نواز شریف کی والدہ بھی بیٹے کے بیانیے کی قائل تھیں


واقفان حال کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی والدہ کے مشورے پر ہی چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوایا تھا تاہم حال ہی میں پانامہ کیسز میں سزا پانے کے بعد جب والدہ نے بیٹے کو اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرکے جان چھڑوانے کا مشورہ دیا توغالباً نواز شریف نے پہلی بار ماں کی حکم عدولی کی اور دلائل کے ذریعے ماں کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا تھا۔
22 نومبر کو اتوار کے روز لندن میں انتقال کرجانے والی 90 سالہ بیگم شمیم شریف کو بچے بڑے سب پیار سے آپی جی کہہ کر پکارتے تھے۔ اگرچہ پاکستانی عوام ان کے بارے میں بہت ہی کم معلومات رکھتے ہیں تاہم یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ وہ پاکستان کے ایک انتہائی بااثرگھرانے میں فیصلہ کن اہمیت کی حامل تھیں۔ وہ بظاہر ایک عام سی گھریلو خاتون تھیں لیکن قسمت کی دیوی ان پر ہمیشہ مہربان تھی۔
بیگم شمیم اختر ایک ارب پتی بزنس مین کی اہلیہ تھیں، ان کا ایک بیٹا تین مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم جبکہ دوسرا بیٹا ملک کے سب سے بڑے صوبے کا تین بار وزیر اعلیٰ منتخب ہوا۔ شریف فیملی کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ بیگم شمیم اختر کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اچھے اور برے دن باوقار طریقے سے گزارے۔ اقتدار چل کر ان کے گھر آیا لیکن وہ کبھی متکبر نہ ہوئیں اور پھر جب اس کے بچوں کو قید و بند اور جلا وطنی کی صعوبتیں اٹھانا پڑیں تو بھی انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ لوگ جن کو کئی عشروں تک شریف فیملی کا قرب میسر رہا، ان کا کہن اہے کہ نواز شریف کا اپنی والدہ کے ساتھ عقیدت کا تعلق بہت گہرا تھا۔ نواز شریف گھر سے جانے اور گھر آنے پر سب سے پہلے اپنی والدہ کے پاس حاضر ہوتے اور ان سے پیار لیتے۔ ایک دفعہ بیگم شمیم اختر چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں، تب نواز شریف تب وزیر اعظم تھے۔ وہ سوموار کی صبح اسلام آباد روانگی سے قبل ان کے کمرے میں آئے اور ان کے پاؤں کے تلوے کو عقیدت سے چوما۔ اس پر ان کی والدہ خفا ہوئیں کہ میں نے تمہیں کئی مرتبہ کہا ہے کہ ایسے نہ کیا کرو تو اس پر نواز شریف کہنے لگے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے، اس لیے آپ مجھے اس سعادت سے محروم نہ کریں۔ نواز شریف اگرچہ وزیراعظم تھے لیکن بیگم شمیم اختر بہرحال ماں تھیں اور غالبا بیگم شمیم اختر وہ واحد خاتون تھیں، جو نواز شریف کو وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ڈانٹ سکتی تھی۔ انہوں نے کئی مرتبہ نواز شریف حکومت کوبعض ایسے کاموں سے روکا، جو ان کے نزدیک پسندیدہ نہیں تھے اور وہ ان کے خیال میں عوامی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما سینٹر رانا مقبول کا کہنا ہے کہ بیگم شمیم اختر ایک مشرقی پس منظر کی حامل سادہ اور دین دار خاتون تھیں۔ وہ اپنے گھر تک محدود تھیں اور زیادہ وقت عبادات میں مشغول رہتیں۔ رانا مقبول کے مطابق جب ہم طیارہ سازش کیس میں لانڈھی جیل میں قید تھے تو ان دنوں نواز شریف کی اپنی والدہ سے ہونے والی گفتگو سے ہمیں باہر کے حالات سے آگاہی ہوتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ کچھ یوں ہوا کہ وہ اچانک غائب سی ہو گئیں اور ان کا ذکر کئی ہفتے تک نہ ہوا تو پتہ کرانے پر معلوم ہوا کہ وہ خاموشی کے ساتھ عمرے پر چلی گئی ہیں۔ واپسی پر جب وہ ہمیں ملیں تو بہت مطمئن تھیں۔ ان کو دعاؤں کی قبولیت پر بہت یقین تھا۔ نواز شریف کو دیکھتے ہی اپنے روایتی پنجابی لہجے میں بولیں فکر نہ کر، سب کج ٹھیک ہو جانا اے۔ یعنی بیٹا تم فکرمند نہ ہونا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ سینیٹر رانا مقبول احمد بتاتے ہیں کہ بیگم شمیم کے بیٹے اور بہوئیں ان کے ذاتی کاموں حتیٰ کہ انہیں جرابیں پہننانے سے لیکر ان بستر کی چادریں تبدیل کرنے تک ملازمین کی بجائے یہ کام خود کرتے تھے۔
بیگم شمیم اختر کچھ عرصے سے وہیل چیئر پر تھیں اور نواز شریف اکثر گھر میں خود ان کو لے کر آتے جاتے۔ پہلے وہ گول کوٹھی کے نام سے جانے جانی والی میاں محمد شریف کی رہائش گاہ میں مقیم تھیں لیکن میاں محمد شریف کی وفات کے بعد نواز شریف ان کو اپنے گھر لے آئے تھے۔ نوازشریف اپنی والدہ کے مشورے کو حکم کا درجہ دیتے تھے۔ جب گذشتہ برس گھر والوں کے اصرار کے باوجود نواز شریف علاج کے لیے لندن جانے پر راضی نہ ہوئے تو انہیں ان کی والدہ سے کہلوا کر باہر جانے پر راضی کیا گیا۔ شریف فیملی کے ایک قریبی رشتے دار کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ بیگم شمیم اختر مکمل طور پر گھریلو اور ایک غیر سیاسی خاتون تھیں لیکن شہباز شریف کو وزیراعلی بنانے کی خواہش کا اظہارانہوں نے کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف کی خواہش پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے بھی نواز شریف کو قائل کرنے کی خاطر ان کی والدہ سے کہلوایا گیا تھا لیکن غالبا یہ واحد موقعہ تھا جب نواز شریف نے والدہ کی بات ماننے کی بجائے انہیں محبت کے ساتھ اپنے موقف پر قائل کر لیا تھا۔
کہتے ہیں کہ ایک بار میاں شریف عمرے پر جانے سے قبل زرعی زمینوں کے حوالے سے اپنے بیٹے وزیراعظم نواز شریف کو بعض ذمہ داریاں سونپ کر گئے جب وہ واپس آئے تو معلوم ہوا کہ وزیراعظم نواز شریف اپنی مصروفیات کی وجہ سے بھول گئے۔ میاں محمد شریف واپس آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی ہدایات پر عمل نہیں ہو سکا ہے، اس پر انہوں نے جاتی عمرہ کے مین گیٹ پر کہلوا دیا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو گھر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی شام وزیر اعظم نواز شریف اپنی پروٹوکول کی گاڑیوں کے ہمراہ جب جاتی عمرہ پہنچے تو انہیں سکیورٹی پر مامور عملے نے میاں محمد شریف کے احکامات سے آگاہ کیا۔ اس پر نواز شریف نے پروٹوکول کی گاڑیوں کو واپس بھجوا دیا، خود شریف میڈیکل کمپلیکس کی مسجد میں چلے گئے۔ کئی گھنٹوں بعد رات کو بیگم شمیم اختر کی سفارش پر انہیں معافی ملی اور پھر وہ گھر آ سکے۔
میاں شریف کی وفات کے بعد میاں نواز شریف اپنی والدہ کا اور بھی زیادہ خیال رکھنا شروع ہو گئے تھے۔ وہ ان کے ڈاکٹروں کے ساتھ خود رابطے میں رہتے اور زیادہ تر اپنی والدہ کے ساتھ کھانا کھاتے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر طویل عرصے سے علیل تھیں لیکن ڈاکٹروں کی طرف سے سفر کرنے سے منع کرنے کے باوجود وہ فروری میں اپنے بیٹے نواز شریف کے پاس لندن چلی گئی تھیں۔ بیگم شمیم اختر کی عمر تقریبا 90 سال تھی۔ میاں محمد شریف کے انتقال کے بعد ان کی طبیعت تیزی سے بگڑنا شروع ہوئی۔ وہ کلثوم نواز کی رحلت اور بعد ازاں نواز شریف اور شہباز شریف کی گرفتاریوں کے حوالے سے بھی پریشانی کا اظہار کرتی رہتی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button