مریم اگلے ہفتے پاکستان آئینگی،نواز الیکشن مہم میں قیادت کرینگے

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مریم نواز اگلے ہفتے پاکستان جائیں گے اور نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اگلے انتخابات میں مہم کی قیادت کریں گے۔
لندن میں نواز شریف کی صدارت میں مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کے بعد میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ اب پنجاب میں انتخابات ہونے جارہے ہیں تو مسلم لیگ (ن) مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے کامیابی اور اکثریت حاصل کرے گی، آج اس حوالے سے پارٹی قائد سے رہنمائی لی ہے اور مزید اجلاس ہوں گے اور قائد کی رہنمائی کے تحت اپنی انتخابی مہم شروع کریں گے، اس مہم میں نواز شریف خود بھی شامل ہوں گے مریم نواز اگلے ہفتے پاکستان جا رہی ہیں، اگلے ہفتے 26 یا 27 تاریخ کا پروگرام بن رہا ہے۔
نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ تو طے ہے کہ نواز شریف واپس جا کر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کریں گے تاہم واپسی کے حوالے سے مختلف قانونی معاملات پر بات ہوئی ہے، اس میں مزید مشاورت ہوگی اور اس کے مطابق واپس جائیں گے۔
پنجاب اسمبلی کی تحلیل سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ناکامی نہیں کہا جاسکتا، ایک آدمی کہہ رہا تھا اور 26 نومبر کو اعلان کیا میں اسمبلی توڑ دوں گا، پھر کہا 17 دسمبر اور اس کے بعد 23 کو توڑوں گا تو ایسے میں گورنر کا آئینی حق اور ذمہ داری تھی کہ وہ وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہتے، اعتماد کے ووٹ کے لیے ان کے پاس 191ووٹ تھے، ان میں سے 5 لوگ نہیں آئے اور 6 یا 7 لوگوں کو قرآن پر حلف دے کر ناراضی دور کی ہے تو یہ ان کی ناکامی ہے کیونکہ ان کی پارلیمانی پارٹی کے لوگ ناراض تھے تاہم 6،7 لوگ راضی ہوگئے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہماری تعداد 179 ہے اور وہ نمبر پورا تھا اور ایک آزاد رکن نے ہمارے خلاف ووٹ دیا اس کی وجہ یہ تھی ان کی اپنے بھائی سے مخالفت تھی اور وہ ہمارے رکن قومی اسمبلی ہیں اور وہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جو لوگ ناراض تھے ان میں سے چند لوگوں کو قرآن پاک پر حلف دے کر راضی کیا، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جو بے ہودہ الزام تراشی کرتے تھے کہ ان کو خریدا گیا ہے اور ہمارے اوپر الزام عائد کرتے تھے یا وہ کہتے تھے سیاسی انجینئرنگ ہوتی ہے تو ایسا کچھ نہیں ہورہا تھا۔
عمران خان اور شیخ رشید کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کا نہیں ہوگا بلکہ جو ادارے تفتیش کر رہے ہیں اور ان کے جو کالے کرتوت سامنے آرہے ہیں اور عمران خان کا توشہ خانہ میں ’انتہائی گھٹیا کردار‘ سامنے آیا ہے اور ایک پراپرٹی ٹائیکون سے قومی خزانے کو 50 ارب کا ٹیکا لگا کر 5 ارب روپے کمایا ہے، ان مقدمات پر تفتیش ہو رہی ہے اور اگر ان میں گرفتاری بنتی ہے تو وہ کرلیں گے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے اختلاف سے متعلق افواہوں پر کہا کہ کوئی اختلاف نہیں ہے اور شاہد خاقان عباسی پوری طرح پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں،سابق آرمی چیف کے ٹیکس دستاویزات کی رپورٹ پر صحافی کی گرفتاری کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ شاہد اسلم کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے گرفتار افراد کے انکشاف کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز نہ صرف انتخابات میں حصہ لیں گی بلکہ مہم کی سربراہی کریں گی، پنجاب کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں ہوا اور پنجاب میں ہوسکتا ہے 3 مہینے میں انتخابات نہ ہوں،ملک کی معاشی صورت حال کے پیش نظر انتخابات میں تاخیر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت یا مسلم لیگ (ن) کوئی ایسی سوچ نہیں رکھتی ہے، ہم انتخابات لڑنے کے لیے تیار ہیں، باقی جو آئینی اور قانونی پہلو ہیں وہ اسی طرح حل ہوں گے۔
