پی آئی اے انتظامیہ کا طیارہ حادثے بارے سازشی نظریہ

پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے کراچی طیارہ حادثے کی ذمہ داری پائلٹ پر ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں اور اب اس مضحکہ خیز خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ شاید پائلٹ روزے کی حالت میں ہونے کی وجہ سے اپنے مکمل ہوش و حواس میں نہیں تھا جس وجہ سے وہ لینڈنگ کے وقت جہاز کے پہیے کھولنا بھول گیا ہو۔
معلوم ہوا ہے کہ پاکستان ایئر فورس سے تعلق رکھنے والے پی آئی اے کے چیئرمین اور حادثے کی تحقیقات کے لیے ان کے نامزد کردہ ایئر فورس افسران پر مبنی ٹیم یہ سازشی نظریہ بیچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پائلٹ روزے کی حالت میں ہونے کی وجہ سے لینڈنگ گیئر کھولنے بھول گیا ہو جس کے بعد رن وے پر رگڑیں کھا کر جہاز دوبارہ فضا میں بلند ہوا تو اسکے دونوں انجن ناکارہ ہوگئے اور وہ گر کر تباہ ہو گیا۔ تاہم پائلٹ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لینڈنگ کرتے وقت ایک سینئر پائلٹ جہاز کے پہیے کھولنا بھول جائے اور اگر جہاز کا پائلٹ سجاد گل روزے کی حالت میں تھا تو انکا معاون پائلٹ بھی تو ساتھ موجود تھا۔
پائلٹ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی انتظامیہ ہمیشہ کی طرح جہاز کی تباہی کی ذمہ داری پائلٹ پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ پائلٹ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا اصرار ہے کہ جب جہاز نے پہلی دفعہ رن وے پر لینڈ کیا تو اس کے پچھلے پہیے کھلے لیکن اگلا پہیہ نہ کھلا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پچھلے پہیے نہ کھلتے تو جہاز لینڈ ہی نہیں کر سکتا تھا، پائلٹ نے طیارے کو دوبارہ فضا میں اسی لیے بلند کیا کہ اس کا اگلا پہیہ نہیں کھل سکا تھا اور اسکی باڈی اور دونوں انجنوں نے رن وے پر رگڑ کھانا شروع کردی تھی۔
پائلٹ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر کے بارے میں سوالات کا حتمی جواب بلیک باکس سے ملے گا لہذا پی ائی اے انتظامیہ کو بلیک باکس ڈیٹا کا انتظار کرنا چاہیے بجائے کہ خود کو بچانے کے لیے سازشی نظریات بیچے جائیں۔
اس سلسلے میں پی آئی اے سے وابستہ ایک سینئیر انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انکا بھی یہی کہنا تھا کہ تکنیکی طور پر ایسا ممکن نہیں کہ لینڈنگ سے قبل پائلٹ لینڈنگ گیئر کھولنا بھول جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر لینڈنگ گیئر نہ کھلے تو طیارے میں لگے سینسرز فوری طور پر متنبہ کر دیتے ہیں، طیارے میں ایک سے زیادہ سینسرز ہوتے ہیں اگر ایک خراب بھی ہو جائے تو دوسرا سینسر تنبیہ جاری کرتا ہے۔
دوسری طرف پی آئی اے انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی ابتدائی طور پران خدشات کا اظہار کر رہی ہے کہ ممکن ہے کہ یہ حادثہ انسانی غلطی یعنی پائلٹ کی وجہ سے رونما ہوا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ روزہ، تھکن، اور شوگر لیول لو ہو جانے کی وجہ سے ایسا ممکن ہے کہ طیارے میں بجنے والے الارم کو نظر انداز کر دیا گیا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید یہی وجہ تھی کہ جہاز کا پائلٹ پہلی لینڈنگ کی کوشش کے وقت کنٹرول ٹاور کی جانب سے طیارے کی اونچائی کے حوالے سے دی گئی وارننگ کو نظر انداز کرتا رہا۔
تاہم صحیح صورتحال کا پتہ جہاز کے بلیک باکس میں موجود کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ہی چلے گا۔ وائس ریکارڈر میں طیارے کے کاک پٹ میں ہونے والی تمام گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے۔ اس سے پتا چلے گا کہ ان آخری لمحات میں ایئر ٹریفک کنٹرولر سے بات کرنے کے علاوہ پائلٹس کے درمیان کیا بات ہو رہی تھی۔ طیارے کے پائلٹ نے جب رن وے پر اگلے لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کے باعث رگڑ کھا کر پھر سے پرواز کرنے کا فیصلہ کیا تو پی آئی اے انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔ انکے مطابق اگر پائلٹ دوبارہ اڑان بھرنے کی بجائے طیارے کے انجن بند کر دیتا تو ممکنہ طور پر طیارہ گھسٹتا ہوا رن وے کے آخر تک پہنچتا اور شاید اتنی تباہی نہ ہوتی۔ انکا کہنا ہے کہ فضا میں طیارے کے انجن بند ہونے کے بارے میں پائلٹ نے بالکل آخر میں بتایا اور اس پر ایئر ٹریفک کنٹرولر کے انتہائی اہم سوال کہ ‘کیا آپ بیلی لینڈنگ کریں گے؟’ کا پائلٹ کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔ اس دوران پائلٹ نے اپنے طیارے کے دونوں لینڈنگ گیئر کھول لیے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لینڈنگ گیئر ٹھیک تھے، جس سے طیارے کے گرنے کا عمل تیز ہو گیا۔ لیکن لینڈنگ گیئر کھلنے سے طیارے کی ’ڈریگ‘ یعنی فضائی رگڑ میں اضافہ ہو گیا اور طیارہ ایک وزنی بوری کی طرح زمین کی جانب گرتا چلا گیا۔
اس معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے بتایا کہ ’بارہا پی آئی اے کی جانب سے اپیل کی گئی ہے حادثے کی اصل وجہ کا تعین صرف تحقیقات کے نتیجے میں ہو گا۔ محدود معلومات اور چند ویڈیوز کی بنا پر ذمہ داری کا تعین کرنا نامناسب ہے۔ یہ ایک قومی المیہ ہے اس وقت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا یا کسی ایک گروہ کی جانب سے اپنے مفادات کو فروغ دینا قابل مذمت عمل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فضائی کمپنیاں مسلمان پائلٹس اور پی آئی اے اپنے پائلٹس کو سرکلر جاری کر کے ہدایت کرتی ہے کہ روزہ رکھ کر پرواز نہ کریں کیوںکہ اس سے شوگر لیول لو ہو سکتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ طیارہ حادثے میں اب تک ہونے والی تحقیقات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن (پالپا) کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی میں ماہرین کی کمی اور ائیرفورس افسران کی زیادتی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پالپا کے ایک رکن کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک بات ہے کہ حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے تمام ممبران ایئر فورس کے افسران ہیں جو کہ پائلٹ کے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کو مسئلہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انکوائری کمیٹی میں پالپا کو بھی نمائندگی دی جائے۔
دوسری طرف فلائیٹ ریڈار نے نیا ڈیٹا جاری کیا ہے جس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ رن وے پر سطح سمندر سے کم از کم 21 فٹ کی اوسط بلندی تک آیا تھا۔ اس ڈیٹا سے ظاہر ہوتا یے کہ طیارے نے کراچی ایئرپورٹ کے رن وے کی سطح کو چھوا تھا اور رگڑ کھائی تھی۔ فلائیٹ ریڈار کی جانب سے جاری کردہ چارٹ میں واضح ہے کہ طیارے کے لاہور سے ٹیک آف یا اڑان کے بعد اس کی پرواز میں تسلسل ہے جبکہ کراچی میں طیارے کی پرواز اور لینڈنگ بہت ہی عمودی اور بے ربط ہے۔ چارٹ کو بغور دیکھنے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی شے تیزی سے طیارے کو نیچے لا رہی تھی۔ بلندی بتانے والا یہ چارٹ واضح کرتا ہے کہ جب طیارے کی لینڈنگ سے قبل اس کی بلندی دو ہزار فٹ ہونی چاہیے تھی اس وقت طیارے کی بلندی دس ہزار فٹ تھی۔ اس کے بعد طیارہ بہت تیزی سے بلندی کھوتا ہے، جو کہ عام حالات میں بالکل نہیں ہوتا۔
ایئر بس اے تھری ٹوئنٹی کو اڑانے والے ایک پائلٹ نے بتایا کہ اس نتیجے میں پائلٹ ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہو گیا جس میں آپ کے پاس فیصلہ کرنے اور سوچنے کے راستے محدود ہوتے جاتے ہیں، ایسی صورتحال میں آپ کو اپنی تمام تر توانیاں مرکوز کر کے پراسیس فالو کرنے پڑتے ہیں۔
اس ڈیٹا کی بنیاد پر پی آئی اے کی انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ پائلٹ کی اپروچ ہی غلط تھی اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کو اس صورتحال میں انھیں لینڈ کرنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہیے تھی۔ ایئر ٹریفک کنٹرول لائیو پر دستیاب ٹریفک کنٹرولر کی پائلٹ سے گفتگو کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے جس میں پائلٹ کہتا ہے کہ ’ہم آرام سے کر لیں گے، انشااللہ۔‘ امکان یہی ہے کہ پائلٹ نے شاید یہ بات اس وقت کی ہو گی جب ایئر ٹریفک کنٹرول نے پائلٹ کو جہاز کی اونچائی کے بارے میں یاد دہانی کروائی ہو گی۔ ایک پائلٹ، جنھوں نے کیپٹن سجاد گل کے ساتھ کئی پروازیں کی ہیں، اس گفتگو کا مطلب کچھ اس طرح سمجھاتے ہیں کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ پائلٹ اپروچ پر آ رہا ہے یعنی اس فضائی راستے پر جس پر وہ بالآخر لینڈ کرے گا۔ پائلٹ کہہ رہا ہے کہ ہم آرام سے اتر سکتے ہیں اور انسٹرومینٹ لینڈنگ سسٹم پر سیٹ ہو چکے ہیں۔ انسٹرومینٹ لینڈنگ سسٹم سے مراد فضا میں بنا وہ راستہ ہے جو طیارے کو آہستہ آہستہ اتار کر لینڈ کرواتا ہے۔ یہ روشنیوں اور ورچوئل نکات کا ایک مجوعہ ہوتا ہے جس کی مدد سے طیارے اترتے ہیں۔ اس میں بھی کئی درجہ بندیاں ہیں۔‘ پائلٹ کی جانب سے بھیجے گئے پیغام کے جواب میں ایئر ٹریفک کنٹرول کہتا ہے کہ ’بائیں 180 کے زاویے پر مڑیں۔‘اس سے مراد یہ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر پائلٹ سے کہہ رہا ہے کہ آپ بائیں مڑ جائیں یعنی دوبارہ چکر لگا کر آئیں۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ایئرٹریفک کنٹرول کے مطابق جہاز زیادہ بلند تھا اور مقررہ یا متوقع بلندی پر نہیں تھا۔
اس کے جواب میں پائلٹ ایئر ٹریفک کنٹرولر کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ پرسکون ہیں اور انسٹرومینٹ لینڈنگ سسٹم پر ایسٹیبلیش ہو چکے ہیں۔اس کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولر کہتا ہے کہ ’سر آپ ٹچ ڈاؤن سے پانچ میل کے فاصلے پر ہیں اور ابھی تک 3500 فٹ کی بلندی پر ہیں۔‘
ایئر ٹریفک کنٹرولر ہر طیارے پر نظر رکھتا ہے اور ریڈار کی مدد بھی لیتا ہے اسی لیے اس نے پائلٹ کو بتایا کہ طیارے کی بلندی زیادہ ہے اور رن وے سے طیارے کا فاصلہ کم ره گیا ہے۔ اسی لیے وہ پائلٹ کو ہدایت جاری کرتے ہیں کہ طیارے کی بلندی زیادہ ہے، بائیں مڑ کر ایک اور چکر لگا لیں اور مطلوبہ بلندی پر طیارہ لا کر لینڈ کرنے کے لیے دوبارہ واپس آ جائیں۔
پی آئی اے کے پائلٹ نے اس کے بعد ’روجر‘ کہا اور پھر ٹریفک کنٹرولر نے اسے لینڈ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس کے کچھ دیر بعد طیارے کی آڈیو میں ایک سائرن کی آواز سنائی دیتی ہے، جس کے بعد پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ہم دوبارہ چکر لگا کر لینڈ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سارے عمل کے دوران وہ دو منٹ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جن کے دوران طیارے نے رن وے پر رگڑ کھائی اور فلائٹ ریڈار کے تازہ ڈیٹا چارٹ کے مطابق طیارہ رن وے کے اوپر 21 فٹ کی بلندی تک آیا۔ ان دو منٹوں کے دوران کیا ہوا یہ ایک معمہ ہے۔ تاہم اس دوران سامنے آنے والی گفتگو کے نتیجے میں چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں:
کیا پائلٹ نے طیارے کے لینڈنگ گیئر یعنی پہیے کھولے تھے یا نہیں؟ کیا طیارے میں کوئی ٹیکنیکل خرابی تھی یا انسانی غلطی کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوا؟ سوال یہ بھی یے کہ کیا ایئر ٹریفک کنٹرولر نے طیارے کو دوربین لگا کر دیکھا تھا جو کہ قواعد و ضوابط کے تحت لازمی عمل ہے؟ اگر دیکھا تھا تو اسے کیا نظر آیا، کیا لینڈنگ گیئر کھلے تھے یا نہیں۔ اگر لینڈنگ گیئر نہیں کھلے تھے تو اس نے اس پر کیا ردِ عمل دیا؟
انہی تمام سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لیے حکومتی انکوائری کمیٹی کے ممبران نے سب سے پہلے رن وے کا دورہ کیا اور جائزہ لیا کہ وہاں پر کیا شواہد موجود ہیں۔ رن وے کی تصاوير، رگڑ، ایندھن کے گرنے اور دھات کے ٹکرانے کے نشانات واضح طور پر موجود ہیں۔ جس سے اس ڈیٹا کو تقویت ملتی ہے جس کے مطابق طیارے نے رن وے سے رگڑ کھائی تھی۔ طیارے کی صحت اور حالت کے بارے میں بہت سے باتیں کی جا رہی ہیں مگر اس کے انجن کے حوالے سے ایک بات اس سارے واقعے سے ثابت شدہ ہے کہ انھوں نے رگڑ کھانے اور رن وے پر گھسٹنے کے باوجود طیارے کو اٹھایا اور تین ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
اس سے ممکنہ طور پر یہ واضح ہوتا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے میں مبینہ طور پر کوئی خرابی نہیں تھی کیونکہ اب تک سامنے آنے والے شواہد سے یہ پتا چلتا ہے کہ ظاہری طور پر طیارے نے آخری لمحے تک کپتان کا ساتھ دیا۔ ٹچ ڈاؤن کے بعد انجن کے رن وے سے رگڑ کھانے کے بعد دوسری کوشش میں بھی طیارہ بظاہر آخری لمحات سے قبل تک پائلٹ کے کنٹرول میں رہا۔ تاہم اصل سوال پھر وہی ہے کہ آیا طیارے کے لینڈنگ گیئر خراب تھے یا پائلٹ انہیں کھولنا بھول گیا تھا کیونکہ بالآخر اسی وجہ سے جہاز تباہ ہوا۔
