میانمار کی فوج نے مارشل لا اپنا خفیہ کاروبار بچانے کے لیے لگایا


میانمار میں حال ہی میں حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہونے والی فوج کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے جمہوری حکومت سے اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے قانونی و غیر قانونی کاروباری سلطنت کے تحفظ کی خاطر مارشل لا لگایا ہے کیوں کہ ملک میں لائے جانے والی جمہوری اصلاحات سے فوج کو کاروبار کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مارشل لا عائد کر کے فوج نے اپنے کاروباری معاملات اور مفادات کو احتساب سے بالاتر رکھنے کو کوشش کی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی طرح میانمار کی فوج کے حصے میں بھی ملکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔ مگر میانمار کی مسلح افواج کو ایک وسیع اور خفیہ کاروباری سلطنت کے ذریعے بے تحاشہ دولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ینگون کے انتہائی مقبول اِن ڈور اسکائی ڈائیونگ سینٹر میں آپ فضا میں گئے بغیر طیارے سے چھلانگ لگانے کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ مگر اس مصنوعی اسکائی ڈائیونگ سے لطف اندوز ہوتے چند ہی لوگوں کو پتا ہوگا کہ یہ میانمار کے فوجی بزنس پراجیکٹ کا ایک حصہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی بزنس نیٹ ورک ہے جو کہ فوجی بغاوت کو ممکن بناتا ہے اور فوج کے احتساب کی حکومتی کوششوں کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ عام کاروباری افراد ملک کے کاروباری ماحول کو ‘مافیا کے زیرِ اثر سسلی‘ سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میانمار میں جمہوری اصلاحات تب ہی ممکن ہوں گی جب فوج بیرکس میں لوٹے گی۔
یاد رہے کہ ایک ماہ پہلے میانمار کی فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد بعد امریکہ میں جو بائیڈن کی نئی حکومت میں میانمار کی فوج پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں اور فوجی قیادت کے دنیا بھر میں اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
میانمار کی افواج کا سرکاری نام ’ٹٹمادو‘ ہے جس نے بزنس کی دنیا میں 1962 کی سوشلسٹ بغاوت کے بعد قدم رکھا تھا۔ کئی برسوں تک میانمار کی فوجی بیٹالیئنز پر لازم تھا کہ وہ خود کفیل ہوں اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ مقامی کاروباروں میں حصہ ڈالیں اور اپنے آپریشنز کی مالی فنڈنگ خود کریں۔ اگرچہ اب یہ رحجان ختم ہو چکا ہے تاہم 1990 کی دہائی میں فوج نے ایک ایسے وقت دو کمپنیاں بنائیں جب حکومت ریاستی صنعتوں کی نجکاری کر رہی تھی۔ یہ دونوں کمپنیاں میانمار اکانومک کاروپریشن اور میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ اب فوج کے لیے دولت کمانے کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہیں اور ان کے بینکاری اور کان کنی سے لے کر تمباکو اور سیاحت، سب کاروباروں میں حصہ ہے۔ میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ فوج کا پینشن فنڈ بھی چلاتی ہے۔ اسی طرح متعدد فوجی لیڈران اور ان کے خاندان والوں کے اپنے کاروباری مفادات ہیں اور ماضی میں ان پر پابندیاں بھی لگائی جا چکی ہیں۔
فوجی بغاوت کی قیادت کرنے والے جنرل من آنگ ہلینگ کے بیٹے آنگ پائے سونے بھی کئی بڑی بزنس کمپنیوں کے مالک ہیں جن میں ایک ساحلی ہوٹل کے علاوہ قومی ٹیلی کام کمپنی ’مائی ٹیل‘ میں نصف سے زیادہ شیئرز بھی شامل ہیں۔ تاہم ان تمام کاروباری مفادات کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج کا کاروباری اثر و رسوخ کافی زیادہ ہے حالانکہ ملک میں جمہوری اصلاحات کی جا چکی ہیں، اور ہوسکتا ہے کہ حالیہ بغاوت ان مفادات کے تحفظ کےلیے کی گئی ہو۔
فوج کے کاروباری مفادات کے بارے میں جو تھوڑا بہت معلوم ہوا وہ سب حال ہی میں منظرِ عام پر آیا ہے۔ یاد رہے کہ میانمار میں روہنگیا برادری کے خلاف مظالم کے بعد اقوام متحدہ کی 2019 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ کاروباری وسائل فوج کو بغیر کسی احتساب کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اپنے خود کے کاروباری وسائل اور مفادات کے ذریعے فوج خود کو نگرانی اور احتساب سے دور رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ کے داخلی ڈھانچے اور مالی معاملات کے بارے میں دو رپورٹیں بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں، ایک تو جنوری 2020 میں کمپنی نے خود شائع کی اور دوسری ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ’جسٹس فار برما‘ نامی گروہ نے لیک کی تھی۔ ان میں دیکھا گیا کہ یہ کمپنیاں فوج کے اعلیٰ حکام جن میں سے کچھ موجودہ بغاوت میں بھی ملوث ہیں، چلاتے ہیں۔ اس کمپنی کے تقریباً ایک تہائی شیئر فوجی یونٹس کے پاس ہیں اور باقی موجودہ اور سابق فوجی حکام کے پاس ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990 اور 2011 کے درمیان میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ نے اپنے شیئر ہولڈرز کو 108 ارب کایاٹ جو کہ تقریباً 16.6 ارب ڈالر بنتے ہیں، ادا کیے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اپنے لوگوں کو نوازنے یا سزا دینے کےلیے میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ کے شیئرز استعمال کرتی ہے۔ مثلاً 35 افراد کے منافعے اس لیے ہمیشہ کے لیے روک دیے گئے کہ انہوں نے کوئی فوجی جرم کیا تھا۔ میانمار اکانومک ہولڈنگز لمیٹڈ نے اب تک اس رپورٹ کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ حالیہ فوجی بغاوت کے بعد لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج اور اس کے عالمی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندی لگائی جانی چاہیئے۔
بہت سے لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان فوجی کمپنیوں کو ختم کر دیا جائے۔ اسی دوران جسٹس فار میانمار نامی تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ میانمار کی فوج ‘غیر قانونی مفادات کے تصادم‘ میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور اس کے کاروباروں نے جو دولت لوٹی ہے وہ میانمار کے لوگوں کی ہے اور اسے انہیں واپس لوٹایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی حکومت نے میانمار کے اعلیٰ فوجی حکام اور چند حکومتی افراد سمیت کان کنی کی تین کمپنیوں کے خلاف نئی پابندیاں لگا دی ہیں۔ کینیڈا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے بھی اپنی جانب سے اقدامات کیے ہیں تاہم کسی بھی ملک نے ان دو کمپنیوں کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا ہے۔ میانمار میں فوج مخالف مظاہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ تاریخی طور پر کمزور پابندیوں کی وجہ سے میانمار کی فوج اکثر بغاوتیں کرتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی کرتی رہی ہے۔
اسی لیے میانمار میں مارشل لا لگنے کے بعد سے مظاہرین فوجی حکومت کے زیر کنٹرول چلنے والی کمپنیوں کی اشیا کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جن میں جیولری کی دکانوں سے لے کر سگریٹ کے برانڈ تک شامل ہیں۔ ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگرچہ پابندیاں اہم ہیں لیکن قانونی اور سفارتی دباؤ بھی ہونا چاہیے اور ملک کو ہتھیاروں کی فروخت پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
عالمی سطح پر پابندیوں کی گونج ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ممبران کی جانب سے میانمار کی فوج کی مذمت کرنے کی کوششوں کو چین اور روس نے فی الحال کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔ دوسری جانب میانمار کی فوج کے نائب چیف نہ اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے عالمی دباؤ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں آگے جو بھی ہو، ناقدین کا کہنا ہے کہ فوج کی دولت کو واپس کھینچنے اور اسکی ملکیتی کمپنیوں میں اصلاحات سے ہی ملک میں جمہوری اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہیں ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ مارشل لاء ختم کیا جائے اور سویلین اقتدار بحال کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button