کیا 20 برس میں افغان طالبان واقعی بدل چکے ہیں؟

امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے ساتھ بیس برس طویل جنگ جیتنے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا افغان طالبان واقعی بدل چکے ہیں اور 2001 سے 2021 کے دوران انہوں نے واقعی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے؟
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد جو سب سے پہلی تبدیلی دیکھنے میں آئی وہ یہ تھی کہ طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد پہلی مرتبہ منظر عام پر آ گے۔ اس سے پہلے صحافیوں نے محض آن کی آواز ہی سن رکھی تھی۔ طاکباننترجمان نے نہایت سکون اور اعتماد کے ساتھ خطاب نما پریس کانفرنس کی جسے دنیا کے کئی ٹی وی چینلز پر براہِ راست دکھایا گیا۔ ٹویٹر پر چھائے مبصرین کی اکثریت نے اسے خوش گوار قرار دیتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ افغان طالبان واقعتا بدل چکے ہیں ور وہ 1996ء جیسے متشدد نہیں رہے۔ کہا گیا کہ وہ سلجھ چکے ہیں اور اپنا شرعی نظام ڈنڈے کی بجائے نرم گو تبلیغ ودلائل سے نافذ کریں گے۔
اس حوالے سے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک سرکلز میں متحرک رہنے والے سینئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ سیاست ہمہ وقت لچک کا تقاضہ کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 2021ء کا افغانستان 1996ء سے قطعاَ مختلف ہے۔ طالبان نے اگر اپنے اقتدار کو مستحکم کرنا ہے تو انہیں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے افغانستان سے کئی سمجھوتے کرنا پڑیں گے۔
طالبان کی اولیں ترجیح فی الوقت یہ نظر آرہی ہے کہ نام نہاد عالمی برادری انہیں 1996ء کی طرح متشدد بنیاد پرست شمار نہ کرے۔ سعودی عرب میں کئی برسوں سے جو نظام چل رہا ہے وہ ہرگز ’’جمہوری‘‘ نہیں ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے ’’مہذب‘‘ کہلاتے بے شمار ممالک مگر وہاں کے نظام اور سماجی روایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اس ملک کو اپنا ’’دوست‘‘ سمجھتے ہیں۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ کئی مسائل ہیں۔ یورپی ممالک کی اکثریت مگر دل سے خواہاں ہے کہ وہاں قائم ہوئے ’’اسلامی جمہوری نظام‘‘ کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط برقرار رکھے جائیں۔ افغا طالبان بھی غالباَ ایران جیسا نظام متعارف کروانا چاہیں گے۔ مسلک کی تفریق اگرچہ نمایاں رہے گی۔
نصرت کہتے ہیں کہ ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس سنتے ہوئے مجھے 1979ء کا ایران یاد آتا رہا۔ طویل جلاوطنی کے بعد امام خمینی وطن واپس لوٹے تو براہِ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے قم کے مدرسے میں قائم اپنے حجرے میں چلے گئے۔ یورپ کا پڑھا ہوا بنی صدر نامی شخص وہاں کا صدر ہوا۔ ایران کا شہری متوسط طبقہ ایسے انتظام سے بہت خوش ہوا۔ بتدریج مگر نام نہاد ’’متعدل‘‘ اور ’’بنیاد پرست انتہا پسندوں‘‘ کے مابین شدید چپقلش شروع ہوگئی۔ اس کے انجام پر جو نظام قائم ہوا اس میں حتمی اختیار ’’رہبر‘‘ کہلاتے آیت اللہ کو منتقل ہوگیا۔ یوں اب منتخب صدر اور پارلیمان مذہبی رہ نمائوں پر مبنی ’’نگہبان‘‘ شوریٰ کے ہر اعتبار سے تابع ہیں۔
نصرت کا کہنا یے کہ طالبان نے ابھی حکومت نہیں بنائی ہے۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ دوحہ میں مذاکرات کے ذریعے وہ فی الحال کوئی ایسی ’’عارضی‘‘ حکومت تشکیل دینے کو ترجیح دیں گے جس میں غیر طالبان کو بھی کچھ حصہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کی یہ کوشش بھی ہوگی کہ ان کی بنائی حکومت میں پشتو بولنے والوں کے ساتھ تاجک ،ازبک اور ہزارہ برادری کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ افغان امور کے ’’ماہر‘‘ ہونے کے کئی دعوے دار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ عارضی حکومت کے قیام کے بعد افغان روایت کے مطابق کسی ’’لوئے جرگہ ‘‘ کا اہتمام ہوگا۔ اس کے ذریعے اقتداراختیارکا مستقل بندوبست ڈھونڈا جائے گا۔ شاید اسی خواہش کی وجہ سے ’’امارت اسلامی‘‘ کے امیر ہیبت اللہ اخوند ابھی منظر عام پر نہیں آئے۔ خود کو ’’امیر المومنین‘‘ کہلاتے ہوئے ’’بیعت‘‘ کا تقاضہ نہیں کیا۔ ایسا مگر میری دانست محض مناسب وقت کے انتظار کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ صرف کہتے ہیں کہ ’’افغان امارات اسلامی‘‘ کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے طالبان بہت مہارت سے دنیا کو سمجھنا چاہ رہے ہیں، اگر اس امارات کی بحالی کے امکانات نظر نہیں آئے تو افغانستان میں موجود ’’داعش‘‘ بالآخر اپنی ’’خلافت‘‘ کا اعلان بھی کر سکتی ہے۔ عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔ ابوبکر بغدادی نے خود کو ’’امیر المومنین‘‘ ٹھہرایا۔ داعش اس کے بعد شام کی جانب بھی بڑھنا شروع ہوگئی۔ اس پر قابو پانے کے لئے امریکی افواج کے سریع الحرکت بریگیڈ کو عراق واپس لوٹنا پڑا۔ عراق میں فضائی حملے بھی شروع ہوگئے۔ اپنے حامیوں کے تحفظ کے لئے روس اور امریکہ نے شام پر بمباری بھی شروع کردی۔ لاکھوں کنبے داعش کی وجہ سے شام سے دربدر ہوچکے ہیں۔ لہازا عراق اور شام کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان سفارت کارانہ مہارت سے عالمی برادری کو قائل کرسکتے ہیں کہ ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘کی بحالی ہی افغانستان میں دائمی امن کو یقینی بنا سکتی ہے۔
نصرت جاوید کے مطابق افغان طالبان کے ’’عارضی‘‘ بندوبست کو تسلیم کرنے کے لئے امریکہ اور یورپ تقاضہ کریں گے کہ وہاں موجود ’’القاعدہ‘‘ پر مکمل کنٹرول یقینی بنایا جائے۔ لیکن میرے خیال میں افغانستان میں میڈیا کی آزادی اور خواتین کے حقوق کی بابت طالبان کی دہائی محض فریب اور دھوکہ بازی ہے۔ امریکہ کی ’’جمہوریت‘‘ سے وابستگی کا کم از کم مجھے بخوبی علم ہے۔ میرا بچپن ایوب خان کی آمریت کی نذر ہوا۔ جوانی جنرل ضیاء کے دور میں خرچ ہو گئی۔ اس کے بعد نو برس جنرل مشرف کی چھتری تلے گزرے۔ یہ تینوں ’’دیدہ ور‘‘ امریکہ کے قریب ترین دوست رہے ہیں۔ افغانستان کے حالیہ واقعات کے بعد تو ہم سب کو امریکہ اور یورپ کی ’’جمہوریت‘‘ سے محبت کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے۔
نصرت کے خیال میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد جو بھی عارضی با مستقل بندوبست ہونا ہے عام پاکستانیوں کا درد سر نہیں ہونا چاہیے۔ طالبان جانیں اور ان کا کام۔ لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے شدید دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا ہے اور ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانیں گنوائیں ہیں۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے پاکستان کو کئی فوجی آپریشن بھی کرنا پڑے۔
دہشت گردی کی انتہا کے دنوں میں ہمیں مسلسل بتایا جارہا تھا کہ اس کے اصل ٹھکانے افغانستان میں ہیں اور بھارت افغان کی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر ان کی سرپرستی کررہا ہے۔ ہمارے ہاں دہشت گردی کے کئی واقعات کے منصوبہ ساز بتائے چند نمایاں پاکستانی اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ چنانچہ اب سوال اٹھتا ہے کہ طالبان کی بنائی نئی حکومت انہیں پاکستان کے سپرد کرنے کو تیار ہوگی یا نہیں۔ میں اس سوال کو آنے والے دنوں میں بہت شدت سے اٹھتا ہوا دیکھ رہا ہوں جس سے اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ کیا افغان طالبان واقعی بدل چکے ہیں یا نہیں؟
