بیک ڈور رابطے، بشریٰ بی بی کو ریلیف ملنے کا امکان

پاکستان کی سیاسی فضا میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم اور غیر معمولی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں بشریٰ بی بی کی فیملی کیلئے ممکنہ ریلیف کی اطلاعات نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پسِ پردہ جاری رابطوں اور سیاسی خاموشی اختیار کرنے کے پکے وعدوں اور ٹھوس یقین دہانیوں کے بعد جلد ہی بشریٰ بی بی کی بیٹی کو اڈیالہ جیل میں اپنی والدہ سے ملاقات کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی روز سے جاری بیک چینل رابطوں اور اعتماد سازی کی کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد ملاقاتوں کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متعلقہ حکام سے غیر رسمی سطح پر رابطے کیے گئے اور انھیں یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ بشریٰ بی بی سیاسی طور پر کوئی بیان جاری نہیں کرینگی، جس کے بعداب بشریٰ بی بی کی ان کی فیملی سے ملاقات کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی بشریٰ بی بی کی بیٹی کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد میں ملاقات سے متعلق تفصیلات خاندان کے دیگر افراد تک پہنچنے اور پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ حکام نے اسے اس غیر اعلانیہ مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا جس کے تحت ملاقاتوں کی تفصیلات کو عوامی یا سیاسی بیانیے کا حصہ نہ بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں عمران خان کی بہنوں کو بھی ملاقات کی اجازت دلانے کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اہلِ خانہ تحریری یقین دہانی کرواتے ہیں یا نہیں کہ ملاقاتوں کی اندرونی تفصیلات کو میڈیا یا سوشل میڈیا پر نہیں لایا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ شرط دراصل سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے اور حساس معاملات کو عوامی محاذ آرائی سے دور رکھنے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیانات نے بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کے بعض بیانات، جو مبینہ طور پر فوج پر تنقید کے طور پر دیکھے گئے، سرکاری حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بنے۔ خاص طور پر پشین کے عوامی اجتماع اور اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات کے دوران دیے گئے بیانات کے بعد یہ معاملہ حساس ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تحفظات پاکستان تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت تک پہنچا دیے گئے اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پارٹی قیادت کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو آئندہ ایسی صورتحال سے گریز کیا جائے گا، تاہم بیرسٹر گوہر نے اس معاملے پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اڈیالہ جیل ملاقاتوں میں ممکنہ نرمی اور پسِ پردہ رابطے اس بات کا اشارہ ہو سکتے ہیں کہ بعض حلقے سیاسی تناؤ کم کرنے اور محدود سطح پر اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول میں نسبتاً نرمی اور رابطوں میں اضافہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

Back to top button