مرنے والوں کے لیے 85 لاکھ فی کس کی بجائے صرف 10 لاکھ کیوں؟

وفاقی حکومت نے کراچی طیارہ حادثے میں اپنی جانیں گنوانے والے مسافروں کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے فی کس مالی معاوضے کا اعلان کیا ہے حالانکہ ہوائی سفر ایکٹ مجریہ 2012 کے تحت اندرون ملک پرواز کے مسافروں کو حادثاتی موت پر پچاس لاکھ روپے معاوضہ دیا جانا چاہیئے۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثے کے بعد مستعفی ہو کر آزادانہ انکوائری کا راستہ ہموار کرنے کی بجائے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر انکوائری کے بعد پی آئی اے انتظامیہ قصوروار ثابت ہوئی تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ طیارہ حادثے میں اپنی جانیں گنوانے والے ہر مسافر کے ورثا کو دس لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ مانٹریال کنونشن 1995 کے تحت پاکستان سمیت تمام ممالک ہوائی حادثے میں ہلاکت پر مسافروں کے ورثا کو غلام سرور خان کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے کی رقم سے چار گنا زیادہ معاوضہ ادا کرنے کے پابند ہیں۔ انٹرنیشنل مسافر کا الگ اور ڈومیسٹک مسافر کا الگ معاوضہ دیا جانا چاہئیے۔ پاکستان نے مانٹریال کنونشن پر دستخط کے بعد 2012 میں ہوائی سفر ایکٹ منظور کیا تھا جس کے تحت اندرون ملک مسافر کو حادثاتی موت پر پچاس لاکھ روپے معاوضہ دیا جانا تھا۔ مزید برآں ہر تین سال بعد اس معاوضہ میں اضافہ کیا جانا تھا۔ جو کہ 2015اور 2018 میں ہونا تھا لیکن محکمہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایسا نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔ جب 2012 میں ہوائی سفر ایکٹ منظور ہوا تو تب امریکی ڈالر کی قدر 98 روپے تھی اور اب 158 روپے ہے۔ اس لحاظ سے آج یہ معاوضہ 50 لاکھ کی بجائے تقریبآ 85 لاکھ روپے فی مسافر بنتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ معاوضہ PIA نہیں بلکہ اس کی انشورنس کمپنی دیتی ہے جو کہ برطانیہ میں رجسٹرڈ ہے۔ ماضی میں حادثات کے بعد اس انشورنس کمپنی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کے لیگل برانچ کے عملہ سے ملی بھگت کر کے کبھی بھی مرنے والے مسافروں کے ورثا کو پوری رقم بطور معاوضہ ادا نہیں کی۔ یعنی ماضی قریب میں ائیر بلیو اور بھوجا ائیر لائن حادثات کے مرحوم مسافروں کے خاندانوں کو قانون سے لاعلمی کی بنا پر محض دس لاکھ روپے فی کس معاوضہ دے کر ٹرخایا گیا۔ پی آئی اے انتظامیہ کبھی اپنے کلائنٹ یعنی مسافر کے ساتھ نہیں، بلکہ برطانوی انشورنس کمپنی کا ساتھ دیتی نظر آتی ہے۔ ملتان میں پی آئی اے فوکر جہاز حادثہ کے ورثا کو جس میں لاہور ہائیکورٹ کے دو جج صاحبان بھی ہلاک ہو گئے تھے، محض دس لاکھ روپے فی کس معاوضہ دیا گیا۔
تحریک انصاف کے ایم این اے ریاض فتیانہ کے مطابق قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی براۓ قانون و انصاف نے 2019 میں ایک مرحوم مسافر ڈاکٹر الطاف احمد، جو کہ بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کے مشہور سائکاٹرسٹ تھے، کی اہلیہ کی تحریری شکایت پر میری صدارت میں بطور چییرمین قائمہ کمیٹی، پبلک ہیرنگ کی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ کراچی نے بھی ان کے ورثا کو بطور انٹرنیشنل مسافر معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ دیا تھا، کیونکہ مسافر ڈاکٹر الطاف ملتان سے لاہور اور پھر وہاں سے کینیڈا ایک ہی ٹکٹ پر تسلسل سے سفر کر رہا تھا لیکن ابھی تک انشورنس کمپنی نے اس فیملی کو اسکا حقیقی معاوضہ ادا نہیں کیا۔ ریاض فتیانہ کے بقول لہذا پاکستان میں ہوائی جہاز کے حادثہ میں ہلاک مسافروں کے لواحقین کو قانون کے مطابق معاوضہ ادا کرنے کا ریکارڈ انتہائی خراب ہے اور حکومت کو تازہ حادثے کے بعد اس معاملے کا سیریس نوٹس لینا ہو گا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ریاض فتیانہ کی PTI حکومت نے بھی سابقہ ریکارڈ برقرار رکھتے ہوئے دس لاکھ روپے فی مسافر معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے حالانکہ اصل میں یہ معاوضہ پچاسی لاکھ روپے فی کس بنتا ہے۔
