نواز شریف کو میڈیا کوریج دلوانے کے لیے خواتین صحافی پرعزم


سوشل میڈیا پر حکومت کے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آنے کے بعد پیمرا کی ٹی وی چینلز پر اشتہاری سیاستدانوں کے انٹرویوز اور تقاریر نشر کرنے پر عائد پابندی کے خلاف دائر کیس سے 4 صحافیوں نے اپنے نام نکوالئے ہیں تاہم 2 خواتین صحافیوں غریدہ فاروقی اور مہمل سرفراز نے اب بھی کیس کی پیروی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کی جانب سے تمام ٹی وی چیننلز کو اشتہاریوں اور مفرور مجرمان کے انٹرویوز اور تقاریر نشر نہ کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواست سے اپنے نام واپس لینے والے 6 میں 2 خواتین صحافیوں غریدہ فاروقی اور مہمل سرفرا نے اب پٹیشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند روز قبل جب یہ پٹیشن دائر کی گئی تو سوشل میڈیا پر پٹیشنرز کے خلاف ایک محاذ کھڑا کردیا گیا جس کے باعث یکے بعد دیگرے چار صحافی اس مشن سے پیچھ ہٹ گئے تاہم دو خواتین صحافی اب بھی اس پٹیشن کی پیروی کے لئے پرعزم ہیں۔
حالیہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایبسکونڈر رائٹس کے عنوان سے صحافتی تنظیموں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے پٹیشن دائر ہونے کے بعد بہت سےسوالات اٹھائے اور ان افراد کو غدار وطن، سرٹیفائیڈ لفافے، ن لیگی چمچے اور میر جعفر جیسے القابات دیئے گئے۔ اس پٹیشن سے نام واپس لینے والوں میں پہلا نام اینکر پرسن نسیم زہرہ کا تھا انہوں نے اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ درست نہیں لگا کہ ایک فرد واحد یعنی سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے کیوں پیٹشن فائل ہو، ہماری بات چیت تو میڈیا کے لیے تھی جس کو ہٹا کر ایک فرد واحد کے لیے کردیا گیا جس کا براہ راست فائدہ فرد واحد کو پہنچ رہا تھا۔ واضح رہے کہ پی ڈی ایم جلسے میں نواز شریف کی قومی اداروں کے خلاف جارحانہ تقریر کے بعد پیمرا کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی تقریر کو میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کو عدالت مفرور قرار دے چکی ہے کیونکہ وہ عدالتی کاروائیوں کا سامنا نہیں کر رہے ۔
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے کی جانب سے دیا گیا حکم ‘غیر آئینی تھا اور معلومات کے پھیلاؤ کے سلسلے میں پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر غیر قانونی ممانعت لگائی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ممانعت اپنے حق کے لحاظ سے آئینی طور پر غلط اور آئین کی دفعہ 19 اے کے تحت دیے گئے حقوق کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ درخواست کے مطابق یہ پٹیشنرز اور عمومی طور پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا حق ہے کہ کسی بھی شخص بشمول مجرم اور اشتہاری کا نقطہ نظر اور الفاظ ظاہر، شائع اور نشر کریں۔ پٹیشن میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا کسی مجرم اشتہاری آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سمیت اظہار رائے کے حق سے محروم ہوجاتا ہے؟
یاد رہے کہ اکتوبر میں اپوزیشن کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی تقریر براہ راست نشر ہونے کے بعد پیمرا نے مذکورہ بالا ہدایات جاری کی تھیں۔چنانچہ انسانی حقوق کمیشن اور 16 صحافیوں، اینکر پرسنز اور میڈیا تجزیہ کاروں نے پیمرا کے حکم کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست گزاروں میں آئی اے رحمٰن، محمد ضیاالدین، سلیم صافی، زاہد حسین، عاصمہ شیرازی، سید اعجاز حیدر، منیزے جہانگیر، غازی صلاح الدین، زبیدہ مصطفیٰ، نجم سیٹھی، نسیم زہرہ، امبر رحیم شمسی، غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز اور منصور علی خان شامل ہیں۔ان کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے نائب صدر عابد ساقی اور ایچ آر سی پی کی سلیمہ ہاشی بھی درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں۔
درخواست میں پیمرا کے یکم اکتوبر کے حکم اور 25 مئی 2019 کو دی گئی ہدایات کو چیلنج کیا گیا ہےجس میں مذکورہ بالا نشریات کے علاوہ پیمرا نے ذیلی عدالتی امور کے ممکنہ نتائج پر بحث کو نشر کرنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ایک روز قبل ایڈووکیٹ غلام شبیر نے غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز، زاہد حسین، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی اور سلیم صافی کی جانب سے پٹیشن سے اپنا نام خارج کروانے کی6 درخواستیں دائر کی تھیں تاہم وکیل نے عدالت کو بتایا کہ غریدہ فاروقی اور مہمل سرفراز پٹیشن واپس لینا نہیں چاہتیں چنانچہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے غریدہ فاروقی اور مہمل سرفراز کی واپس لی گئی درخواست کو خارج کردیا۔ تاہم چیف جسٹس نے پٹیشن سے 4 صحافیوں، سلیم صافی، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی اور زاہد حسین کے نام خارج کردیئے ہیں۔
یاد رہے کہ پٹیشن کی پہلی سماعت پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نوازشریف کو کسی قسم کا ریلیف دینے سے واضح انکار کیا تھا تاہم پٹیشنرز کا موقف ہے کہ معاملہ صرف نواز شریف کا نہیں بلکہ اشتہاری مجرم اور مفرور قرار پانے والے تمام افراد ہے جنہیں کسی صورت بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button