محکمہ زراعت نے شمالی علاقوں کی سیر کے لئے ایک اور صحافی اٹھالیا


اسلام آباد کے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا اور شمالی علاقہ جات کی مختصر سیر کے بعد اب جیو نیوز سے وابستہ کراچی کے ایک صحافی سید علی عمران کو اس جرم میں شمالی علاقہ جات کی جبری سیر کے لیے اغوا کرلیا گیا ہے کہ انہوں نے کراچی کے ایک ہوٹل سے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو بریک کی تھی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ علی عمران سید کو انہی لوگوں نے اغوا کیا ہے جنہوں نے کیپٹن صفدر کو گرفتار کروایا تھا۔
علی عمران کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ انکے شوہر 23 اکتوبر کی شام کو گھر سے گلی کی نکڑ پر واقع بیکری سے ناشتے کا سامان لینے کے لیے گئے لیکن پھر واپس نہیں آئے۔ علی عمران کی گاڑی گھر کے باہر کھڑی پائی گئی جبکہ ان کا موبائل گھر پر موجود تھا۔ جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے ایک ٹوئٹ میں کنفرم کیا ہے کہ علی عمران سید پتہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان کی جلد اور بحفاظت بازیابی کی امید کرتے ہیں۔ کراچی میں جیو نیوز کے بیورو چیف فہیم صدیقی نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’علی عمران کا گھر گلستانِ جوہر میں ہے۔ پولیس نے رات کو ہم سے درخواست لی تھی تاہم 24 اکتوبر کو18 گھنٹے بعد ایف آئی آر درج کی گئی ہے. سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ علی عمران سید کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ’وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی سندھ سے بات کی ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ آپ کو پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔‘
اس دوران علی عمران کی اہلیہ کی ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ’ گھر سے کہہ کر گئے تھے کہ میں آدھے گھنٹے میں آ رہا ہوں۔ اس کے بعد سے ابھی تک نہیں آئے۔ ان کا موبائل گھر پہ ہے گاڑی بھی گھر کے باہر کھڑی ہے۔’ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ کیا کہہ کر نکلے تھے آپ سے تو انھوں نے بتایا کہ علی نے مجھے کہا کہ میں ابھی آرہا ہوں بسکٹ لے کر۔ خاتون کہتی ہیں کہ بیکری سڑک کے کونے پر ہے وہاں سے جو رستہ ہے وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ کا نہیں ہے۔
علی عمران سید کی گمشدگی کی اطلاع ٹویٹر پر شیئر کی جا رہی ہے جب کہ اس وقت ان کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ ایک ہیش ٹیگ #BringBackAliImran بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ زیادہ تر ٹوئٹر صارفین کا یہی شک ہے کہ علی عمران کو ایجنسیوں نے اغوا کیا ہے اور شمالی علاقہ جات کی سیر کو لے گئی ہیں۔ یاد رہے کہ علی عمران وہی صحافی ہیں جنھوں نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو جاری کی تھی۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعے کی انکوائری کا حکم جاری کر چکے ہیں اور کور کمانڈر کراچی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا آپریشن آئی ایس آئی کراچی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر حبیب نے تیار کیا تھا جس پر ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر کی مدد سے عملدرآمد کیا گیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق دونوں سینئر افسران کو ان کی ہائی کمانڈ کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ اب یہ طے ہونا ہے کہ جونیئر افسران کو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے احکامات اپنے سینئرز کی طرف سے آئے تھے یا کوئی اور کہانی ہے۔
دوسری طرف سینئر صحافی حامد میر نے علی کی گمشدگی کی مذمت کی ہے اور کہا کہ کیا انھیں اغوا کیے بغیر ان سے سوال نہیں کیے جا سکتے تھے؟ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست پاکستان میں ریاست سے بالا تر ریاست موجود ہے اور موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے صحافیوں کے اغواء کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو اغوا کیا گیا ہے جس نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی فوٹیج جاری کی تھی جس پر آرمی چیف بھی انکوائری کا حکم دے چکے ہیں۔ خیال رہے کہ نجی ہوٹل سے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر سندھ میں بھی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں جن کی رپورٹس آنا ابھی باقی ہے۔
دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ علی عمران کے بارے میں فوری طور پر پتہ لگائیں وہ کہاں ہیں۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ادارے کا کہنا ہے کہ ’جیو نیوز کے صحافی علی عمران گذشتہ روز سے کراچی میں لاپتہ ہیں۔ یہ خدشہ ہے کہ انھیں ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے زبردستی لاپتہ کیا گیا ہے۔‘ اس معامکے پر صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ علی عمران نے فلسطین اور برما جا کر رپورٹنگ کی لیکن اسرائیلی فوج نے انھیں اغوا نہیں کیا اور برما سے بھی وہ بچ نکلے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے شہر میں رپورٹنگ کی سزا یہ ملی کہ پیشہ ور اغوا کاروں نے اغوا کر لیا۔‘ اینکر پرسن سلیم صافی نے ٹوئٹ کی کہ بہتر ہے پاکستان کا نام اغوانستان رکھ لیں۔ یاد رکھئے اناؤں کی تسکین کے لیے اغواؤں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس ملک کو خانہ جنگی سے کوئی نہی روک سکے گا۔ ان کی ٹویٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ایک اور سینئیر صحافی فہد حسین نے اس خبر پر حیرت اور صدمے کا اظہار کیا اور ان کی رہائی پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ صحافت کوئی جرم نہیں ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ بھائی لوگ علی عمران سید کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ کیا وہ انہیں رہا کر دیں گے یا کچھ اور سلوک کریں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button