سعودیہ میں پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی، حقیقت کیا ہے؟

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی میڈیا کی سنسنی خیز رپورٹنگ کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مغربی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں اور لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کا بڑا دعویٰ کر دیا ہے تاہم پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے اس خبر کو گمراہ کن اور سیاق و سباق سے ہٹ کر قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں،لڑاکا طیاروں کی تعیناتی اور پاک سعودی دفاعی تعاون کو کسی مخصوص علاقائی تنازع سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات وقتی سیاسی ضرورت یا کسی ہنگامی صورتحال کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ایک منظم اور ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں استحکام، سلامتی اور باہمی دفاعی تعاون کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کیلئے سعودی عرب کا دفاع محض سفارتی ذمہ داری نہیں بلکہ حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ سے جڑا ہوا ایک مقدس فریضہ ہے۔ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان ہمیشہ سے مقدس مقامات کے تحفظ کو اپنے ایمان، عقیدت اور قومی فخر کا حصہ سمجھتے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف سیاسی یا عسکری نوعیت تک محدود نہیں بلکہ عوامی جذبات اور مذہبی وابستگیوں سے بھی مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے مزید واضح کیا کہ پاکستان سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور دفاع کے حوالے سے ہر قسم کا تعاون پہلے سے طے شدہ دفاعی معاہدوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں، عسکری تربیت اور دفاعی تعاون کے دیگر اقدامات مکمل طور پر دفاعی اور استحکامی نوعیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی ہم آہنگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کیلئے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر واضح پیغام دیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے پر وہ ہر خطرے کے مقابلے میں اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

Back to top button