عمران خان جیل میں بند، یوتھیے الیکشن کیسے لڑیں گے

الیکشن کی آمد کے ساتھ ہی جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ سمیت اہم معاملات پر دیگر جماعتوں سے رابطے اور ملاقاتیں جاری ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی حتمی فہرستیں اور ٹکٹیں جاری کر چکی ہیں وہیں پی ٹی آئی کے اکثریتی رہنما پابند سلاسل یا روپوش ہیں جبکہ بچے کھچے رہنما اب بھی عدالتوں میں نامزدگی فارم، لیول پلینگ فیلڈ اور بلے کا نشان واپس لینے کے لیے قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید میں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی ایسے وقت میں اڈیالہ جیل میں تین سال کی سزا کاٹ رہے ہیں جب ملک میں آئندہ ماہ عام انتخابات 8 فروری کو طے ہیں۔حالیہ دنوں جہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا بین الاقوامی جریدے میں مضمون شائع ہوا ہے وہیں جماعت کے ورچوئل جلسوں کے دوران ان کی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ تقاریر بھی نشر کی جا رہی ہیں۔سیاسی منظر نامے پر پی ٹی آئی کی ان کوششوں کو آئندہ عام انتخابات کے لیے پارٹی کی انتخابی مہم کے طور پر لیا جا رہا ہے۔جبکہ سیاسی تجزیہ کار اس عمل کو ان کی ’ورچوئل موجودگی‘ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ساتھ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں رہتے ہوئے پارٹی کی انتخابات میں کامیابی کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں اور جیل کے اندر سے عمران خان پارٹی رہنماؤں کی کس حد تک رہنمائی کر سکتے ہیں؟ اپنی اے آئی تقاریر اور بیانات سے کیا بیانیہ بنانے اور پارٹی کو آگے لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں؟ اور ان کے بیانات اور اے آئی تقاریر کتنی موثر ہو سکتی ہیں؟
صحافی و سینیئر سیاسی تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے ان حربوں کو انتخابات کے پیش نظر عمران خان کی ورچوئل موجودگی قرار دیا ہے۔انہوں نےمزید کہا کہ عمران خان جیل میں رہتے ہوئے بھی سرگرم ہیں۔عمران خان کے جیل میں رہتے ہوئے انتخابات میں مدد سے متعلق سوال پر عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’عمران خان کا جیل میں رہنا ہی ان کی پارٹی کی سب سے بڑی مدد ہے۔‘
عاصمہ کے مطابق عمران خان کے جیل میں رہنے سے صرف ایک فرق پڑا ہے کہ وہ منظم انداز میں جلسہ نہیں کر سکے جس طرح وہ پہلے کیا کرتے تھے۔اپنی حکومت کے خاتمہ کے بعد انہوں نے جو لہر بنائی اور لوگوں کو متحرک کیا، یہ ایک قابل ذکر بات ہے۔’تاہم عمران خان اگر جیل سے باہر ہوتے تو زیادہ رنگ پڑتا۔ ان کی جماعت کو تنظیمی اعتبار سے بہت نقصان ہو رہا ہے اور جماعت کی حلقہ کی سیاست بہت کمزور ہو گئی ہے۔‘
عاصمہ شیرازی کے مطابق مضمون لکھ کر عمران خان متحرک ضرور ہیں لیکن اس کا دور رس فائدہ نہیں ہے۔’پی ٹی آئی کی سیاست ہمیشہ روز مرہ کی بنیاد پر رہی ہے اور ان کے پاس دیرپا بیانیہ نہیں رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب اے آئی تقاریر کا تاثر دنیا میں اچھا نہیں گیا۔ اس کے ویوز تو اچھے مل جاتے ہیں لیکن اس کے مثبت نتائج نظر نہیں آئے ہیں۔‘
دوسری جانب صحافی محمل سرفراز نے کہا کہ عمران خان کو اس طرز کے حربے طویل مدت میں سیاسی فائدہ نہیں دیں گے کیونکہ عمران خان کی پارٹی اور سپورٹرز کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اے آئی کے ذریعے تقاریر کریں یا جیل سے مضامین لکھیں، اس سے ان کی انتخابی مہم کو تقویت ملتی ہے اور ووٹر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کے تناظر میں دیکھیں تو یہ چیزیں اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر سے ان کے لیے آسانیوں کے بجائے مزید مشکلات پیدا کریں گی۔محمل نے مزید کہا کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ایک دباؤ کا حربہ ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ ان سے بات کرنے پر مجبور ہو جائے لیکن ایسا نہیں لگتا ہے۔’ایک ہائبرڈ نظام میں جب نو مئی جیسا واقعہ ہوا ہو، وہاں بار بار اس جھوٹ کو دہرانا کہ امریکہ کے کہنے پر اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ہٹایا کوئی خاص حربہ نہیں ہے۔’البتہ یہ ضرور ہے کہ پی ٹی آئی کو سوشل میڈیا اور میڈیا کا استمال کرنا اور خبروں میں رہنا آتا ہے، اس حد تک یہ ٹھیک ہے لیکن طویل مدت میں یہ حربے سیاسی فائدہ نہیں دیں گے۔‘
