کالے میڈیا قانون کے خلاف صحافیوں کا "ایبسلوٹلی ناٹ” کا نعرہ


پاکستان کی تمام بڑی نمائندہ صحافتی تنظیموں نے عمران خان حکومت کی جانب سے میڈیا کو مکمّل طور پر غلام بنانے کی خاطر تیار کیے جانے والا میڈیا اتھارٹی قانون کو ایک کالا قانون قرار دیتے ہوئے ‘ایبسلوٹلی ناٹ’ کا نعرہ بلند کر دیا ہے اور اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا یے کہ فواد چودھری کی وزارت اطلاعات نے وزیراعظم کی خواہش پر ایک پُر فریب چال چلی ہے جو جناح کے پاکستان کو جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے دور میں واپس لیجائے گی لہازا پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے لیے ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سینئیر صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کا مقصد مین اسٹریم اور سوشل میڈیا کی بچی کھچی آزادی بھی سلب کر لینا یے جسکی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ ملک کی تمام بڑی صحافتی اور میڈیا تنظیموں نے اس کالے قانون کو مسترد کر دیا ہے۔ لیکن کپتان حکومت اس قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے لیے تمام اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران قومی اہمیت کے حامل معاملات پر مذاکرات اور بحث و مباحثے کرانے کے معاملے میں صحافیوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لیکن گزشتہ چند سال میڈیا کیلئے بدترین وقت ثابت ہوئے ہیں کیونکہ ان میں بڑھتی پابندیاں اور دھونس دھمکی جیسے واقعات پیش آئے۔ ان سب کے باوجود، ایسا لگتا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے اقدامات ناکافی تھے اور اس کا گلا گھونٹنے کیلئے مزید کچھ کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ملک میں جکڑ بند میڈیا لایا جا سکے جو ملکی قیادت کی آراء ا ور نظریات کو رٹو طوطے کی طرح پیش کرتا رہے۔ اکثریت کیلئے قابل قبول قومی بیانیہ سامنے لانے کیلئے ضروری ہے کہ کھل کر مفصل انداز سے تنقیدی بحث و مباحثہ کرایا جائے۔ توازن برقرار رکھنے کیلئے تنقیدی آراء ضروری ہیں۔ ہماری قومی قیادت کو تشویش ہے کہ ملک میں منفی انٹرنیشنل میڈیا کو فروغ مل رہا ہے خصوصاً افغانستان جیسے معاملات پر۔ اگرچہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مقامی صحافی اور تجزیہ نگار اس منفی کوریج کا توڑ نکالیں لیکن وہ ملک میں صحافت کیلئے کم پابندیوں کا حامل ماحول فراہم کرنے کو تیار نہیں۔
مظہر عباس کے مطابق صرف آزاد میڈیا ہی اختلاف رائے پر مبنی خیالات اور ایسے تجزیہ کار پیش کر سکتا ہے جنہیں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہو۔ اس بات کا اطلاق بھارت پر بھی ہوتا ہے جہاں مودی کی ظالمانہ حکومت نے میڈیا پر بے مثال پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ سچ سامنے لانے کی کوششیں کرنے والے صحافیوں کو دھونس اور دھمکیوں کے ذریعے بد ترین اقدامات سے سیدھا کیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ وہی ’’اچھوت‘‘ صحافی اور مبصرین ہی ہوتے ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر قبولیت حاصل ہے نہ کہ ریاستی بیانیے کو رٹو طوطے کی طرح پڑھنے والوں کو۔ پاکستانی صحافی مقامی اور خارجہ پالیسی کے ایسے معاملات پر عوامی سطح پر قومی مباحثہ کرانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں جو ملک کے مستقبل کیلئے خطرناک ہیں۔ لیکن جب بھی ملک کے دانشور طبقے بشمول میڈیا کے مرکزی دھارے کو سرکاری بیانیے کو چیلنج کرنے کا موقع اور وقت ملا ہے، انہیں اِدھر اُدھر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کو خاموش کرا دیا جاتا ہے یا پھر دھونس دھمکی اور دبائو کے ذریعے میڈیا کے مرکزی دھارے سے علیحدہ کرا دیا جاتا ہے۔
اگرچہ موجودہ قومی قیادت ماضی کے بیانیے پر تنقید میں خوشی محسوس کرتی ہے اور آج کی غلطیوں کیلئے ماضی کی کوتاہ نظری پر مبنی پالیسیوں کو قصور وار سمجھتی ہے لیکن اب بھی وہ موجودہ پالیسیوں کی تشکیل اور قومی بیانیہ تیار کرنے کے معاملے میں کھلی بحث کرانے سے ہچچکا رہی ہے یا پھر کبھی کبھار ڈرتی بھی ہے۔ درحقیقت پی ایم ڈی اے کا کالا قانون اس بچی کچھی آزادی کو بھی صلب کرنے کی کوشش ہے جو قومی مباحثہ کرانے کیلئے باقی رہ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے جیسے پہلے سے ہی یہ سوچ کر طے کر لیا گیا ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کو خاموش کرا دیا جائے اور صرف تابع دار اور فرمانبردار میڈیا کو کام کی اجازت دی جائے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ کیا مین سٹریم میڈیا کو دبانے کیلئے پیمرا کا ایک ادارہ ناکافی تھا جو حکومت اب تمام میڈیا ریگولیٹری اداروں کو ایک ہی چھتری تلے جمع کر کے یہ کام کروانا چاہتی ہے۔
دوسری جانب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مین سٹریم میڈیا کو ایک حد تک کھسی کر لینے کے بعد اب کپتان حکومت کا بنیادی فوکس سوشل میڈیا کو قابو کرنا ہے اور شاید اسی لئے اب پچھلے کچھ عرصے سے ایسے صحافیوں کو جھوٹے کیسز میں گرفتار کیا جا رہا ہے جو کہ اپنے یوٹیوب چینلز چلاتے ہیں۔ نئے میڈیا اتھارٹی قانون میں حکومت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور یوٹیوب چینلز کو وفاقی حکومت سے لائسنس لینے کا پابند بنانا چاہتی ہے۔ اسکے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کی بھی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ مجوزہ کالے قانون کے تحت حکومت اور اداروں پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو نہ صرف جرمانے کئے جا سکیں گے بلکہ انہیں قید میں بھی ڈالا جا سکے گا اور ان کے یوٹیوب چینلز کے لائسنس بھی منسوخ کیے جا سکیں گے۔
تاہم دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی اے کا ایک مقصد میڈیا ورکرز کے حقوق کا تحفظ بھی ہے جس میں ملازمت، تنخواہ اور مراعات کا تحفظ بھی شامل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت صحافی کا سب سے بڑا حق یعنی اظہار کی آزادی ہی چھین لے تو کیا اسکے باقی حقوق کا تحفظ ممکن ہو پائے گا؟ چنانچہ ایک لمبے عرصے بعد پورے ملک کی میڈیا برادری اس معاملے پر متحد ہے اور یک آواز ہو کر کہتی ہے: ایبسلیوٹیلی ناٹ عمران خان صاحب۔

Back to top button