مذہبی راہنما لونڈے باز مولوی بارے کیوں خاموش ہیں؟

لاہور کینٹ کے ایک معروف دینی مدرسے جامعہ منظور الاسلامیہ میں ایک استاد کی جانب سے اپنے شاگرد کے ساتھ سالہا سال جنسی زیادتی کا معاملہ سامنے آنے کے کئی روز بعد بھی اب تک کوئی جلوس نہیں نکلا، کسی دینی مدرسے کا گھیراؤ نہیں ہوا، کسی عالم نے کوئی چنگھاڑتا ہوئی تقریر نہیں کی، کسی نے زہر میں بجھی ہوئی ٹویٹ نہیں کی، کسی نے شرعی سزاؤں کے نفاذ اور عملدرآمد کا مطالبہ نہیں کیا، کسی نے جمعے کے خطبے میں ملزم کا نام لے کر اس کے گھناؤنے جرم پر فتویٰ صادر نہیں کیا اور تحفظ دین کے کسی داعی کے ذہن میں ملزم کی گرفتاری تک دھرنا دینے کا خیال تک نہیں آیا۔ کیوں؟
یہ سوال معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ نے اٹھایا ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسکی وجہ ہم سب کو معلوم ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ گھناونا واقعہ کسی جدید انگریزی اسکول میں پیش نہیں آیا، ملزم کا تعلق کسی اقلیتی برادری سے نہیں ہے، واقعے میں کوئی اداکار یا شو بز کا کوئی شخص ملوث نہیں ہے اور واقعے میں کسی نام نہاد لبرل شخص کا ذکر نہیں ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا تو اب تک ملزمان کو بغیر کسی ٹرائل کے بھٹی میں جھونک دیا گیا ہوتا یا ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا ہوتا یا ان کے خلاف کفر کا فتوی ٰ جاری کر دیا گیا ہوتا۔ یاسر کہتے ہیں لیکن چونکہ معاملہ ستر برس کے باریش مفتی صاحب کا ہے اس لیے سب کی زبانوں پر آبلے پڑ گئے ہیں، یکایک ہمارے دوستوں کے قلم کی سیاہی بھی خشک ہو گئی ہے، وہ مذہبی رہنما جو چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی ہماری گوشمالی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اب یوں خاموش ہو گئے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، اب کہیں سے یہ تاویل بھی نہیں آ رہی کہ اگلے روز آنے والا زلزلہ دراصل اس مکروہ گناہ کا نتیجہ تھا اور تو اور اب کسی کو سورۃ لوط کی آیات بھی یاد نہیں آ رہیں۔
اس واقعے کی ایف آئی آر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، یہ ایف آئی آر ایسی ہے کہ اس کے مندرجات یہاں نقل نہیں کیے جا سکتے، صرف اتنا لکھا جا سکتا ہے کہ یہ ایف آئی آر صابر شاہ نامی مدرسے کے ایک طالب علم نے مفتی عزیر الرحمن کے خلاف کٹوائی ہے۔ صابر شاہ جامعہ منظور الاسلامیہ صدر، لاہور میں زیر تعلیم تھا، وہاں مفتی عزیز الرحمن نے مسلسل ڈھائی تین سال تک اس کے ساتھ بدکاری کی اور اب اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد صابر شاہ کو قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ مفتی عزیز الرحمٰن نے گرفتاری کے بعد اپنے گھناؤنے جرم کا اقبال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھٹک گیا تھا اور معافی کا خواستگار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان ایک دو مرتبہ بھٹک سکتا ہے، موصوف مفتی صاحب تو کئی سال بھٹک بھٹک کر یہ گھناؤنی واردات ڈالتے رہے۔
یاسر پیرزادہ لکھتے ہیں کہ مفتی صاحب کی جانب سے بد کاری کے دوران کیا کچھ کی جاتا رہا، میرا قلم یہ لکھنے سے قاصر ہے۔ اگر اس قسم کا واقعہ کسی با پردہ لڑکی کے ساتھ مغربی طرز کے کسی کالج میں پیش آیا ہوتا اور ملزم کلین شیو ہوتا تو اب تک ’انصاف‘ ہو چکا ہوتا۔ مگر یہاں حال یہ ہے کہ مفتی صاحب نے ڈنکے کی چوٹ پر ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا ہے جس میں وہ بدکاری کی توجیہہ دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ’اس فعل کے دوران کوئی جبر نہیں ہے اور لڑکا آزادانہ اپنا ویڈیو خود بنا رہا ہے‘ ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یاسر کا کہنا یے کہ جب بھی اس قسم کا معاملہ سامنے آتا ہے تو مذہبی جھکاؤ رکھنے والے ہمارے دوستوں کی جانب سے فوراً کچھ تاویلات سامنے آ جاتی ہیں جو کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ’ہم نے تو واقعے کی مذمت کر دی ہے، پولیس نے ایف آئی آر کاٹ دی ہے، اب قانون اپنا راستہ لے گا، ہم کب اس کا دفاع کر رہے ہیں، عدالت سے ملزم کو سزا مل جائے گی لہذا اس ایک واقعے کی آڑ میں مدرسوں کو بدنام نہ کیا جائے، اس سے کہیں زیادہ گھناؤنے واقعات مغرب میں ہوتے ہیں۔‘ وغیرہ۔
یاسر کہتے ہیں، معذرت کے ساتھ، ان تاویلات میں کوئی دم نہیں۔ یہ کہنا کہ ہم کب اس واقعے کا دفاع کر رہے ہیں یا ہم اس کی مذمت کر چکے ہیں، کافی نہیں۔ اگر کوئی اس واقعے کی مذمت نہیں کرے گا تو کیا اس کا دفاع کرے گا؟ یہ تو ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ یہ درست ہے کہ ایف آئی آر کٹ چکی اور قانون اپنا راستہ لے گا مگر کیا یہی روش ہم دیگر معاملات میں بھی اپناتے ہیں؟ باقی معاملات میں تو ہم خود قانون ہاتھ میں لے کر بندے کو ’کیفر کردار‘ تک پہنچاتے ہیں، شہر کا شہر مفلوج کر دیتے ہیں، پولیس کے جوان شہید کر دیتے ہیں، اقلیتوں کی بستیوں کو آگ لگا دیتے ہیں، اب قانون کا سبق کیوں یاد آ گیا؟ لیکن چلیے اچھی بات ہے، امید ہے کہ آئندہ باقی معاملات میں بھی یہ سبق یاد رہے گا۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ جب ہم شدت پسندانہ بیانیے کی ترویج کرتے ہیں تو یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں تشدد کا ماحول جنم لے گا جس میں بغیر کسی ٹرائل کے ملزم کے قتل کو جائز سمجھا جائے گا۔
یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ جب ایسا کوئی پرتشدد واقعہ ہوتا ہے تو پھر ہم محض یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ نہیں کر سکتے کہ یہ بات قابل مذمت ہے تاوقتیکہ ہمارے قلم سے اسی طرح پھنکارتے ہوئے الفاظ نہ نکلیں جیسے شدت پسندانہ بیانیہ تشکیل کرتے وقت نکلتے تھے۔ یہ دلیل درست ہے کہ محض چند واقعات کی آڑ میں مدرسوں میں کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے مگر پھر یہی رعایت جدید اسکولوں کو بھی ملنی چاہیے، اس وقت تو ہم سب مغرب زدہ کہہ کر ان تعلیمی اداروں پر پل پڑتے ہیں جب ایسا کوئی واقعہ وہاں رپورٹ ہوتا ہے۔ یاسر۔کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ وفاق المدارس اور دیگر جید علما اس واقعے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور جلد ایسے ٹھوس اقدامات کا اعلان کریں گے جن کے ذریعے مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا تدارک کیا جا سکے گا۔ اس ضمن میں کیتھولک چرچ کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں بھی جب ایسے واقعات رپورٹ ہوئے تو چرچ نے نہ صرف معافی مانگی بلکہ متاثرین کو ہرجانے بھی ادا کیے گئے۔ ہم بھی یہ پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں۔
