیک کے قبضے میں تھے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک پولیس اہلکار کو تب اغوا کیا گیا جب وہ روٹی لینے کے لیے قریبی تندور پر پہنچا جبکہ ڈی ایس پی نواں کوٹ اور دیگر پولیس اہلکاروں کو تھانے پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا۔ اسی دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے رینجرز کے جوان بھی وہاں پہنچ گے لیکن مسلح تصادم کے دوران دو رینجرز اہلکاروں کو مظاہرین نے اغوا کر لیا۔ ادھر ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کا ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زخمی حالت میں کالعدم تحریک لبیک کے کارکنان کے قبضے میں ہیں۔ موصوف بتا رہے ہیں کہ تصادم کے نتیجے میں تحریک لبیک کے کچھ لوگ مارے جا چکے ہیں اور حکومت کو فوری طور پر یہ آپریشن روکنا چاہیے۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے خلاف آپریشن روکنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے قبضے میں نہ صرف 12 پولیس اہلکار ہیں بلکہ پٹرول سے بھرے ہوئے ٹینکرز بھی ہیں جو تاحال ان کے یتیم خانہ مرکز کے قریب کھڑے ہیں۔ اسی پٹرول سے مظاہرین پٹرول بم بنا کر پولیس پر حملے کر رہے ہیں۔ ذیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان ٹینکرز میں 55000 لیٹر پٹرول موجود ہے جس سے بہت ذیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر کپتان حکومت نے پابندی لگانے کے باوجود تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ سعد رضوی کے چھوٹے بھائی کے ساتھ ایجنسیوں کے اعلی حکام نے لمبے مذاکرات کیے اور پھر ان کی ملاقات کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید انکے بڑے بھائی اور تحریک لبیک کے سربراہ سے کروائی گئی۔ تاہم سعد رضوی نے 20 اپریل کی لانگ مارچ کی کال واپس لینے سے صاف انکار کر دیا۔ دوسری جانب 19 اپریل کی صبح وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ تحریکِ لبیک سے پنجاب حکومت کے مذاکرات کے بعد اتوار کو تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والے 12 پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد یتیم خانہ چوک میں موجود لبیک کے دھرنے سے پولیس کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں اور انشاءاللہ جلد اچھا نتیجہ سامنے آئے گا۔
تاہم دوسری جانب تحریک لبیک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے سعد رضوی کو پیغام بھجوایا تھا کہ اگر وہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ جائیں تو ان کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا۔ تاہم سعد رضوی نے اپنے مطالبے کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔ ٹی ایل پی ذرائع کا کہنا ہے کہ ناموس رسالت کے معاملے پر حکومت کے ساتھ سعد رضوی کی جانب سے کسی قسم کے سمجھوتے کا کوئی امکان نہیں ہے خصوصا چار افراد کو شہید کر دیئے جانے کے بعد۔ اسی دوران تحریکِ لبیک پر کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر 19 اپریل کو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے جس کا اعلان 18 اپریل کو رات گئے مفتی منیب الرحمن نے کراچی میں کیا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کئی بڑے شہروں میں تاجر برادری کے علاوہ وکلا تنظیموں نے بھی اس کال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب ٹی ایل پی کے عہدے دار اور رکن شوریٰ و سربراہ مذاکراتی کمیٹی علامہ محمد شفیق امینی نے کہا ہے کہ ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور اعلان جو بھی اور جب بھی ہو گا وہ مرکزی شوریٰ کی طرف سے جاری ہو گا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ سعد رضوی نے 20 اپریل کا لانگ مارچ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات جاری رہیں گے اس وقت تک تحریک لبیک کے چوک یتیم خانہ مرکز میں ہمارا پرامن احتجاج جاری رہے گا۔
اسی دوران کالعدم تحریکِ لبیک کی مرکزی شورٰی کے رہنما علامہ شفیق امینی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں ان کے دو کارکن ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہلاک کارکنان کی تدفین اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک ’فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال نہیں دیا جاتا۔‘ خیال رہے کہ لاہور میں ٹی ایل پی کا احتجاج گذشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ اتوار کو وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی ایل پی نے ملک کی 192 جگہوں کو بند کیا تھا، جن میں سے 191 جگہیں کلیئر کرا لی گئی ہیں اور صرف لاہور میں یتیم خانہ چوک بند ہے جہاں حالات کشیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے کیونکہ وہ ایک کالعدم تنظیم ہے۔ تاہم کچھ ہی گھنٹوں بعد شیخ چلی نے یو ٹر مارا اور پیر کی صبح ایک ویڈیو پیغام میں یہ اعلان کیا کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب لاہور میں جھڑپوں کے بعد راولپنڈی میں بھی پولیس اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر کنٹینر بھی کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ اس وقت جڑواں شہروں کے اندر بھی مختلف مقامات پر پولیس اور رینجرز اہلکار دکھائی دے رہے ہیں. راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد پل کے نیچے مرکزی شاہراہ کے اطراف میں بھی کنٹینرز تاحال رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستے سیل کرنے میں استعمال کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ حکومتِ نے 20 اپریل کو فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دینے والا مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت چند روز قبل پابندی عائد کی تھی جس کے بعد عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ‘میں سب پر واضح کر دوں کہ: ہماری حکومت نے تحریک لبیک کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کارروائی کی۔ عمران نے کہا کہ ان لوگوں نے ریاستی عملداری کو للکارا اور کوچہ و بازار کو فساد سے بھرتے ہوئے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ آور ہوئے۔ لہازا کوئی بھی آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ دوسری جانب تحریک لبیک والوں کا کہنا ہے کہ احتجاج تب شروع ہوا جب سعد رضوی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت نے فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کی بجائے انکے سربراہ کو گرفتار کرلیا اور ٹی ایل پی پر پابندی لگا دی۔ پولیس کی جانب سے سعد رضوی کی گرفتاری کی کوئی فوری وجہ نہیں بتائی گئی تھی تاہم اس اقدام کو تحریک لبیک کی جانب سے 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف ناموس رسالت مارچ کو روکنا کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔ اس دوران سعد رضوی کے خلاف لاہور اور کراچی کے مختلف تھانوں میں اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات کر لیے گے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوری نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔
پھر وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکاتی معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔ اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔ تاہم اس سے پہلے ہی حکومت نے سات رضوی کو گرفتار کرلیا اور تحریک لبیک پر پابندی لگا دی تھی جس کے بعد ملک بھر میں پھیل گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی تحریک لبیک کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام اور کیا تحریک لبیک فرانس کے سفیر کو بے دخل کرنے کا کا مطالبہ واپس لیتی ہے یا حکومت مخالف احتجاج میں تیزی لاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button