مریم نواز اور حمزہ شہباز آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر تقسیم
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے موقف میں اختلاف کے بعد پارٹی میں اختلافات کی خبروں کو تقویت ملی ہے ۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے لیے ایوان میں ووٹنگ کا مسئلہ مہبم نہیں، یہ پارٹی کی قیادت کا فیصلہ تھا ،یہ صحیح فیصلہ تھا جو صحیح وقت پر لیا گیا۔اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ بات مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کے اس بیان کے بارے میں سوال پر کہی جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کا حصہ نہیں تھیں اور جو اس فیصلے کا حصہ تھے انہیں (قوم سے) معافی مانگنی چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ ہ وہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور شفاف انتخابات چاہتے ہیں جس میں تمام جماعتوں کو یکساں سطح پر کارکردگی دکھانے کا موقع ملے۔ والد سے متعلق مفاہمت کی پالیسی اپنانے کے تاثر کی نفی کرتے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو دو سال تک جیل میں نہ ہوتے۔اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز نے سوال کیا کہ غیر ملکی فنڈنگ کیس اور (خیبرپختونخوا حکومت) میں ہیلی کاپٹر (ناجائز استعمال) کیس میں کون ملزم ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے نئے چیئرمین کے تقرر کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت نہیں کریں گے کیونکہ تفتیش کار کے تقرر کے لیے ملزم سے مشاورت نہیں کی جاسکتی۔
قبل ازیں انھوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا یا کہ وہ معیشت، حکمرانی، ڈیلوری اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ پنجاب میں کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے علاوہ دیگر پرکشش عہدوں پر تقرر و تبادلوں کے لیے بھاری رشوت دی جارہی ہے جس سے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
