مبشر لقمان نے فواد چودھری سے تھپڑ کھانے کی کہانی سنا دی

اینکر مبشر لقمان نے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کی کردار کشی پر ان سے زناٹے دار تھپڑ کھانے کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ولیمہ کی تقریب میں وفاقی وزیر نے انھیں پیچھے سے اوئے کہہ کر پکارا اور جب انہوں نے گھوم کر دیکھا تو فواد چودھری نے انہیں ایک تھپڑ جڑ دیا۔ مبشر نے دعویٰ کیا کہ پچھلے کچھ روز سے فواد چوہدری ایک مشترکہ دوست کے ذریعے مجھ سے صلح صفائی کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ تاہم وفاقی وزیر نے مبشر لقمان کے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے پر چانٹا کھانے والا اب بھی جھوٹ بولے چلا جارہا ہے۔
ایک انٹرویو میں مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فواد چودھری کے ہاتھ گھما کر انہیں تھپڑ رسید کرنے کے بعد وہ بھی جوابی رد عمل دینا چاہتے تھے لیکن وفاقی وزیر کے ساتھ آئے ہوئے سفید کپڑوں میں ملبوس دو تین لوگوں نے انھیں پکڑ لیا اور دھکے دینے شروع کر دئیے تاکہ وہ کوئی جوابی کارروائی نہ کر پائیں۔ مبشر لقمان نے اپنی بے بسی کا رونا روتے ہوئے بتایا کہ تھپڑ کھانے کے فورا بعد وہ تقریب میں موجود وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، گورنر پنجاب چودھری سرور اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ کس طرح فواد چودھری نے انہیں تھپڑ رسید کیا ہے۔
مبشر کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کو واقعہ کی شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں۔ مبشر لقمان نے مزید کہا کہ واقعہ کے بعد انھوں نے میسج کر کے وزیر اعظم عمران خان کو وفاقی وزیر کے شکایت کی اور بتایا کہ فواد چودھری نے انھیں بھری تقریب میں کس طرح تھپڑ مارے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھے جوابی پیغام بھیجا لیکن میں ان کے پرائیویٹ پیغام کی تفصیل پبلک نہیں کر سکتا۔ لگتا یوں ہی ہے کہ وزیراعظم نے بھی ان کی شکایت کی شنوائی نہیں کی۔
مبشر لقمان نے مزید دعویٰ کیا کہ فواد چوہدری نے انہیں ایک مشترکہ دوست کے ذریعے صلح کا پیغام بھیجا ہے۔ تاہم مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ قطعاً صلح نہیں کریں گے اور فواد چوہدری کے خلاف قانونی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تھپڑ کھانے کے بعد انھوں نے قانونی کارروائی کیلئے تھانے میں درخواست جمع کروا دی تھی لیکن تا حال واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ اندراج مقدمہ کیلئے وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کیلئے مشاورت کر رہے ہیں۔
تاہم رابطہ کرنے پر فواد چودھری نے کہا کہ مبشر لقمان نے اپنے جھوٹ کی وجہ سے تھپڑ کھایا تھا اور مار کھانے کے باوجود وہ جھوٹ بولنے سے باز نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مبشرلقمان کے خلاف اپنی ساکھ خراب کرنے پر قانونی کارروائی کریں گے اور اسکی ساتھ کسی قسم کی صلح صفائی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
تھپڑ کا جواب نہ دینے کی وضاحت کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے جان بوجھ کر ان پر ایسی جگہ حملہ کیا جہاں ان کے بچپن کے دوست محسن لغاری کے بیٹے کا دعوت ولیمہ تھا۔ اگر کوئی اور جگہ ہوتی تو وہ ضرور جواب دیتے۔
واضح رہے کہ 5 جنوری 2020 کے روز ایک تقریب میں اینکر مبشرلقمان سے آمنا سامنا ہونے پر فواد چوہدری نے مبشر سے یہ سوال کیا کہ تم نے کل رات اپنے چینل پر میرے حوالے سے بیہودہ الزامات لگائے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ میری حریم شاہ کے ساتھ ویڈیوز تمہارے پاس موجود ہیں۔ مجھے وہ ویڈیوز دکھاؤ۔ جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی ویڈیوز نہیں اور آپ پر الزام تو میرے پروگرام میں موجود مہمان صحافی نے لگائے تھا۔ اس پرفوادچوہدری آگے بڑھے اور مبشر لقمان کو یکے بعد دیگرے دائیں اور بائیں گال پر دو تھپڑ جڑ دیئے۔ زوردار تھپڑ کھاتے ہی مبشرلقمان چکراکر جہانگیر ترین کے پیروں میں گر گئے۔
اس سے پہلے 4 جنوری کی رات مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر پروگرام کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ مستقبل قریب میں دو وفاقی وزراء کی حریم شاہ اور صندل خٹک کے ساتھ نازیبا ویڈیو لیک ہونے جارہی ہیں جن میں چوہدری فواد بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ مبشر لقمان کو تھپڑ مارنے کے بعد فواد چوہدری نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس شخص کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک صحافتی طوائف ہے جو صحافت کے مقدس پیشے سے وابستہ دوسرے صحافیوں کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہے۔ فواد کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے صحافت کے پیشے میں موجود کالی بھیڑوں کی ٹھکائی کا فریضہ ان کے ذمے لگا رکھا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اسے سرانجام دیتے رہیں گے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button