کیا افغان طالبان پنج شیر پر قبضہ کر پائیں گے یا نہیں؟

اس وقت افغانستان میں جیت کے جھنڈے گاڑنے والے طالبان کیخلاف مزاحمت کرنے والا واحد صوبہ پنجشیر ہے جہاں فی الحال طالبان قبضہ کرنے میں ناکام ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں افغان طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد پنچشیر پر حملہ کرنے کی صورت میں مزاحمت کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اگر پنچشیر کا محاصرہ کر لیا گیا تو مزاحمت کار زیادہ عرصہ جنگ نہیں لڑ پائیں گے اور انہیں بھی ہتھیار ڈالنے پر جائیں گے۔
یاد رہے کہ دارالحکومت کابل کے شمال میں واقع پنجشیر سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کا مرکز رہا ہے۔ لیجنڈری کمانڈر احمد شاہ مسعود نے وادی پنجشیر کا پہلے سوویت یونین اور بعد میں طالبان کے خلاف دفاع کیا۔ ہندو کش کے پہاڑوں میں گھری ہوئی وادی پنجشیر افغانستان کا واحد حصہ ہے جس پر فی الحال طالبان قبضہ حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ سابق صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد سے ان کے نائب صدر امراللہ صالح اور احمد شاد مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے پنجشیر میں پناہ لی ہوئی ہے جبکہ اپنے حامیوں کو بھی طالبان کے خلاف مزاحمت پر اُکسا رہے ہیں۔
حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے لکھا ہے کہ وہ اپنے والد کے قدموں پر چلتے ہوئے طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں تاہم انہوں نے امریکہ سے مدد مانگی تا کہ ان کے جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیا جائے۔ افغان انٹیلی جنس ادارے ’این ڈی ایس‘ کے سربراہ رہنے والے امراللہ صالح نے دوبارہ کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ ایک چھت کے نیچے بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے خیال میں طالبان کو صوبہ پنجشیر کی جانب سے کسی سنجیدہ نوعیت کے خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال پنچشیر میں بیٹھے طالبان مخالف عناصر کی مزاحمت صرف لفظوں تک ہی محدود ہے کیونکہ طالبان نے پنجشیر میں داخل ہونے کی کوشش ہی نہیں کی۔ طالبان کو صرف پنجشیر میں داخلے پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے، انہیں اندر جانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے وادی کو چاروں طرف سے گھیر لیا تو احمد مسعود چند ماہ سے زیادہ عرصے تک مزاحمت جاری نہیں رکھ سکیں گے کیونکہ فی الحال احمد مسعود کو مضبوط حمایت حاصل نہیں ہے۔
دوسری جانب یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود کے ہمراہ طالبان کے خلاف لڑنے والوں نے مزاحمت کی پوری تیاری کر رکھی تھی، انہوں نے نوجوانوں کی فوج تیار کی ہوئی تھی جبکہ وافر تعداد میں گاڑیاں ، ہیلی کاپٹر اور اسلحہ بھی ان کے پاس موجود تھا۔ اس وقت ایسی صورتحال نہیں لگ رہی اور شاید اسی وجہ سے احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے امریکی انتظامیہ سے طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کے لیےاسلحہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ احمد مسعود اور امراللہ صالح کا شمار طالبان کے بدترین مخالفوں میں ہوتا ہے تاہم دونوں شخصیات کے تجربات ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ احمد مسعود کئی سال برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایران میں جلاوطنی کاٹ چکے ہیں اور محدود سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب امراللہ صالح کئی سال اقتدار میں گزار چکے ہیں اور اشرف غنی کے فرار ہونے کے بعد صدر ہونے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔
لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان دونوں شخصیات میں شروع سے ہی کشیدگی ہے۔ احمد مسعود کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور پنجشیر کے علاوہ کسی اور صوبے میں مضبوط حمایت حاصل نہیں ہے۔ دوسری جانب امر صالح نام کے افغان صدر بنے بیٹھے ہیں لیکن نہ تو ان کے پاس کوئی اختیار ہے اور نہ ہی کوئی عوامی حمایت۔ کابل پر افغان طالبان کے قبضے سے پہلے انٹرویو میں احمد مسعود نے کہا تھا کہ اگر کسی بھی گروہ نے زبردستی کابل پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنے والد کی طرح ان کے خلاف لڑیں گے، لیخن احمد شاہ مسعود کے ساتھی جانتے ہیں کہ فارسی بولنے والے پنجشیریوں کے مفادات کی نمائندگی روایتی طور پر سابق وزیراعظم ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ہی کرتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی کی جانب سے کابل میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں جبکہ احمد شاہ مسعود کے دونوں چھوٹے بھائی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے سیاسی قیادت کے وفد کا حصہ تھے۔ ان حالات میں اس بات کا امکان کم نظر آتا ہے کہ اگر افغان طالبان نے پنجشیر وادی پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کردیا تو ان کے مخالفین زیادہ عرصہ تک مزاحمت کر پائیں گے۔
