جلیانوالہ باغ کی شکل بدلنے پر مودی سرکار زیر تنقید کیوں؟

بھارت پنجاب کے شہر امرتسر میں برطانیہ کے سامراجی دور میں ہندوستانیوں کے خون سے رنگی جانے والی تاریخی یادگار جلیانوالہ باغ کی تزئین و آرائش اور اسے جلیانوالہ کمپلیکس بنانے پر بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے۔ اس کمپلیکس کا حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے افتتاح کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات کچھ مقامات درد کے احساس کو جنم دیتے ہیں اور اس بات کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کس چیز کے لیے ہم لڑے۔ چنانچہ ایسی تاریخی یادوں کی شکل ‘تبدیل کرنے’ کی کوشش اجتماعی تاریخ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔۔
یاد رہے کہ جلیانوالہ باغ اُس خونی واقعے کی یادگار ہے جس میں بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کو برطانوی فوجیوں نے 1919 میں ایک جلسہ عام میں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ یہ قتل عام ہندوستان کی قومی تحریک میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔
جلیانوالہ باغ کے خونی واقعے کے 100 سال پورے ہونے پر 2019 میں اس کی تجدید کاری کا منصوبہ منظور کیا گیا اور پھر اپریل 2020 میں اس پر کام شروع ہو گیا۔ چنانچہ اسے عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔
2021 کے وسط میں اس کی تزئین کا کام مکمل ہونے کے بعد 15 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر پنجاب کی ریاستی حکومت نے اس کا افتتاح کرتے ہوئے عوام کے لیے کھول دیا اور پھر 28 اگست کے روز وزیراعظم مودی نے اس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس یادگار کو اب ایک تفریحی شکل دے دی گئی ہے۔ اسمیں میوزیم اور گیلریاں بنائی گئی ہیں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ 13 اپریل 1919 کے واقعات کو ظاہر کرنے کے لیے روزانہ آواز اور روشنی پر مبنی شو شروع کیا گیا ہے۔ اس یادگار میں ایک تنگ راہداری میں دیواروں کو مجسموں سے مزین کیا گیا ہے جس کے ذریعے بریگیڈیئر جنرل آر ایچ ڈائر کی قیادت میں برطانوی فوجی پارک میں داخل ہوئے تھے، ان دیواروں اور مجسموں کو مرنے والوں کی یاد میں بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم مودی کا کہنا ہے کہ جلیانوالہ باغ کی تزئین کا مقصد نئی نسل کو اس مقدس مقام کی تاریخ کے بارے میں بتانا اور اس کے ماضی کے بارے میں بتانا ہے۔ تاہم ناقدین نے حکومت کے اس اقدام کو غیر حساس قرار دیتے ہوئے اسے تاریخ کو مٹانے اور مسخ کرنے کی مترادف قرار دیا ہے۔ تاریخ دان کم ویگنر نے اسے ’’پرانے امرتسر شہر کا ’’ڈزنی فکشن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقام کی تجدیدکاری کا مطلب یہ ہے کہ وہاں رونما ہونے والے واقعات کے آخری نشانات کو مؤثر طریقے سے مٹا دیا گیا ہے۔
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک تاریخ دان اور ہندی کے پروفیسر چمن لال نے کہا کہ اس منصوبے سے تاریخ کو پراسرار بنانے اور گلیمرائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے ’دی ہندو‘ اخبار کو بتایا کہ جلیانوالہ باغ آنے والے لوگوں کو درد اور تکلیف کے احساس کے ساتھ جانا چاہئے۔ لیکن اب اسے ایک خوبصورت باغ کے ساتھ لطف اندوز ہونے کی جگہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
نامور مورخ ایس عرفان حبیب نے اسے یادگاروں کا کارپوریٹائزیشن کہا جو کہ تاریخ اور ورثہ کی قیمت پر بنایا گیا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی نریندر مودی کی حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، مغربی ریاست مہاراشٹر میں برسراقتدار جماعت شیو سینا کی رہنما پرینکا چترویدی نے لکھا کہ بعض اوقات مقامات درد کے احساس کو جنم دیتے ہیں اور اس بات کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کس چیز کے لیے ہم لڑے۔ ان یادوں کو ‘خوبصورت’ بنانے یا ‘تبدیل کرنے’ کی کوشش ہماری اجتماعی تاریخ کو بہت نقصان پہنچا رہی ہے۔
البتہ حکمراں جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے انڈین رکن پارلیمان اور جلیانوالہ باغ ٹرسٹ کے رکن شویت ملک نے تزئین و آرائش کے کام کا دفاع کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ راہداری میں لگے یہ مجسمے دیکھنے والوں کو اس دن وہاں سے گزرنے والوں کی یاد دلائیں گے۔ پہلے لوگ یہاں سے اس کی تاریخ سے انجان گزرتے تھے اور اب وہ تاریخ کے ساتھ چلیں گے۔
یادر رہے کہ قوم پرست بھاری جنگی ٹیکسوں اور فوجیوں کی جبری تقرریون کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے 1919 میں اس مقام پر جمع ہوئے تھے۔ برطانوی حکام نے اس سے قبل امرتسر میں مارشل لاء کا اعلان کر رکھا تھا اور عوامی مظاہروں میں اضافے کی وجہ سے عوامی جلسوں پر پابندی عائد کی ہوئی تھی۔
پھر بغیر کسی انتباہ کے انگریز فوجی افسر جنرل ڈائر نے باہر نکلنے والے راستے کو بند کر دیا اور اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ ہجوم پر فائرنگ کر دیں، فائرنگ تب روکی گئی جب ان کا گولہ بارود ختم ہو گیا۔ اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔
