امریکی صدر نے ایران پر حملے آخری لمحے میں کیوں روکے ؟: اسرائیلی صحافی کا انکشاف

اسرائیلی صحافی براک راویڈ نے امریکی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای نے امریکا کو واضح پیغام دیا تھاکہ اگر ایران پر حملہ کیاگیا تو اس کے نتائج اور نقصان خلیجی ممالک کو برداشت کرنا پڑیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی صحافی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطر کے امیر تمیم بن حماد اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے رابطے کیے۔تینوں ممالک نے مشترکہ طور پر امریکی صدر پر زور دیاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا جائے کیوں کہ جنگ کی صورت میں خلیجی ممالک کی آئل اور انرجی تنصیبات شدید خطرے میں پڑسکتی ہیں۔
اسرائیلی صحافی کےمطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حامی اپنے ساتھیوں کو صورت حال سے آگاہ کیا تھا، صدر ٹرمپ نے کہا خلیجی ممالک ردعمل میں اپنی آئل اینڈ انرجی تنصیبات کی تباہی نہیں چاہتے۔
یاد رہے کہ پیر کی رات کو امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب،قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
