اسرائیل نواز مہم چلانے پر کامران خان اور مبشر لقمان کی چھترول


پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے دو لفافہ صحافی کامران خان اور مبشر لقمان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت کرنے پر سوشل میڈیا صارفین ان دونوں صحافیوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پاکستانی شہریت چھوڑ کر اسرائیل کا رخ کریں۔ دوسری جانب مختلف ٹی وی چینلز پر حالیہ دنوں میں کچھ ریٹائرڈ فوجی حضرات نے بھی دفاعی تجزیہ کاری کرتے ہوئے کامران خان اور مبشر لقمان والا اسرائیل نواز موقف اپنایا ہے لہذا اس تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے کہ حکومتی حلقوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر کچھ نہ کچھ چل رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور وزارت خارجہ دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تب تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا، اس کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ بحث تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ دراصل عوام کے ذہنوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ یوٹرن لینے کو عظیم لیڈروں کی نشانی قرار دینے والا کپتان مستقبل میں وسیع تر قومی مفاد کا بہانہ بنا کر اس معاملے پر بھی یوٹرن لے سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے ماوتھ پیس سمجھے جانے والے نام نہاد اینکر پرسنز کامران خان اور مبشر لقمان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے حق میں باقاعدہ میڈیا کیپین شروع کرنے کے پیچھے بھی دراصل کپتان حکومت اور اس کی اتحادی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے، جو اسرائیل کے حوالے سے عوامی جذبات نرم کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کر رہی ہے۔
حال ہی میں اینکر مبشر لقمان کی اسرائیلی ٹی وی پر حاضری نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ حکومتی حلقوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر کچھ نہ کچھ چل رہا ہے۔ ٹوئٹر پر اس بحث کا آغاز تب ہوا جب 12 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ ان پر دباؤ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ وزیراعظم کے انٹرویو کے بعد اینکر مبشر لقمان نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو 17 نومبر کو انٹرویو دیا جس میں پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات پر بات ہوئی۔
مبشر لقمان کے بعد 23 نومبر کو صحافی کامران خان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان کو اپنی اسرائیل پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔کامران خان کی ٹویٹ کی تائید صحافی غریدہ فاروقی نے کی۔اس سب کے بعد سے پاکستان کا ٹوئٹر کا بازار گرم ہوا اور بیشتر افراد اسرائیل کو نہ تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔ ٹوئٹر پر #PakistanReject_Israel اور #MubashirLuqman ٹرینڈ کر رہے ہیں جبکہ #PakistanReject_Israel ٹرینڈ سے پچاس ہزار سے زائد ٹویٹس ہو چکی ہیں۔
ایک ٹوئٹر صارف شیراز نے پاکستانی پاسپورٹ کا عکس شیئر کیا جس میں لکھا ہے اور یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے شیراز نے اس عبارت کو حوالہ بناتے ہوئے لکھا کہ بحث یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ایک اور صارف خرم سلیم نے لکھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بانی قائداعظم کے اسرائیل اور فلسطین مسئلے پر موقف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔‘ انہوں نے سوال کیا کہ کیسے ہم اسرائیلیوں کی فلسطینیوں پر بربریت کو محض اپنے مفادات کے لیے نظر انداز کر سکتے ہیں؟
انٹیلی جنس بیورو کے ایک سابق افسر عامر مغل نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے تواتر سے ٹویٹس شیئر کی ہیں جن میں اسرائیل کے خلاف تنقیدی مواد ہے۔ صحافی ملک محمد وقاص نے کامران خان کی ایک ٹویٹ کے جواب میں لکھا، کوشش کریں آپ بھی ویزا لے لیں اور اسرئیل چلے جائیں تم جیسوں کی جگہ وہاں ہے، بیت المقدس سب کا پہلا قبلہ ہے اور جب تک وہ آزاد نہیں ہوتا تب تک انشا اللّه ایسا نہیں ہو گا۔
اس کے برعکس ٹوئٹر پر اس معاملے میں کچھ افراد حقیقت پسندی کا پرچار کرتے نظر آئے۔تجزیہ کار حسان خاور نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم صرف اپنے قومی مفاد کو دیکھ کر کرنا چاہیے اور اگر ایسا ہونا ہے تو اس سے پہلے اندرون ملک بیانیہ بدلنے کے لیے بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہارون اسلم نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ہم ایک اہم ملک ہیں۔ ہمیں اپنے فیصلے خود لینے چاہییں اور ہم لیں گے اور کسی کر دباؤ میں آ کر نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کپتان حکومت کا ماوتھ پیس اور ایجنسیوں کے گماشتے سمجھے جانے والے کامران خان اور مبشر لقمان جیسے ساکھ کے شدید بحران سے دوچار نام نہاد ٹی وی اینکرز کی جانب سے اپنے پروگرامز میں اسرائیل کو تسلیم کرلینے کے حق میں باقاعدہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کی بھرپور کوششوں سے بھی لگتا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ حکومت کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ ممکنہ طور پر کپتان حکومت نے وسیع تر قومی مفاد کو بہانہ بناتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور محض اس حساس معاملے میں عوامی جذبات کا اندازہ لگانے کے لئے اپنے ہمدرد اینکرز کو اس حوالے سے کیپمین کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین جس طرح ان اینکرز کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اس سے حکومت کو عوامی جذبات کا بخوبی پتہ چل گیا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button