لنگور9سال تک ریلوے سگنل کی نوکری کرتا رہا

دنیا میں ایسا بھی لنگور تھا جو بغیر غلطی کئے9سال تک ریلوے سگنل کی نوکری کرتا رہا۔تفصیلات کے مطابق1880کی دہائی میں ایک دن ریلوے سگنل مین  جیمز ایڈون وائیڈ جنوبی افریقا کے ایک مصروف بازار میں موجود تھے جب انہوں نے ایک لنگور کو بیل گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا۔لنگور کی سے متاثر ہوکر جیمز ایڈون نے اس جانور کا نام جیک رکھ کر اپنا اسسٹنٹ بنالیا۔جیمز ایڈون کو روزمرہ کے کاموں کے لیے مدد کی ضرورت تھی کیونکہ ان کی دونوں ٹانگیں ایک حادثے کے باعث کٹ چکی تھیں۔ریلوے اسٹیشن تک جانا ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ جیک کو اپنا اسسٹنٹ بنانے کے بعد اسے جو تربیت دی گئی وہ جیمز ایڈون کو ایک ٹرالی میں اسٹیشن لے کر جانے اور گھر واپس لانے کی تھی۔

 لنگور گھر کے کاموں میں بھی مدد کرتا، جیسے فرش دھونا اور کوڑے کو باہر پھیکنا وغیرہ۔مگر جیک نے جس کام میں سب کو حیران کیا وہ ریلوے سگنل کا انتظام سنبھالنا تھا۔اس زمانے میں جب ٹرینیں ریلوے اسٹیشن پر پہنچتی تھیں تو عملے کی جانب سے مخصوص تعداد میں سیٹی بجا کر سگنل مین کو ٹریک بدلنے کا اشارہ دیا جاتا تھا۔اپنے مالک کو یہ کام کرتے دیکھ کر جیک نے اسے سیکھ لیا اور ٹریک بدلنے والے لیورز کو استعمال کرنے لگا۔بہت جلد جیمز ایڈون نے اپنا سارا کام جیک کے حوالے کر دیا اور خود ایک جگہ بیٹھ کر آرام کرنے لگے۔انہوں نے جیک کی تربیت اتنے اچھے انداز سے کی کہ وہ سارا وقت اپنے کیبن میں بیٹھ کر مختلف کام کرتے رہتے جبکہ لنگور تمام ٹرینوں کو ان کی منزل کی جانب روانہ کرنے کا کام کرتا۔ایک دن ٹرین میں سفر کرنے والے ایک امیر فرد نے کھڑکی سے ایک لنگور کو سگنل مین کا کام کرتے دیکھا تو ریلوے انتظامہ کو شکایت کر دی۔

 شکایت پر جیمز ایڈون کو فارغ کرنے کی بجائے ریلوے انتظامیہ نے لنگور کی صلاحیتوں کی آزمائش کا فیصلہ کیا اور وہ اس کا کام دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ایک عہدیدار جارج بی ہوئی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ‘جیک وسل کے اشارے سے اتنی اچھی طرح واقف تھا جتنا میں اس بارے میں جانتا تھا، جبکہ وہ ہر لیور کے بارے میں بھی جانتا تھا، اپنے مالک کے لیے اس کی وفاداری دل کو چھو لینے والی تھی’۔جیک کی صلاحیت کو دیکھ کر اسے ریلوے انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ ایمپلائمنٹ نمبر بھی دیا گیا جبکہ روزانہ 20 سینٹس کا معاوضہ بھی دیا جاتا۔لنگور 1890میں چل بسا۔

Back to top button