لیڈی ڈیانا کی بہو نے ملکہ برطانیہ کے ولن ہونے کا تاثر پختہ کر دیا

آنجہانی لیڈی ڈیانا کی باغی بہو میگھن مارکل اور انکے شوہر شہزادہ ہیری کے تہلکہ خیز انکشافات نے عالمی سطح پر طوفان برپا کر دیا ہے جسکے بعد لیڈی ڈیانا کے زمانے سے شاکی خاندان کی ولن سمجھی جانے والی ملکہ برطانیہ کا منفی تاثر مزید پختہ ہو گیا ہے جس نے اب انہیں دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کر دیا یے۔
ہیری اور میگھن کے تہلکہ خیز انٹرویو پر عوامی تنقید کا شکار ہونے کے بعد ملکہ برطانیہ نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کی جانب سے نسلی تعصب سے متعلق کی گئی بات ایک ‘پریشان کن’ امر ہے جسے شاہی خاندان نجی طور پر حل کرے گا۔ برطانوی شاہی خاندان کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں مختلف لوگوں کی یاددشتیں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اوپرا ونفری کے انٹرویو میں جو معاملات اٹھائے گئے ان پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اپنے انٹرویو میں شہزادہ ہیری اور میگھن نے اپنے ساتھ برتے جانے والے نسلی تعصب، ذہنی صحت، میڈیا اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کے بارے میں بات کی ہے۔ بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شاہی خاندان کو یہ جان کر ‘انتہائی دکھ ہوا’ کہ گزشتہ چند سال اس جوڑے کے لیے کتنے مشکل ثابت ہوئے ہیں۔ مختصر بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ‘ہیری، میگھن اور آرچی ہمیشہ شاہی خاندان کے عزیز رکن رہیں گے’۔ یاد رہے کہ اس بیان کے جاری ہونے سے پہلے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے انٹرویو کے حوالے سے برطانوی شاہی خاندان کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں کئی سینیئر افراد نے شرکت کی تھی۔
دوسری طرف برطانوی عوام کی اکثریت شاہی جوڑے کی حمایت میں کھڑی ہے جبکہ سوشل میڈیا صارفین منفرد میمز شیئر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یاد رہے میگھن مارکل اور ان کے شوہر شہزادہ ہیری نے مارچ 2020 میں شاہی حیثیت چھوڑے جانے کے بعد پہلی بار امریکی معروف میزبان اوپرا ونفرے کو دیے گئے طویل انٹرویو میں نہ صرف شاہی حیثیت کو چھوڑنے کے اسباب بتائے بلکہ انہوں نے شاہی محل میں اپنے ساتھ ہونے والے ناروا اور نسلی امتیاز کے سلوک پر بھی کھل کر بات کی۔ انٹرویو کے دوران شاہی جوڑے کی جانب سے کئی انکشافات کیے جانے کے بعد برطانیہ اور امریکا میں تہلکہ مچ گیا ہے اور ایک بار پھر برطانوی شاہی محل کی طرز زندگی پر سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔
میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کے ساتھ شاہی محل میں ناروا سلوک کی خبریں تو مئی 2018 میں اس وقت سے آنا شروع ہوئی تھیں جب دونوں نے شادی کی تھی۔ تاہم دونوں نے پہلی بار شاہی حیثیت چھوڑنے اور شاہی محل سے دوری اختیار کرنے کے بعد کھل کر وہاں کے ماحول کے بارے میں باتیں کی ہیں، جن سے عندیہ ملتا ہے کہ برطانوی شاہی محل سے متعلق جو افواہیں پھیلتی رہی ہیں، وہ کافی حد تک درست بھی ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے شہزادہ چارلس کی اہلیہ لیڈی ڈیانا نے بھی شاہی خاندان خصوصا ملکہ برطانیہ کے حوالے سے اسی طرح کے الزامات عائد کیے تھے۔ ٹوئٹر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے میگھن مارکل اور ہیری کی گفتگو کو پاکستانی خاندانوں میں ساس بہو کے جھگڑوں سے مماثلت دیتے ہوئے دلچسپ ٹوئٹ شیئر کیےجا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے میگھن کے ساتھ اوپرا ونفرے کے بجائے اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کی اداس تصویر شیئر کی اور سوال پوچھا کہ کیا سسرال پر کبھی کوئی دم یا تعویذ کیا ہے؟ ایک صارف نے ملکہ الزبتھ اور چارلس کی ایڈیٹ شدہ تصویر شیئر کی جس پر پاکستانی خاندانوں میں استعمال کیا جاننے والا عام جملہ درج تھا، اتنا پیارا بچہ تھا ہمارا ہیری، اسی چڑیل نے ہی اسے پٹیاں پڑھائی ہیں۔ ایک صارف نے میگھن اور ہیری کے انٹرویو والی تصویر پر لکھا کہ جب ملکہ ایک بار میگھن کے پاس آئیں اور کہا کہ پنکھا بند کرو، تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اپنے انٹرویو میں میگھن مارکل نے کھل کر اعتراف کیا کہ شاہی محل میں انہیں نسلی امتیاز کا سامنا رہا اور وہ خود کو غیر محفوظ تصور کر کے انہوں نے متعدد بار خودکشی کا بھی سوچا تھا۔ اپنی زندگی کو ختم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میگھن مارکل جذباتی ہوکر اشکبار ہوگئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ پہلے بچے کی امید سے تھیں تو شاہی محل کے لوگ ان کے ہونے والے بچے کی رنگت سے متعلق ’فکرمند‘ تھے اور یہ باتیں کرتے سنائی دیتے تھے کہ جانے ان کے بچے کا رنگ کیسا ہوگا؟ انٹرویو کے دوران شہزادہ ہیری نے بتایا کہ انہیں اپنے ہی خاندان کے ایک فرد نے ان کے بیٹے کی رنگت کا طعنہ دیا تاہم دونوں نے اس فرد کا نام نہیں لیا اور بتایا کہ نام لینا ان کے لیے تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوگا۔ میگھن مارکل کے مطابق انہیں شاہی خاندان کی روایات سے متعلق زیادہ علم نہیں تھا لیکن جب وہ پہلی بار ملکہ سے ملیں تو انہیں ملاقات کے دوران جھکنا پڑا۔ انہوں نے ملکہ برطانیہ کی تعریف کرتے ہوئے شاہی محل میں خود کو پیش آنے والے مسائل پر بات کی اور کہا کہ جب انہیں مشکلات کا سامنا ہوا تو انہوں نے شاہی محل کے مدد کرنے والے محکمے سے مدد طلب کی مگر ادارے نے ان کی مدد کرنے سے معذرت کر لی، تب انہیں خیال آیا کہ انہیں اپنی زندگی ختم کرلینی چاہیے۔
خیال رہے کہ ہیری اور میگن کی جوڑی نے جنوری 2020 میں اعلان کیا تھا کہ وہ شاہی خاندان کے سینیئر رکن کی زندگی ترک کر دیں گے۔ بعد میں گذشتہ ماہ شاہی محل نے تصدیق کی کہ جوڑا عملی طور پر دوبارہ شاہی خاندان میں واپس نہیں آئے گا۔’
