مارکیٹ میں انڈوں کی قیمت کو آگ کیوں لگ گئی؟

صبح ہوتے ہی ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ غذائیت سے بھرپور ناشتے سے اپنے دن کا آغاز کرے اور یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں امیر و غریب گھرانوں میں ناشتے پر انڈوں کا استعمال ضرور کیا جاتا ہے تاہم اب ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دیگر اشیا خورونوش کی طرح انڈے بھی عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔
گزشتہ کچھ دنوں سے انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور اب فی درجن انڈے 400 روپے کے قریب پہنچ گئے ہیں جبکہ ایک انڈے کی قیمت 35 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کیا مرغیوں نے سونے کے انڈے دینا شروع کر دیے ہیں کہ چند ماہ میں انڈے کی فی درجن قیمت 200 روپے سے 400 روپے تک پہنچ گئی ہے؟
مارکیٹوں میں انڈے سپلائی کرنے والے محمد کاشف کے مطابق جڑواں شہر راولپنڈی اسلام آباد میں انڈوں کی سپلائی پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے کی جاتی ہے لیکن وہاں شدید دھند کے باعث انڈوں والی گاڑیاں پہنچ نہیں رہیں اور سپلائی متاثر ہے اسی لیے راولپنڈی اسلام آباد میں انڈوں کی فی درجن قیمت 400 روپے تک پہنچ گئی ہے۔محمد کاشف کے مطابق دھند کی صورتحال بہتر ہونے اور انڈے کی ڈیمانڈ میں کمی کے بعد انڈے کی قیمت دوبارہ 300 روپے فی درجن تک آ جائے گی۔
دوسری جانب انڈوں کا کاروبار کرنے والے مالکان کا کہنا ہے کہ 2 سال قبل انڈا دینے والی مرغی کی فیڈ کا ریٹ 4 ہزار روپے فی بیگ تھا جو کہ اب 6 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بجلی سمیت دیگر اخراجات میں بھی کافی اضافہ ہو چکا ہے اس لیے اب پرانی قیمتوں پر انڈوں کی فروخت ممکن ہی نہیں ہے بلکہ جس ریٹ پر انڈے ابھی فروخت کیے جا رہے ہیں اس پر بھی فارمرز کو انتہائی کم منافع مل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مڈل مین اور ڈیلر، فارمرز کا منافع بھی کھا جاتا ہے۔
دوسری طرف دکانداروں کا کہنا ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی انڈوں کے ریٹ بڑھ جاتے ہیں تاہم اس مرتبہ انڈوں کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دکاندار ڈی سی ریٹ کے مطابق انڈے فروخت کر کے صرف 2 روپے فی درجن منافع کماتے ہیں جو کہ انتہائی کم ہے یہی وجہ ہے کہ دکان داروں نے انڈوں کے زائد ریٹ کے باعث ان کی فروخت چھوڑ دی تھی تاہم عوامی پریشر کے باعث دوبارہ سے انڈوں کی فروخت شروع کر دی ہے۔ اس وقت انڈے 390 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر ظفر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سردی کی شدت بڑھنے سے انڈوں کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے۔ڈاکٹر ظفر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سرد موسم کے باعث انڈوں کی پیداوار کم ہو جاتی ہے لہٰذا کم سپلائی اور زیادہ ڈیمانڈ کے باعث انڈوں کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اضافے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دھند کے باعث انڈوں کی ترسیل میں بھی مشکل آرہی ہے تاہم چند دنوں تک صورتحال بہتر ہو جائے گی اور انڈے کی قیمت 300 روپے فی درجن تک آ جائے گی۔
