مدارس میں بڑھتی ہوئی لونڈے بازی کی وجہ کیا؟


اسلامی تعلیم کا فریضہ سرانجام دینے والے دینی مدارس میں اساتذہ کے ہاتھوں طالبعلموں کے ساتھ لونڈے بازی جیسے قبیح جنسی جرائم کے پے درپے واقعات سامنے آ رہے ہیں جنکی بڑی وجہ ان مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کسی قسم کے نظام کی غیر موجودگی ہے۔
حالیہ دنوں مدرسوں میں شاگردوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد والدین اور باشعور شہریوں کے ذہن میں یہ سوال جنم کے رہا ہے کہ اگر ہمارے بچے دینی درس گاہوں میں بھی محفوظ نہیں تو پھر ان کی تربیت کیسے ممکن ہو پائے گی؟ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق پاکستان میں اس وقت ان کی تصدیق شدہ 228 یونیورسٹیاں ہیں جو ہر سال چار لاکھ سے زیادہ گریجویٹس تیار کرتی ہیں جبکہ ملک بھر کے بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، شیعہ اور جماعت اسلامی کے مدارس کے الگ الگ بورڈز کی مشترکہ تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے مطابق اس وقت ملک ان کے زیر نگرانی 33 ہزار سے زائد مدارس میں 20 لاکھ سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں۔
پاکستان کی یونیورسٹیوں میں جنسی جرائم کی شکایت اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے اساتذہ اور انتظامیہ پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی ہوتی ہے جو طلبا کے ساتھ پیش آنے والے جنسی جرائم کی تحقیقات کرتی ہے اور اس کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔تاہم وفاق المدارس العربيہ اور وفاق المدارس الشیعہ کے زیر نگرانی چلنے والے دینی مدارس میں انسداد جنسی ہراسانی کا کوئی شعبہ موجود ہی نہیں۔
بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے ساحل کے مطابق گذشتہ سال دینی مدرسوں میں باریش اساتذہ کے ہاتھوں شاگردوں کے ساتھ لونڈے بازی کے 42 کیسز رپورٹ ہوئے۔ یہ تمام واقعات یا تو مدرسوں میں یا مساجد میں پیش آئے۔ وفاق المدارس کے میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کا کہنا ہے کہ وفاق المدارس العربیہ میں جنسی ہراسانی سے متعلق خصوصی کمیٹیاں تو موجود نہیں البتہ ہر ضلعے کی سطح پر تنظیم کی ملک گیر انتظامی کمیٹیاں موجود ہیں جہاں مدارس کے طلبا اس قسم کی شکایات لے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ ہر مدرسے کی اپنی انتظامیہ بھی ہوتی ہے جسے ان واقعات سے متعلق آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا ’یہ مسئلہ صرف مدارس کا نہیں بلکہ یہ واقعات عام یونیورسٹیوں اور سکولوں میں بھی پیش آ رہے ہیں لہٰذا اس کا تعلق مذہب یا مدرسے سے نہیں بلکہ معاشرے سے ہے اور ہمارے مدارس اور اس میں پڑھانے اور پڑھنے والے بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔
طلحہ رحمانی کا کہنا تھا کہ وفاق المدارس کے زیر نگرانی 30 ہزار سے زائد مدارس ہیں جن سے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ علما اور 25 سے 30 لاکھ طلباء منسلک ہیں۔ مولانارحمانی کا کہنا تھا کہ لہازا ایک مدرسے میں پیش آنے والے واقعے کی بنیاد پر تمام مدرسوں پر الزام لگا دینا مناسب نہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ لاہور کے جامعہ منظور الاسلامیہ میں لونڈے بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے دیگر دینی مدارس میں ہونے والی جنسی زیادتیوں کے واقعات کی درجنوں مذید ویڈیوز بھی وائرل ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تر اساتذہ اپنے شاگردوں کو جنسی ہوش کا نشانہ بناتے نظر آ رہے ہیں۔
ترجمان وفاق المدارس العربیہ کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں جنسی جرائم کا سدّ باب کرنے کے لیے اگر حکومت کوئی لائحہ عمل پیش کرتی ہے تو ان کی تنظیم ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ وفاق المدارس الشیعہ سے فقہ جعفریہ کے 508 مدارس منسلک ہیں جن میں 18 سے 20 ہزار طلبا زیر تعلیم ہیں۔ وفاق المدارس الشیعہ کے جنرل سیکرٹری علامہ افضل حیدری کا کہنا ہے کہ ان کے مدارس میں جنسی جرائم کی تحقیقات کے لیے کوئی کمیٹی یا نظام موجود نہیں لیکن اس قسم کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف تنظیم پاکستان کے قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لاتی ہے۔ علامہ محمد افضل حیدری کا کہنا ہے طلبا کے خلاف بڑھتے جنسی جرائم کی روشنی میں اب ان کی تنظیم اس کے خلاف باقاعدہ جامع نظام اور ضابطہ کار لانے پر غور کر رہی ہے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ حکومت نے وفاق المدارس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے مدارس کے احتساب کے لیے خود ایک نظام تجویز کریں جس کے ذریعے وہاں لونڈے بازی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ جس طرح یونیورسٹیوں میں جنسی ہراس کی شکایات سے نمٹنے کے لیے ایک یکساں نظام موجود ہے اسی طرح ان مدارس میں بھی ایک مستقل نظام اور ضابطہ کار موجود ہو تاکہ اس کے مطابق ان شکایات کی تحقیقات ہو سکیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

Back to top button