متنازع اینکر وقار ذکا کے خلاف گھیرا تنگ ہو گیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے متنازع اینکر وقار ذکا کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ نے کروڑوں روپے مالیت کے بٹ کوائن سکینڈل میں ملوث وقار ذکا کے دائمی وارنٹ جاری کروا کر انٹر پول کے ذریعے امریکہ سے پاکستان واپس لانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔  واضح رہے کہ ٹی وی میزبان وقار ذکا کئی برسوں سے کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے معلومات بھی دیتے رہتے ہیں، لیکن گزشتہ برس ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کراچی میں اپنے خلاف کیس درج ہونے کے بعد سے وہ ملک سے باہر ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ سندھ شہزاد حیدر کے مطابق وقار ذکا کے خلاف کیس میں جلد ہی حتمی چالان پیش کردیا جائے گا، جس کی منظوری دی جاچکی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ عدالت سے ان کے دائمی وارنٹ حاصل کرکے مکمل کیس فائل کے ساتھ انٹر پول کو ارسال کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ معلومات کے مطابق گزشتہ برس کے آغاز میں درج ہونے والے اس مقدمہ میں حال ہی میں تب اہم پیش رفت ہوئی جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سندھ کے افسران کی کوششوں سے کراچی کی مقامی عدالت نے 8 کروڑ 60 لاکھ کے مبینہ کرپٹو کرنسی اسکینڈل میں وقار ذکا کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ رمیش کمار کی عدالت میں سماعت کے دوران ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی گئی تھی کہ وقار ذکا کو پیش کریں۔ گزشتہ برس جب یہ معاملہ انکوائری تک محدود تھا تب کیس کے انکوائری افسر اور حکام بالا نے وقار ذکا سے بیانات لینے کا جواز پیش کرکے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی کے آفس میں موصوف سے کئی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران وقار زکا اور ایف آئی اے حکام کے مابین ذاتی کا تعلق بن گیا چنانچہ وقار کے جن اکاؤنٹس کو منجمد کیا گیا انہیں ایک روز کے لئے کھول دیا گیا اور بھاری رقوم بیرو ۔ملک منتقل کردی گئیں۔ اس ریلیف کے عوض چند افسران نے نا صرف رشوت وصول کی بلکہ وقار زکا کے ذریعے بٹ کوائن کا کاروبار بھی شروع کر دیا۔ جب یہ تفصیلات سامنے آئیں تو ایف آئی اے حکام نے کم از کم 3 افسران کو معطل کر دیا تھا۔

وقار زکا کے خلاف کیس کی آخری سماعت میں ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے بیان جمع کرایا تھا کہ عدالت کی جانب سے 22 دسمبر کو جاری کئے گئے وارنٹ ملزم تک نہیں پہنچائے جاسکے، کیونکہ امریکہ میں ان کی رہائش کا مقام غیر واضح ہے۔ بعد ازاں ایڈووکیٹ صلاح الدین پنہور نے عدالت میں پیش ہو کر وقار ذکا کے دستخط اور نیویارک میں قائم پاکستانی سفارت خانے سے تصدیق شدہ پاور آف اٹارنی جمع کرادی تھی۔ جبکہ ان کے وکیل نے درخواست جمع کراتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے مؤکل عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں امریکہ میں موجود ہیں لہٰذا ان کو پیش ہونے سے استثنیٰ دیس جائے۔ مجسٹریٹ نے نشاندہی کی تھی کہ ملزم عدالت میں پیش ہوئے ہیں نہ ضمانت کے لیے کسی عدالت سے رجوع کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق اس سماعت سے قبل عدالت نے ابتدائی طور پر دسمبر کے آخر میں 8 کروڑ 60 لاکھ روپے کرپٹو کرنسی اسکینڈل میں متنازع اینکر وقار ذکا کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔ جس میں ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کی وصولی پر وقار ذکا کے خلاف ایک انکوائری شروع کردی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران ان کے بینک اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 61 لاکھ روپے آئے اور 8 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کیے گئے اور اسی طرح بینک اسٹیٹمنٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کے بینکوں میں پیسے بیرونی ترسیلات اور چیک کے ذریعے آئے۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ باہر سے آنے والی رقم خاندان کے مختلف اراکین کے اکاؤنٹس میں انٹرنل ٹرانسفر کے ذریعے نکالی جاتی تھی۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ وقار ذکا سوشل میڈیا کو بظاہر فلاحی مقاصد اور انٹرنیشنل فنڈنگ کے لیے استعمال کرتے تھے، جس کے ذریعے انہوں نے 68 لاکھ حاصل کیے اور بینکوں سے رقم پے آرڈر یا انٹربینک فنڈ ٹرانسفر کے ذریعے نکالی۔ ایف آئی اے نے الزام عائد کیا کہ پبلک ڈیٹا بیس میں درجنوں خبریں، بلاگز اور ویڈیوز پائی گئیں، جس سے وقار ذکار کی کرپٹو کرنسی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ انکوائری کے دوران بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی سے متعلق پوسٹس ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں پائی گئی، ملزم نے بٹ کوئن جیسی کرپٹو کرنسی کو فروغ بھی دیا۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ بینک اور اداروں کے ریکارڈز کی نقول اور زبانی شواہد کی صورت میں حاصل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ اخذ کیا گیا کہ ملزم بینکوں کے قواعد و ضوابط اور ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کی تجارت اور فنڈز کی منتقلی اور منافع حاصل کرنے کی غرض سے ورچوئل اثاثوں کے لیے سہولت کاری میں فراڈ اور بددیانتی کرتے پایا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ انکوائری شروع کرنے کے بعد ملزم کو طلب کیا گیا تو انہوں نے ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کردیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف قابل اعتراض مواد نشر کرنے اور بیانات دینے سمیت سرکاری عہدیداروں کو دھمکانے اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کا بھی مرتکب پایا گیا۔ چنانچہ اب ایف آئی اے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ وقار زکا کو امریکہ سے پاکستان لانے کے لیے انٹرپول کی مدد لی جائے۔

Back to top button