لچر زبان نعیم بخاری PTV کا چیئرمین بن کر کیا گل کھلائے گا؟

وزیر اعظم کی جانب سے پی ٹی وی کے چیئرمین تعینات کیے جانے والے معروف وکیل نعیم بخاری کی ماضی کی لچر اور واہیات گفتگو کے مختلف کلپس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں اور صارفین کی طرف سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اس قماش کا شخص سرکاری ٹیلی ویژن پر کس طرح کا کلچر فروغ دے گا؟
ایک وقت تھا کہ اپنی سلجھی ہوئی بات چیت کے باعث نعیم بخاری ناصرف مردوں بلکہ عورتوں میں بھی یکساں مقبول تھے مگر پھر انھوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے یوتھیوں والی اوئے توئے کی زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ کپتان تو ایسی گفتگو پر خوش ہوتا ہے تو انھوں نے ریس پر پاؤں رکھ دیا اور شاہ سے ذیادہ شاہ کے وفادار بنتے ہوئے تمام حدیں کراس کرتے ہوئے خواتین سے متعلق ایسے جملے کسنے شروع کر دیے جنھیں سخت ناپسندیدگی کی نظروں سے دیکھا گیا۔ تاہم انہیں اس عمل پر حکومتی حلقے قابل ستائش نظروں سے دیکھتے ہیں کیوں کہ اس جماعت کا کلچر ہی کچھ لچر ٹائپ کا ہے۔
تحریک انصاف سے وابستہ نعیم بخاری کو حال ہی میں تین سال کے لیے پاکستان ٹیلیویژن کارپوریشن کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔نعیم بخاری کا شمار پاکستان ٹیلیویژن کے 1990 کی دہائی کے مقبول ترین میزبانوں میں کیا جاتا ہے، ان کے مداح زندگی کے ہر شعبے اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں خواتین بھی شامل رہی ہیں۔تین سال قبل آج نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بعض خواتین کو اس وقت رنجیدہ کیا جب انھوں نے کہا کہ وہ ’دو کلومیٹر دور سے عورت کا کردار پہچان لیتے ہیں۔‘ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے میزبان کو بتایا کہ ان کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا انھوں نے ریسٹور لگوایا ہے اس لیے وہ دو کلومیٹر سے خاتون کا کردار پہچان لیتے ہیں۔ انھوں نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’اس عمر میں بس نظر ہی تیز ہوتی ہے۔‘
نعیم بخاری کے اس جملے نے کافی لوگوں بالخصوص خواتین کو رنج پہنچایا اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی اور معذرت کرنے کے مطالبات ہوئے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ تنقید کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے اس معاملے کو مزاح میں ہی ٹال دیا اور کہا کہ لوگ مزاح کی حس گنوا چکے ہیں۔ بقول ان کے ’خود پر بھی ہنسنا چاہیے۔‘ انھوں نے وضاحت پیش کی کہ ان کی دونوں آنکھوں میں بیک وقت موتیا نکل آیا تھا وہ ڈاکٹر کے پاس گئے اس نے لینز لگایا، انھوں نے ڈاکٹر سے پوچھا کتنا دور دیکھا جا سکتا ہے، اس نے کہا تاحد نظر، ’تو میں نے پوچھا کیا کردار بھی بتا سکتا ہے۔ تو ڈاکٹر ہنسنے لگا کہ اگر آپ کے ذہن میں شرارت ہو تو یہ کردار بھی بتائے گا۔۔۔ میں نے تو مذاق کیا تھا لوگ خود پر ہنستے کیوں نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ نعیم بخاری سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں تحریک انصاف کی جانب سے وکیل بھی رہے اور وہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز پر اپنی لچر طبعیت کے عین مطابق سیاسی و ذاتی نوعیت کے حملے بھی کرتے رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے مریم نواز کو’باربی ڈول‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک مکمل طور پر ’مصنوعی شخصیت‘ ہیں۔‘ انھوں نے مریم نواز کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’آپ کون ہیں؟ ہمیں آپ کی فوٹو یاد ہے جب آپ کی شادی ہوئی تھی، کیا مجھے نہیں پتا کہ آپ نے اپنی نئی شکل بنائی ہے، جھریاں نکال نکال کر۔۔۔‘
بعض اوقات ٹی وی چینلز پر وہ چہرہ بنا کر مزاحیہ انداز میں مریم نواز کی نقل اتارتے ہوئے نظر آتے تھے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی نعیم بخاری کی تنقید سے بچ نہیں سکے اور اس تنقید کی وجہ بھی خواتین تھیں۔ کچھ سال قبل جسٹس ثاقب نثار کی پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کے ساتھ ایک تصویر سامنے آئی تھی۔ یہ تصویر اس وقت لی گئی تھی جب وہ کراچی سے لاہور سفر کر رہے تھے۔ نعیم بخاری نے کمرہ عدالت میں کہا کہ ’مجھے آپ کی اس تصویر پر اعتراض ہے جو آپ نے کلے کلے بنوا۔لی۔‘ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ حسد کر رہے ہیں۔‘ نعیم بخاری نے جواب دیا ’یہ وکلا کا حق مارنے والی بات ہو گئی۔‘چیف جسٹس ثاقب نثار نے انھیں کہا کہ ’بعض اوقات بیٹیوں کو انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘ نعیم بخاری نے یہ سننے کے بعد شرمندہ ہو کر چیف جسٹس ثاقب نثار سے معذرت کی تھی اور ساتھ میں اپنے ان جملوں پر بھی معذرت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’مقدمہ وکیل نہیں مدعی ہارتا ہے۔‘ لیکن ان متنازع بیانات اور واقعات کے باجود تحریک انصاف اور ان کے پرستاروں میں ان کی مقبولیت کچھ کم نہیں ہوئی۔
نعیم بخاری اپنے کیریئر میں ان بیانات کے علاوہ بھی خبروں میں رہے ہیں۔ مشرف کے ہاتھوں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی سے قبل انھوں نے ایجنسیوں کے ایما پر انھیں ایک کھلا خط تحریر کیا تھا جس میں ان پر اختیارات سے تجاوز کرنے اور ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر غیر قانونی مالی فوائد حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔افتخار محمد چوہدری کے خلاف بعد میں ریفرنس دائر ہوا اور انھیں معزول کیا گیا۔ وکلا کمیونٹی ان کے خط کو ریفرنس کے لیے جواز فراہم کرنا اور مشرف۔کو خوش کرنا قرار دیتی تھی۔
نعیم بخاری کی اسی طرح کی اوچھی حرکتوں کی وجہ سے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران وہ راولپنڈی میں ایک عدالت میں وکلا کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بھی بنے۔ اس سے قبل پنجاب بار نے ان کی رکنیت معطل کر دی تھی۔
نعیم بخاری کی پیدائش لاہور کے سید گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد الطاف حسین بخاری ڈاکٹر تھے۔ ان سے پہلے اس گھرانے کی وجۂ شہرت ان کے بڑے بھائی نسیم الطاف بخاری رہے جو مشہور کرکٹر تھے۔نعیم بخاری نے اداکارہ ریما کو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں لیکن وہ نہیں بنے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ فوج میں جائیں لیکن فوج نے انھیں مسترد کر دیا تھا۔’بی اے کیا تو والد کا خیال تھا کہ ماسٹرز کر کے سی ایس ایس کا امتحان دوں۔‘ مگر انھوں نے وہ بھی نہیں کیا۔’جب میں نے قانون کی تعلیم مکمل کر لی اور میری وکالت نہیں چلی تو میں نے سوچا میں ایکٹر بن جاؤں اور میں چھ مہینے ایور نیو سٹوڈیو کے گیٹ پر کھڑا رہا جب تک میں ایس ایم ظفر کے ساتھ نہیں لگا۔ میں مسلسل والد کو مایوس کرتا رہا۔‘
جب پاکستان کی کلاسیکل گلوکارہ ملکہ پکھراج کی چھوٹی بیٹی اور گلوکارہ طاہرہ سید سے نعیم بخاری کی شادی ہوئی تو دونوں ایس ایم طفر کے پاس پریکٹس کرتے تھے۔ علم و ادب اور خوش شکل و خوش مزاج یہ جوڑی اپنے وقت کی مثالی جوڑیوں میں شمار ہوتی تھی۔ طاہرہ سید نے ثمینہ پیرزادہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ منوج کمار، محمد علی ان کے پسندیدہ اداکار رہے جن سے بچپن سے عشق تھا۔ نعیم بخاری کی حسن و جمال اور مزاح کی حس نے انھیں متاثر کیا، لیکن یہ رشتہ 12 سال ہی برقرار رہ سکا۔ دو بچوں کی پرورش انھوں نے طاہرہ کے حوالے کر کے راہیں جدا کر لیں۔
نعیم بخاری کہتے ہیں کہ جب انھوں نے طاہرہ بی بی سے شادی کی تو اس وقت وہ اپنے پروفیشن کے دور کی جدوجہد میں تھے۔ ان کی پیسے بنانے اور آگے بڑھنے کی بڑی خواہش تھی۔ وہ ایک ’فاسٹ لائن‘ میں تھے تاکہ جو چیزیں زندگی میں نہیں ملیں تھیں وہ حاصل کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ طاہرہ 1970 میں سٹار ہو چکی تھیں اور ان کی شادی 1977میں ہوئی۔ جب ان کی بیٹی ’کرن پیدا ہوئی تو انھیں معلوم نہیں کہ وہ کب بڑی ہوئی یعنی اتنی خواہش تھی پیسے کمانے کی آگے بڑھنے کی۔‘
طاہرہ سید سے طلاق کے آٹھ سال کے بعد نعیم بخاری نے دوسری شادی کر لی اور انھیں وہ ہمیشہ دلہن بیگم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ نعیم بخاری نے 1980 کی دہائی سے پی ٹی وی سے رشتہ جوڑا اور وہ اپنے انداز سے مختلف شخصیات کے انٹرویوز کرتے تھے۔ وہ اس کے علاوہ جہاں نما، یادش بخیر، چہرے، سٹوڈیو ٹو، ملاقات، گیسٹ آور، بلاتکلف سے لے کر انتخابی ٹرانسمیشن میں بھی میزبان رہے۔ پاکستان میں نجی نیوز چینلز کی آمد کے بعد وہ جیو ٹی وی، ڈان نیوز، ہم نیوز اور اے ٹی وی پر سیاسی مزاح اور شخصیات کے انٹرویوز کے پروگرامز کے میزبان رہے ہیں۔ ان کے انداز اور اسلوب دونوں کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر آنے سے ان کی ’وکالت پر منفی اثر پڑے کیونکہ لوگ ٹی وی کو سنجیدہ نہیں لیتے اور کہتے تھے کہ یہ تو ’ٹی وی والا وکیل ہے۔‘ لوگ سمجھتے ہیں ٹی وی پر آنے سے فوری کیس آ جاتے ہیں یہ درست نہیں ہے اس سے صرف یہ فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کی شناخت ہو جاتی ہے، لوگ آپ کو پہچان لیتے ہیں۔‘
نعیم بخاری نے 2016 میں تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے میں وہ ’فُٹ سولجر‘ تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے اپنی جماعت بنائی تو میں ان لوگوں میں شامل تھا جس سے انھوں نے مشورہ کیا۔ میں نے انھیں منع کیا تھا کہ یہ نہ کریں خود کو فلاح اور تعلیم کے فروغ تک محدود رکھیں۔ آپ میں وہ جراثیم ہیں کہ آپ ایدھی سے بڑے خدمت گار بن سکتے ہیں۔ لیکن اس کا جواب تھا کہ تم اور میں ٹائی ٹینیک کے فرسٹ کلاس میں بیٹھے ہیں لیکن یہ ٹائی ٹینیک ڈوب رہا ہے جب یہ ڈوبے گا تو ہم بھی ڈوب جائیں گے۔‘
نعیم بخاری کو موجودہ حکومت نے پہلے قومی احستاب بیورو کی قانونی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا، پھر ستارہ امتیاز سے نوازا اور اب پی ٹی وی کا چیئرمین بنا دیا ہے۔ انھوں نے نیا عہفہ سنبھال کر اعلان کیا ہے کہ اپوزیشن کو پی ٹی وی پر وقت نہیں ملے گا کیونکہ یہ سرکاری ٹی وی ہے، جو حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔
نعیم بخاری کی جانب سے اپوزیشن کو سرکاری چینل سے ’بلیک آؤٹ‘ کرنے کے بیان پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافیوں اور سیاست دانوں کا شدید رد عمل سامنے آیا ہے جس میں نعیم بخاری کو باور کرایا گیا ہے کہ ’پی ٹی وی عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے، نہ کے کسی جماعت کے پیسوں سے۔‘ اس بارے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کہتے ہیں کہ 1960 کی دہائی میں اپنے قیام سے لے کر اب تک پی ٹی وی کو قومی چینل بن جانا چاہیے تھا لیکن اس کو ہر حکمران نے اپنا ماؤتھ پیس بنائے رکھا۔ لیکن اب باقاعدہ طور پر پہلی بار ایک چیئرمین نے باقاعدہ سچ بولا ہے کہ پی ٹی وی سرکاری ترجمان کا۔کردار ہی ادا کرے گا۔‘
