پاکستان، ایران اور امریکہ کیلئے اتنا اہم کیوں ہو گیا؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، دھمکیوں اور مذاکرات کا پیچیدہ سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں، مگر حیران کن طور پر پاکستان ایک ایسا ملک بن کر ابھرا ہے جس پر تہران اور واشنگٹن دونوں اعتماد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بحران میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم بلکہ فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کی تصدیق اور اس میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں فریق بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے کسی نہ کسی مفاہمت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختلف تجاویز، شرائط اور پیغامات پاکستان سمیت دیگر ثالث ممالک کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس وقت شدید معاشی دباؤ، امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات پر قدغنوں اور عالمی مالیاتی مشکلات کا شکار ہے۔ تہران بخوبی جانتا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کے ساتھ براہِ راست جنگ پورے خطے کو تباہ کن صورتحال میں دھکیل سکتی ہے، اسی لئے ایران سفارتکاری، ثالثی اور محدود مزاحمت کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ ایرانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ اس کی ترجیح جنگ کے خاتمے اور بحران کے سیاسی حل پر مرکوز ہے۔

دوسری طرف امریکا کی پالیسی ہمیشہ “دباؤ اور مذاکرات” کے امتزاج پر مبنی رہی ہے۔ واشنگٹن ایک جانب ایران پر سخت شرائط عائد کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کو دباؤ میں لا کر زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کی جائیں۔ اس پورے معاملے میں اسرائیل کی سلامتی امریکا کی اولین ترجیح سمجھی جاتی ہے اور چونکہ ایران اسرائیل مخالف پالیسی پر قائم ہے، اس لیے واشنگٹن کا مؤقف سخت دکھائی دیتا ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ نہ امریکا مکمل جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی ایران کسی بڑے تصادم کا متحمل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی مذاکرات، کبھی دھمکیاں اور کبھی محدود کشیدگی کی صورتحال سامنے آتی رہتی ہے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان ایک ایسے “پل” کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں مخالف فریقوں کے درمیان رابطے اور غلط فہمیوں کے خاتمے میں مدد دے رہا ہے۔

پاکستان کیلئے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کسی بڑی جنگ کے اثرات سب سے پہلے خطے کے ممالک خصوصاً پاکستان کی معیشت، توانائی، تجارت اور داخلی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ اسی لئے اسلام آباد پوری کوشش کر رہا ہے کہ سفارتکاری اور ثالثی کے ذریعے بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے کردار کو چین اور خلیجی ممالک کی خاموش حمایت بھی حاصل ہے۔ چین خطے میں استحکام چاہتا ہے تاکہ توانائی کے راستے محفوظ رہیں جبکہ سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک بھی کسی بڑے تصادم سے بچنے کیلئے متحرک ہیں۔ اگر یہ مشترکہ سفارتی کوششیں جاری رہیں تو پاکستان کا کردار مزید مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا کی سخت شرائط پر ایران کی مکمل لچک کے امکانات کم ہیں، تاہم محدود نوعیت کی مفاہمت خارج از امکان نہیں۔ امریکا ایران سے کچھ یقین دہانیاں چاہتا ہے جبکہ ایران بھی ایسا راستہ تلاش کر رہا ہے جس سے جنگ کا خطرہ ٹل جائے اور اس کی قومی خودمختاری بھی برقرار رہے۔

اب تک کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ پاکستان کسی حتمی امن معاہدے تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوا، لیکن کشیدگی کم کرنے، رابطے بحال رکھنے اور ممکنہ جنگ کو مؤخر کرنے میں اس کا کردار انتہائی اہم بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور ایران کی ایک دوسرے پر بداعتمادی کے باوجود دونوں کی نظریں اب پاکستان کی ثالثی پر مرکوز ہیں۔

Back to top button