ایران اور امریکہ کے مابین دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اسلحے سے لدے درجنوں جنگی طیارے اسرائیل پہنچ چکے تھے اور ایران پر ممکنہ بڑے فوجی حملے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں، تاہم آخری لمحے خلیجی قیادت کی سفارتی کوششوں نے صورتحال کو عارضی طور پر ٹھنڈا کر دیا۔
مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کو فی الحال مؤخر تو کردیا گیا ہے، مگر خطرات اب بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر منگل کے روز متوقع فوجی کارروائی خلیجی قیادت کی درخواست پر روک دی گئی، تاہم اگر کوئی “قابلِ قبول معاہدہ” طے نہ پایا تو امریکی فوج کسی بھی لمحے بڑے پیمانے پر کارروائی کیلئے تیار رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان نے ان سے درخواست کی کہ ایران پر طے شدہ حملہ روک دیا جائے کیونکہ سفارتی حل کی امید موجود ہے۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور عسکری قیادت کو ہدایت دی کہ کارروائی وقتی طور پر روک دی جائے، مگر ساتھ ہی فوج کو ایک لمحے کے نوٹس پر مکمل حملے کیلئے تیار رہنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق درجنوں امریکی اسلحہ بردار طیارے اسرائیل پہنچ چکے ہیں جبکہ خطے میں امریکی فوجی تیاریوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ مذاکرات بھی جاری ہیں جن میں خلیجی ممالک اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ادھر ایران نے بھی سخت اور واضح مؤقف اپنایا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں اور ایران اپنے قومی مفادات، وقار اور عوام کے جائز حقوق پر کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنی پوری طاقت کے ساتھ آخری دم تک اپنے قومی مفادات کا دفاع کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا کہ تہران نے جنگ بندی اور مذاکرات کے حوالے سے امریکا کی نئی تجویز کا جواب دے دیا ہے اور اپنے تحفظات سے واشنگٹن کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اس معاملے پر دباؤ قبول کیا جائے گا۔
اہم پیشرفت یہ بھی سامنے آئی کہ پاکستان نے مبینہ طور پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق اسلام آباد نے تہران کی نظرثانی شدہ تجویز واشنگٹن تک پہنچائی جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کہنے پر “پراجیکٹ فریڈم” روکنے کا فیصلہ کیا۔ ترکیہ، قطر، سعودی عرب اور مصر بھی جنگ ٹالنے کیلئے سرگرم سفارتکاری میں مصروف ہیں۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ تمام فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل اب بھی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ کی ترجیح پاکستان کی ثالثی کوششوں میں تعاون اور خطے میں جنگ بندی برقرار رکھنا ہے۔
دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے سخت دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے کوئی “احمقانہ اقدام” دہرایا تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ فائبر کیبلز پر اجازت ناموں کے نفاذ کی دھمکی بھی دی ہے جبکہ آبی گزرگاہ کے انتظام کیلئے نئی اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے عالمی تجارت اور انٹرنیٹ رابطوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ فوری جنگ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا ہے، مگر خطے کی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی بھی ناکام مذاکراتی مرحلہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے فوجی بحران میں دھکیل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔
