عمران خان کا 4سالہ پرانا سائفر ڈرامہ دوبارہ خبروں میں اِن کیوں؟

ملکی سیاسی تاریخ کے سب سے متنازع اور سنسنی خیز معاملات میں شامل “سائفر کیس” ایک بار پھر ملکی سیاست اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ تقریباً چار سال قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے جڑا یہ حساس سفارتی معاملہ اب دوبارہ اس وقت سرخیوں میں آیا جب ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ’ڈراپ سائٹ‘ نے مبینہ طور پر اُس “اصل سائفر” کی دستاویز شائع کرنے کا دعویٰ کیا جسے تحریک انصاف عرصہ دراز سے اپنی حکومت کے خلاف بیرونی سازش کا ثبوت قرار دیتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ یہ تنازع پہلی مرتبہ مارچ 2022 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب عمران خان نے اسلام آباد کے ایک جلسے میں ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف بیرونی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے پاکستان کے اُس وقت کے سفیر اسد مجید خان کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو پاکستان کیلئے معاملات بہتر ہو جائیں گے۔

عمران خان مسلسل یہ مؤقف اپناتے رہے کہ ان کی حکومت کو ہٹانے کے پیچھے بین الاقوامی دباؤ اور خفیہ سفارتی مداخلت کارفرما تھی، تاہم امریکی حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ دوسری جانب اُس وقت کی اتحادی حکومت اور ریاستی اداروں کا مؤقف تھا کہ عمران خان نے ایک حساس سفارتی دستاویز کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا اور اس کے متن کو عوامی بیانیے کا حصہ بنا کر قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ “سائفر” دراصل ایک خفیہ سفارتی مراسلہ ہوتا ہے جو کوڈڈ زبان میں بھیجا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اپنے حساس سفارتی پیغامات کو محفوظ انداز میں منتقل کرنے کیلئے سائفر سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ یہ پیغامات عام ای میل یا ڈاک کے ذریعے نہیں بلکہ انتہائی محفوظ مواصلاتی نظام کے تحت سفارتخانوں اور وزارت خارجہ کے درمیان منتقل کیے جاتے ہیں۔ ان کوڈز کو پڑھنے اور سمجھنے کیلئے خصوصی تربیت یافتہ افسران مقرر ہوتے ہیں جنہیں “سائفر اسسٹنٹ” کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں سائفر کیس اس وقت سنگین قانونی شکل اختیار کر گیا جب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔ الزام یہ تھا کہ دونوں رہنماؤں نے حساس سفارتی مراسلے کو سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا، اسے غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا اور ریاستی راز کو عوامی سیاست کا حصہ بنایا۔تحقیقات کے دوران ایک اور اہم پہلو اُس وقت سامنے آیا جب عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ان کے پاس موجود سائفر کی کاپی “غائب” ہو گئی تھی۔ اس بیان نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا کیونکہ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کو بھیجی گئی سائفر کی اصل کاپی واپس نہیں ملی تھی، جس سے قومی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی۔

جنوری 2024 میں خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں دس، دس سال قید کی سزا سنائی، تاہم بعد میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے یہ سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔ اس کے باوجود یہ مقدمہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ وفاق کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا چکی ہے جو تاحال زیرِ سماعت ہے۔

اب “ڈراپ سائٹ” کی جانب سے مبینہ دستاویز منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تحریک انصاف کے حامی اسے عمران خان کے مؤقف کی تائید قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومتی حلقے اب تک محتاط خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بی بی سی سمیت کئی ادارے اس دستاویز کی تصدیق نہیں کر سکے، اس لیے اس کے حقیقی ہونے یا نہ ہونے پر سوالات برقرار ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سائفر کیس صرف ایک قانونی یا سفارتی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایسا واقعہ بن چکا ہے جس نے خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، سول ملٹری تعلقات اور سیاسی بیانیے کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چار سال گزرنے کے باوجود “سائفر” آج بھی پاکستانی سیاست میں ایک طاقتور اور متنازع علامت کے طور پر موجود ہے۔

Back to top button