کپتان حکومت کس مقصد کے لیے مودی سے یاری ڈال رہی ہے؟


پاکستان اور بھارت کے مابین بیک ڈور ڈپلومیسی کی خبریں سامنے آنے کے بعد اب یہ معلوم ہوا ہے کہ ان خفیہ رابطوں کے پیچھے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی کوششیں کارفرما ہیں۔ تاہم یہ اہم سوال اب بھی تشنہ طلب ہے کہ آخر اپوزیشن رہنماوں کو مودی کا یار قرار دینے والے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی حکومت انڈیا کے ساتھ کیوں اور کیا بات چیت کررہی ہے اور اس حوالے سے ثالثی کروانے والوں کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟
انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں اونچ نیچ تو چلتی رہتی ہے لیکن گزشتہ چند دنوں میں جو ہوا ہے وہ سیاسی تجزیہ کاروں عالمی امور کے ماہرین کی سمجھ سے باہر ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں ایک دن اچانک دونوں ملکوں کی افواج نے یہ اعلان کیا کہ وہ 2003 کے کنٹرول لائن سیز فائر یا جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کریں گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں کیا بدلا ہے؟ نہ تو کشمیر میں حالات میں کوئی گراں قدر تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی دلی یا اسلام آباد میں حکومت بدلی ہے۔ نئی حکومتیں آتی ہیں تو وہ کچھ دنوں تک امن اور دوستی کی باتیں کرتی ہیں اور پھر انہیں احساس ہوتا ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا باہر سے لگتا ہے۔ ایسے ہی کئی سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں جیسے اصل میں پردے کے پیچھے ہو کیا رہا ہے؟ کون کس سے بات کررہا ہے اور کہاں؟ انڈیا اور پاکستان کے میڈیا کو مہینوں تک اس کی خبر کیوں نہیں ہوئی۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستانی فوج کے سربراہ سے براہ راست بات کی ہے جیسا کہ کچھ انڈین اخبارات قیاس آرائی کر رہے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستانی فوج کے سربراہ نے جب سب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی بات کی تھی تو وہ اس بات کا اشارہ تھا کہ یہ ہاتھ پہلے ہی بڑھایا جا چکا ہے اور ملایا بھی جا چکا ہے؟ یہ سوال بھی تشنہ طلب ہے کہ اگر واقعی کوئی پاک بھارت بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے تو اس میں کون لوگ شامل ہیں اور یہ بات چیت کہاں اور خب سے ہو رہی ہے؟
یاد رہے کہ دسمبر 2017 میں بھارت اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر خفیہ طور پر بنکاک میں ملے تھے، تب بھی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ انڈیا پاکستان، در پردہ ہی سہی، بات کیوں کر رہے ہیں خصوصا جب عمران خان کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی مختار حیثیت ختم کرنے پر مودی حکومت سے تمام رابطے منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا؟ کیا آخرکار پاکستان اور بھارت کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ لڑائی جھگڑے میں کچھ نہیں رکھا، چلو اچھے پڑوسیوں کی طرح مل جل کر رہتے ہیں اور کشمیر کو بھلا دیتے ہیں۔ یا پھر کوئی ہے جس کی دونوں عزت کرتے ہیں، یا عزت نہ بھی کرتے ہوں لیکن اس کی بات ٹال نہیں سکتے، جس نے دونوں ممالک کو سمجھایا ہے کہ جھگڑا چھوڑو اور تعلقات استوار کرنے کی ایک کوشش اور کر کے دیکھو، ہو سکتا ہے کہ اس مرتبہ بات بن جائے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین بیک ڈور ڈپلومیسی کروانے کی پیچھے موجود دو ملکوں کا ذکر کیا جا رہا یے، ایک تو امریکہ جس کا نام ویسے ہی سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے اور جو دونوں پر وقتاً فوقتاً دباؤ ڈالتا رہتا ہے کہ وہ اور کچھ نہیں تو کم سے کم آپس میں بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں۔ دوسرا نام متحدہ عرب امارات کا جس کے پاکستان سے روایتاً اچھے تعلقات ہیں اور جس کے ساتھ گزشتہ کچھ عرصے میں انڈیا کے روابط بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ لیکن اس مرحلے پر سوال زیادہ ہیں اور جواب کم۔ کچھ تجزیہ ہے لیکن زیادہ تر قیاس آرائیاں۔ جو ہو رہا ہے اس میں چاہے امریکہ نے پہل کی ہو یا یو اے ای نے، لیکن دونوں افواج کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان سے لگتا ہے کہ اس مرتبہ دونوں کافی سنجیدہ کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اچانک اس طرح کا بیان جاری ہونا اور اس میں کشمیر اور دہشتگردی کا ذکر نہ ہونا غیر معمولی پیش رفت ہے ورنہ اتنی کشیدگی کے ماحول میں ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کا عہد کیاجارہا ہو تو لگتا ہے کہ غلطی سے کوئی پرانا بیان تو جاری نہیں ہوگیا۔ جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جو بنیادی سوال ذہن میں آتے ہیں ان میں سرفہرست تو یہ ہے کہ چین نے لداخ کے ان علاقوں میں اچانک دراندازی کیوں کی جن پر انڈیا بھی اپنا دعوی پیش کرتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم کہ اس بات کا پاکستان کے ساتھ روابط سے کچھ لینا دینا ہے یا نہیں۔ لیکن چین انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں مجموعی طور پر تقریباً 80 ارب ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں۔ پھر چین نے انڈیا سے اپنے تعلقات بگاڑنے کا خطرہ کیوں مول لیا اور پھر اب کیوں اپنی افواج پیچھے ہٹا رہا ہے۔ چین اور انڈیا کے درمیان کشیدگی اچانک کافی کم ہوگئی ہے۔ تو پہلا سوال یہ ہے کہ چین کی فوج آگے کیوں آئی اور کچھ مہینوں کی محاذآرائی کے بعد اچانک واپس کیوں چلی گئی؟دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جب چین اور انڈیا کے تعلقات اتنے کشیدہ ہوگئے تھے کہ جنگ کا ذکر کیا جارہا تھا، اور انڈیا اگلے محاذوں پر بھاری نفری تعینات کر رہا تھا، تو پاکستان کی جانب سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج کے لیے اچھا موقع تھا کہ وہ بھی لائن آف کنٹرول پر اپنی جانب سے کارروائی تیز کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا؟ بعد میں انڈین فوج کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران، بظاہر چین اور پاکستان ایک دوسرے کی مدد نہیں کررہے تھے۔
عالمی امور کےماہرین یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ بھارت کا پہلے چین کے ساتھ معاہدہ ہوا اور اس کے فوراً بعد پاکستان کے ساتھ۔ کیا دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق تھا؟ کیا واقعی جو بائیڈن کے نئے امریکی صدر منتخب ہونے کا اس پیش رفت سے کوئی تعلق ہے اور اگر ایسا یے تو کیا انڈیا کو لگتا ہے کہ صدر بائیڈن کے دور میں چین کے تئیں امریکہ کی پالیسی اب بدلے گی، اس لیے اسے بھی اپنی حکمت عملی بدلنی چاہیے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی یو اے ای کی بات میں اتنا وزن ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کو بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر مائل کرسکتا ہے؟ 2016 کی ‘سرجیکل سٹرائیکس‘ اور پھر دو سال پہلے ایک دوسرے کی حددو میں فضائی حملوں کے بعد اگر بھارت اور پاکستان پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو یہ غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔دونوں ممالک کے سرکاری اہلکاروں کا انداز بھی بدلا ہوا ہے۔ انڈیا میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے سمجھوتے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بہت ہی متوازن اور محتاط زبان استعمال کی جس سے لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان کچھ کھچڑی تو ضرور پک رہی ہے۔آخرکار برسوں بعد پہلی مرتبہ اس بات کی گنجائش نظر آنا شروع ہوئی ہے کہ بات چیت دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔امید پر دنیا قائم ہے لیکن یہ بھی نہیں بھولناچاہیے کہ جب بھی پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوئی ہے۔ تجزیہ نگار اس مرتبہ بھی باور کرارہے ہیں کہ تاریخ کا بیگیج بہت زیادہ ہے، مقبوضہ کشمیر پر نہ انڈیا اپنا موقف بدل سکتا ہے اور نہ پاکستان، اس لیے جن لوگوں نے یہ امیدیں باندھنا شروع کر دیا ہے کہ اب انڈیا پاکستان ایک دوسرے کے گلے میں ہار ڈالر کر گھومیں گے، انہیں ذرا حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے۔ لیکن کیا کریں۔ جب اخبارات میں انڈین سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ پڑھنے کو ملے کہ اگر کوئی ’واقعہ‘ پیش نہیں آتا اور لائن آف کنٹرول پر فائربندی جاری رہتی ہے تو پھر دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ اور دوسرے کھیلوں کے میدان میں روابط بحال ہو سکتے ہیں، تو امید خود بہ خود بندھنا شروع ہوجاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button