لاہور میں خاتون کو ہراساں کرنے کا ایک اور شرمناک واقعہ

مینار پاکستان کے شرمناک واقعہ کے بعد 14 اگست کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں چند موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو چنگ چی رکشے میں بیٹھی دو لڑکیوں کا پیچھا کرتے اور پھر اچانک ایک لڑکے کو چھلانگ مار کر ایک لڑکی کی گال پر بوسہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بھری سڑک پر بڑی بے حیائی سے اپنی "بہن” کا بوسہ لینے کے بعد وہ بے غیرت اپنے جیسے سینکڑوں بے غیرتوں سے داد وصول کرتا ہے اور پھر موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر معروف شخصیات اور صارفین لاہور سے نئی سامنے آنے والی ویڈیو پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مینار پاکستان واقعے پر لڑکی کو قصور وار ٹھہرانے والے رکشہ میں بیٹھی اس گھریلو لڑکی کے ساتھ ہونے والے واقعے کی کیا وضاحت پیش کریں گے۔ انکا کہنا ہے کہ وہاں ایسا کون سا کام ہو رہا تھا کہ بقول عمران خان مردوں کے جذبات بھڑک اٹھے کیونکہ وہ روبوٹ نہیں ہوتے۔
اس معاملہ پر ‏وزیراعظم کے سپیشل اسسٹنٹ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ’ان لرکیوں كا جرم كيا تها، ان كےسر پر تو حجاب بهى تها لہازا شرم كرو درندوں كى وكالت كرنے والو۔‘
طاہر اشرفی کے اس تبصرے پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ کیا وہ بالواسطہ اپنے وزیراعظم کی سرزنش کر رہے ہیں جو مسلسل ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے عورتوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی حمایت کا تاثر ابھرتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب پولیس کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس واقعے کی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کی ہے اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزم کو شناخت کر کے گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔‘
پنجاب پولیس کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کے جواب میں صارف محمد ایاز خان نیازی نے پولیس کے اقدام کے سراہتے ہوئے لکھا کہ ’ویل ڈن پنجاب پولیس ان کو سر عام سخت سزا بھی دی جائے۔‘
آزادی کے دن نوجوانوں کی طرف سے اپنائے جانے والے اس ناروا رویے پر تنقید کی جا رہی ہے اور اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کے لیے تجاویز دی جا رہی ہیں۔
14 اگست کے دن ہونے والے واقعات اس وقت نجی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔ صارفین کی جانب سے خواتین کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
صارف افضل ندیم ڈوگر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’لاہور کی مرکزی شاہراہ پر رکشے میں سوار ایک لڑکی کے ساتھ سرعام ہراسگی، شلوار قمیض میں ملبوس لڑکا رکشہ سوار لڑکی سے دست درازی اور بدسلوکی کر گیا۔ کسی دوسری کارروائی سے بچنے کے لیے دوسری لڑکی نے جوتا نکال لیا۔ کسی نے پیچھا کیا نہ لڑکے کو پکڑنے کی کوشش۔
لاہور میں ہونے والے دوسرے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر ہینڈل امید سحر نے لکھا کہ ’لاہور میں رکشہ والا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ مجرم کوسخت سزا ملنی چاہیے۔ یہ واقعہ ہماری شعوری پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، لیکن اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ تمام مرد ایسے ہیں یا تمام عورتیں غیر محفوظ ہیں۔ بیانات اور خیالات میں توازن رکھیں۔‘’اب یہ کہنا تو فضول ہے کہ یہ ویڈیو شیئر نہ کریں‘
یاد رہے چند دن پہلے سامنے آنے والی ویڈیو میں موجود ملزمان میں سے کچھ کی شناخت کی جا چکی ہے، جبکہ کچھ افراد کی تلاش تا حال جاری ہے۔ تاہم عمرانی ذہنیت رکھنے والے کپتان کے کچھ پیروکار ایسے بھی ہیں جو مسلسل یہی گردان لگائے ہوئے ہیں کہ اس معاملے میں بھی قصور وار لڑکی ہی ہے جو 14 اگست کے روز رش کے باوجود مینار پاکستان ہر ٹک ٹاک بنانے پہنچ گئی۔

Back to top button