الیکشن سے پہلے تحریک انصاف ایک اور 9 مئی برپا کرے گی؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ھے کہ اھل سیاست اور ان پر نظر رکھنے والے بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کا اگلا وزیراعظم نواز شریف ہی ہوگا۔ چوتھی دفعہ وزارت عظمیٰ کا ہما نواز شریف کے سر پر ہی بیٹھے گا اور مسلم لیگ ن دو ہزار چوبیس کے عام انتخابات میں سادہ نہیں بلکہ دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی۔ تاھم ابھی الیکشن ہونے اور وزیر اعظم کا حلف اٹھانے میں بہت سے مراحل باقی ہیں۔ خوش گمان لوگوں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ اگلی سڑک پر سپیڈ بریکرز کی بھرمار ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستان کو الیکشن سے پہلے ایک اور نو مئی درپیش ہو گا۔
اپنے ایک کالم میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ بہت سے خوش گمان اور خوش بیان ابھی سے راگنیاں گانا شروع ہو گئے، بہت سے نجومی ابھی سے پیش گوئیاں کرنے لگے۔ کچھ سیاسی مفکرین ہوا کا رخ دیکھ کر فرمانے لگے ہیں کہ اگلا وزیراعظم نواز شریف ہی ہوگا۔
ملکی سیاست کی نہج کو دیکھا جائے تو نتائج بھی سمجھ میں آتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو الیکشن لڑنے کی سمجھ بھی ہے، اس کے لوگ حلقوں کی سیاست کو بھی خوب جانتے ہیں۔ وہ عوام کی رگ رگ سے بھی واقف ہیں اور اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی نبض پر بھی ان کا ہاتھ ہے۔ عدلیہ کے فیصلے بھی ان کے حق میں آ رہے ہیں اور میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہو رہا۔ یوں لگ رہا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کو ریورس گئیر لگ رہا ہے۔ لیکن ابھی جام اور ہونٹوں میں بہت فاصلہ باقی ہے۔ ابھی فتنہ عمرانیہ کے اثرات ختم ہونے میں بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا، اب آگے ایک روشن رستہ ہے وہ کسی خوش گمانی میں مبتلا ہیں۔ ان کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ اگلی سڑک پر سپیڈ بریکرز کی بھرمار ہے۔ اس کی وجہ نواز شریف یا عمران خان بالکل بھی نہیں ہیں۔ اس بات کو سمجھنا ہوگا کچھ تفصیل سے۔
عمار مسعود کے مطابق دو ہزار سترہ میں نواز شریف کی برطرفی اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کی بنیادی وجہ کیا تھی ؟ یہ گتھی جلدی سلجھ جائے گی۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف سے اختلاف تھا یا عمران خان سے بے حد الفت تھی۔ اس نفرت اور محبت کے بیوپار میں پاکستان کا سودا ہوتا رہا۔ یہ تصویر کا ایک عامیانہ رخ ہے۔ یہ بہت سطحی سی بات ہے۔ یہ بات اتنی عام فہم ہے کہ عام آدمی کے دماغ میں آ سکتی ہے لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں تھی ۔ اگر آج بھی آپ نواز شریف کے جرائم کو گننا شروع کریں تو نہ پاناما میں کچھ نکلا، نہ بیٹے سے تنخواہ لینا کوئی جرم تھا، نہ کرپشن کا کوئی داغ دامن پر تھا، نہ کسی ٹھیکے میں کوئی کمیشن پکڑا گیا۔ پہلے جنرل مشرف نے احتساب کیا پھر عمران خان اور جنرل باجوہ فائلیں کھنگالتے رہے مگر کچھ نہیں نکلا۔ اس کے باوجود نواز شریف کو بے عزت کر کے وزارت عظمیٰ سے نکال دیا گیا۔ اتنے برس گزر جانے کے بعد پتہ یہ چلا کہ نواز شریف کا واحد جرم سی پیک تھا۔ پاکستان امریکا کے شکنجے سے نکل کر چین کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا تھا۔ احسن اقبال نے گیم چینجر منصوبے کا اتنا شور مچایا کہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے گیم ہی چینج کر دی۔ عمران خان کی ذہنی قابلیت کا انہیں بہت اچھی طرح اندازہ تھا۔ انہیں پتہ تھا عمران خان نے اس ملک، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ انہیں یہ سب گوارا بھی تھا لیکن بس امریکا کے شکنجوں سے نکلنا گوارا نہ تھا۔ اسی لیے عمران خان کے دور میں سی پیک کو اتھارٹی بنایا گیا اور عاصم باجوہ المعروف پاپا جانز کو اس کا چیئرمین، جو شاہزیب خانزادہ کے ایک سوال پر اپنے سارے تمغوں سمیت ڈھیر ہوگئے۔ عمار مسعود بتاتے ہیں کہ سی پیک پر کام رک گیا۔ عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔ میڈیا، عدالتیں، سوشل میڈیا سب مثبت رپورٹنگ پر لگ گئے۔ ہر مخالف آواز کو گالیوں اور دھمکیوں سے دبایا جانے لگا۔ماضی تھا جو اب گزر چکا ہے۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اسٹیبشلنٹ اپنے تلخ تجربے سے تاریخی سبق سیکھ چکی ہے۔ عدلیہ کرپٹ ججوں سے نجات حاصل کر چکی ہے، نواز شریف پر مقدمات ختم ہو چکے ہیں، تاحیات نااہلی والی واردات ناکام ہو چکی ہے، عمران خان اپنے زہریلے بیانیے کے ساتھ جیل میں جا چکا ہے، تحریک انصاف تتر بتر ہو چکی ہے۔ انصافی بیانیے کی بات اب شیر افضل مروت تک آ چکی ہے۔ لگتا ہے قاضی، حافظ اور میاں ایک ہی پیج پر ہیں اور یہ پیج ہے جمہوریت کا اور تعمیر پاکستان کا۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود اس راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اب بھی جام اور لبوں میں بہت فاصلہ باقی ہے۔ اب بھی امریکا نواز غلامانہ ذہنیت والے لوگوں کی اس ملک میں کمی نہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بھی ہیں، عدالتوں میں بھی ہیں۔ میڈیا میں بھی گھس بیٹھیے ہیں اور سول سوسائٹی بھی انہی کے نام سے چل رہی ہے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں، جنہیں سدھارتے ہوئے بہت وقت لگے گا لیکن جانے کیوں لگتا ہے کچھ ناعاقبت اندیش اس وقت حالات کو الیکشن سے پہلے مزید خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔ انتخابات کے التوا سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا مگر انتشار پھیلانے والوں کو فتنہ پردازی کا ایک موقعہ ضرور میسر آ جائے گا۔ جانے کیوں لگتا ہے کہ پاکستان کو الیکشن سے پہلے خاکم بدہن ایک اور نو مئی درپیش ہو گا لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اس کے حامیوں کا حشر سانحہ نو مئی کرنے والوں سے بدتر ہو گا۔

Back to top button