محسن داوڑ کی اپوزیشن اتحاد سے علیحدگی PDM کا نقصان


سیاسی تجزیہ کار پشتون حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ سے علیحدگی کے فیصلے کو اپوزیشن اتحاد کیلئے نقصان دہ قراردے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق محسن داوڑ کے فیصلے سے موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد کو ہی ذیادہ نقصان پہنچے گا گو کہ محسن داوڑ نے اتحاد کے اغراض و مقاصد کی اب بھی تائید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی عدم شرکت لامحالہ اتحاد کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی۔
واضح رہے کہ محسن داوڑ نے 25 نومبرکی رات ایک ٹوئٹ میں اپنے اس فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنہوں نے اپنے دوستوں اور رفقا سے مشورے کے بعد پی ڈی ایم کے جلسوں میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنہوں نے بطورِ خاص بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا جن کی دعوت پر وہ ستمبر میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔پشتون رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ذاتی حیثیت میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی اجازت سے ان جلسوں میں شریک ہو رہے تھے۔بعد ازاں محسن داوڑ نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے علیحدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حکومت مخالف سیاسی اتحاد کے بیانیے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محسن داوڑ نے کہا کہ ان کے پی ڈی ایم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر چند سیاسی جماعتوں کے رہنما خفا دکھائی دیتے تھے۔ البتہ اُنہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام لینے سے گریز کیا۔
گو کہ پی ڈی ایم کی طرف سے محسن داوڑ کے اس فیصلے پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن معروف سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ محسن داوڑ کا یہ فیصلہ پی ڈی ایم کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ محسن داوڑ جس تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں، وہ قبائلی اضلاع اور بالخصوص پشاور میں ایک مؤثر تنظیم ہے۔ محسن داوڑ کی حکومت مخالف تحریک سے نکلنے کے بعد پی ڈی ایم کی آواز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے الگ ہونے کی بجائے مزید جماعتوں کو شامل ہونا چاہیے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو محسن داوڑ کی جلسوں میں شرکت پر اعتراض تھا۔ کیوںکہ یہ جماعتیں بھی پشتونوں میں اپنا ووٹ بینک رکھتی ہیں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور پی ڈی ایم کے ترجمان میاں افتخار حسین نے محسن داوڑ کے بیان اور مؤقف پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
جبکہ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف اکرم خان درانی نے کہا کہ محسن داوڑ جمعیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پشتون تحفظ تحریک کے فیصلے کے نتیجے میں اپوزیشن اتحاد سے الگ ہوئے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم بطور جماعت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ نہیں بنی تھی، بلکہ محسن داوڑ انفرادی حیثیت میں پی ڈی ایم کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔
واضح رہے کہ ملک بھر کی پشتون آبادی میں پی ٹی ایم کو کافی مقبولیت حاصل ہے اور کئی قوم پرست، سوشلسٹ اور ترقی پسند خیالات کے افراد اس جماعت کی حمایت کر رہے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے تعلق رکھنے والے بعض رہنما بھی اس تحریک سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ اس جماعت کے تعلقات حالیہ عرصے میں تناؤ کا شکار رہے ہیں۔
دوسری طرف اس طرح کی افواہیں بھی گردش میں ہیں کہ محسن داواڑ شاید پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلاول بھٹو محسن داوڑ کے ساتھ کافی محبت سے پیش آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرکے قومی دھارے کی سیاست میں آ جایئں۔ تاہم محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ابھی انہوں نے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وقت آنے پر مشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ محسن داوڑ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ہیں لیکن وہ اسمبلی میں آزاد حیثیت سے اپوزیشن میں ہیں۔ اپوزیشن کے ذرائع کے مطابق 17 نومبر کو پی ڈی ایم کے اجلاس میں قبائلی علاقوں کے انضمام اور میران شاہ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے آخری جلسے پر مولانا فضل الرحمان اور محسن داوڑ کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے اور تلخ گفتگو بھی ہوئی تھی۔ مولانا نے اس اجلاس میں قبائلی علاقوں کے انضمام کو بین الاقوامی قوتوں کی سازش قرار دیا اور پی ٹی ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کو شمالی وزیرستان میں جلسے کی اجازت دی گئی تھی لیکن ان کی جماعت کو وزیرستان میں جلسے کی اجازت نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمان کی ان باتوں کے جواب میں محسن داوڑ نے فاٹا کے انضمام کو قبائلی عوام کی خواہش کے عین مطابق قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی ایم نے وزیرستان میں سارے جلسے حکومتی اجازت کے بغیربزور بازو پر منعقد کئے اور مولانا بھی یہ کوشش کر سکتے ہیں۔محسن داوڑ کے جواب پر مولانا سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے ان کی پی ڈی ایم اجلاس میں شرکت پر سوال اُٹھاتے ہوئے پوچھ لیا کہ سیاسی پارٹیوں کے اس اجلاس میں وہ کس جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جواب میں محسن داوڑ نے بتایا تھا کہ وہ آزاد حیثیت سے پہلے ہی دن سے ان پارٹیوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں کل دس سیاسی جماعتیں ہیں اور محسن داوڑ کے ساتھ پی ٹی ایم لکھ کر یہ گیارہ جماعتیں بن گئی تھی۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان نے محسن داوڑ کی شرکت پر اس لیے سوال اٹھایا تھا کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں ہے تو وہ کیسے پی ڈی ایم میں شرکت کر سکتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سے پشتون تحفظ موومنٹ وجود میں آئی ہے کئی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو بھی اس موومنٹ سے اختلافات ہیں اور اس کی بڑی وجہ اس نے سابقہ قبائلی علاقوں میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو سیاسی طور پر ٹف ٹائم دیا ہے۔ اگرچہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی تحریک پارلیمانی سیاست میں کبھی حصہ نہیں لے گی لیکن پھر بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو تشویش ہے۔ اگرچہ پشتون تحفظ موومنٹ نے سابقہ قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام پر کوئی باضابطہ موقف اختیار نہیں کیا تھا لیکن محسن داوڑ ذاتی حیثیت سے اس انضمام کے حق میں تھے اور ابھی تک اس پر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ فاٹا کے انضمام پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اس کے حق میں جبکہ جمعیت علما اسلام (ف) اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی اس کے خلاف تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button