لڑکے کے ریپ، فلم بنانے کے الزام میں امام مسجد سمیت دو ملزمان گرفتار

پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں پولیس نے لڑکے کے ساتھ مبینہ بدفعلی اور واقعے کی فلم بندی کے الزام میں امام مسجد سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ سول لائن پولیس نے ملزمان کو اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیا اور شہری کی شکایت پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) سجاد نے کہا کہ ملزمان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
ایف آئی آر یکم ستمبر کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات اے 375 (عصمت دری) ، 376 (عصمت دری کی سزا) اورسی 292 (چائلڈ پورنوگرافی) کے تحت درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ نے 27 اگست کو کہا کہ اس نے فیس بک پر ایک لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو دیکھی ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اس نے دو مشتبہ افراد امام مسجد اور ایک ویلڈر کی شناخت کی جنہوں نے ویڈیو بنائی اور وہ ہی اپ لوڈ کے بھی ذمہ دار ہیں۔
ایف آئی آر نے ان کے حوالے سے کہا میرے ساتھ دوسرے گواہوں نے انہیں دیکھا اور ان کی شناخت بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ امام مسجد نے اپنے عمل سے مقامی رہائشیوں کے جذبات کو مشتعل کیا، فحش ویڈیوز بنائی جس سے علاقے کے لیے باعث بدنامی بنی اور ’مسجد کے تقدس کو بدنام کیا گیا‘۔
ایف آئی آر میں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ مظفر گڑھ پولیس نے شہر کے وسندیوالی علاقے میں ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔
یکم اگست کو پیش آنے والے اس واقعہ کی ایف آئی آر 16 اگست کو دو افراد کے خلاف درج کی گئی جن میں سے ایک نامعلوم تھا۔
متاثرہ کی والدہ کی شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر نے ملزمان پر 12 سے 13 سال کی بچی کی فلم بندی کا الزام لگایا۔
بشکریہ: ڈان نیوز
