مریم نواز اپنے والد کی کمزوری کی بجائے طاقت کیسے بنیں؟

میں ثابت کروں گی کہ میں اپنے والد کی طاقت ہوں، ان کی کمزوری نہیں‘، یہ بیان جولائی 2017ء میں مریم نواز نے اس وقت دیا تھا جب وہ شریف خاندان کے غیرملکی کاروباری معاملات کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروا کر وفاقی جوڈیشل اکیڈمی سے باہر آئی تھیں۔اس دن جب وفاقی دارالحکومت میں مریم نواز کی مختصر تقریر ختم ہوئی تو وہ پاکستان کے بدلتے سیاسی منظر نامے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئیں اور پوری دنیا اس منظر کی شاہد بنی۔ تاہم باپ کے سامنے دیدہ دلیری سے گرفتاری پیش کرنے اور بہادری سے جیل کاٹنے والی مریم نواز نے باپ کے سامنے ہی پہلی خاتون وزیراعلٰی کے طور پر حلف اٹھا کر ناقدین کو بتا دیا کہ وہ واقعی اپنے والد کی کمزوری نہیں طاقت ثابت ہوئی ہیں۔
مبصرین کے مطابق تمام حوالوں سے مریم نواز کا پہلا حقیقی انتخابی سیاست کا امتحان ستمبر 2017ء میں ہوا جب انہوں نے این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے لیے انتخابی مہم چلائی۔ پناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ مریم نواز نے اپنی بیمار والدہ کلثوم نواز کے لیے انتخابی مہم چلائی جو یہ نشست جیتنے میں کامیاب بھی ہوئیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے جیت کے مارجن میں کافی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ سیاسی پنڈتوں نے اس بات پر بحث کی کہ کیا یہ دراصل مسلم لیگ (ن) کی جیت تھی لیکن یہ وہ حلقہ تھا جس پر مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان تقریباً تین دہائیوں سے واضح اثرورسوخ رکھتے تھے۔ صحافی زاہد حسین نے اس حوالے سے لکھا، ’یہ ناقابل فہم تھا کہ یہاں انہیں شکست دی جاسکتی تھی‘۔تاہم مریم نواز کے لیے وہی لمحہ تھا جب انہوں نے اپنی چال چلی اور خود کو نواز شریف کے سیاسی ایمپائر کا وارث قرار دیا۔ زاہد حسین نے لکھا کہ ’قدامت پسند سماجی اقدار والی ایک ایسی جماعت کہ جس میں پارٹی اور کابینہ کے سینیئر عہدوں پر بہت کم خواتین فائز ہیں، مریم نواز کا اس نماعت کا چارج سنبھالنا ایک مثبت تبدیلی ہے۔ لیکن پارٹی کے سربراہ کی صاحبزادی ہونے سے یقینی طور پر خاندانی سیاست کے کلچر میں ایک بہت بڑا فرق پڑتا ہے‘۔
یہ سفر اُس سے کئی گنا زیادہ مشکل تھا جس کا انہوں نے تصور کیا تھا اور مریم نواز بھی اس کا اعتراف کرتی ہیں۔ ذاتی اور جماعتی دونوں سطح پر بہت سے لوگ اس بات پر ناخوش تھے کہ مریم نواز کتنی تیزی سے جماعت میں آگے بڑھ رہی تھیں بالخصوص ایک ایسی جماعت میں کہ جس میں کافی حد تک مردوں کو غلبہ حاصل تھا جبکہ کم ہی خواتین پارٹی کی قیادت کا حصہ تھیں۔جیسے جیسے مریم نواز لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی گئیں ویسے انہیں اپنی عمر اور کپڑوں کے حوالے سے غیرمناسب تبصروں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ ردعمل پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے سامنے آیا جنہوں نے ان کے مہنگے لگژری کپڑوں اور دیگر پہناووں پر تبصرے کیے جبکہ اس پر بھی بات کی کہ وہ اپنی عمر کے مطابق نظر نہیں آتیں۔ حتیٰ کہ اپنے بیٹے جنید صفدر کی شادی پر ان کی تیاری کو بھی سوشل میڈیا صارفین نے خوب تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے تو یہ تک کہا کہ انہوں نے اپنے عمر کے حساب سے زیادہ تیار ہوکر اپنی بہو کے دن کو ’برباد کیا‘۔
صرف ان کے سیاسی مخالفین ہی ان کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے۔ نواز شریف کی اقتدار سے برطرفی کے بعد مریم نواز اپنی جماعت کا وہ چہرہ بن گئیں جوکہ اسٹیبلشمنٹ مخالف تھا اور انہوں نے اپنے والد کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا حساب رکھا۔ حتیٰ کہ اس سے قبل بھی شبہ ظاہر کیا گیا کہ سیاست میں فوج کی مداخلت کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ حکومتی تصادم کے بارے میں اسٹوری بھی انہوں نے ہی لیک کی تھی۔ اس دشمنی کو جماعت کی کچھ سینیئر قیادت نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ ان میں سے ایک سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تھے جنہوں نے کہا کہ مریم نواز کو ’خود کو ثابت کرنے‘ کی ضرورت ہے۔ یوں بلآخر شہباز شریف گروپ اور مریم نواز گروپ کے درمیان اختلافات سب کے سامنے آگئے۔
حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان بازی کے مخالف نہیں تھے، وہ بھی اس حوالے سے زیادہ خوش نہیں تھے کہ جس طرح ان کے والد نے مریم نواز کو پارٹی کی باگ ڈور سونپی تھی۔ اس طرح رسہ کشی کا آغاز ہوا لیکن جہاں تک خاندانی سیاست کا معاملہ ہے، یہاں اہلیت یا میرٹ پر خون غالب ہوتا ہے۔
جلد ہی پارٹی میں دراڑیں پڑتی نظر آئیں جن میں سب سے نمایاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے، جنہوں نے کہا وہ مریم نواز کی سینیئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر کے عہدے پر ترقی کے اعلان کے ’ایک گھنٹے کے اندر اندر پارٹی عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے‘۔ اس کے بعد دوسرا بڑا نام مفتاح اسمٰعیل تھے جنہیں ٹوئٹر پر مریم نواز کی جانب سے ہدایات ملتی تھیں اور وہ پہلے بھی دونوں دھڑوں کے درمیان لڑائی کا شکار ہوچکے تھے۔ انہیں برطرف کرکے اسحٰق ڈار کو وزیر خزانہ کا عہدہ سونپ دیا گیا۔
شاید اس سب میں سب سے بڑا نقصان مریم نواز کے کزن حمزہ شہباز کا ہوا جو اب تک شریف برادران کے جان نشین سمجھے جارہے تھے۔ اچانک مسلم لیگ (ن) کو دلکش نظر آنے والی مریم نواز کی صورت میں ایک اور آپشن مل گیا جو اپنے دشمن پی ٹی آئی کا مقابلہ کرے۔ ایسا کرنے سے مسلم لیگ (ن) کو امید تھی کہ نیا چہرہ ان کی شبیہہ کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا جسے عمران خان کی مسلسل سیاسی چالوں نے نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ جلد ہی لندن کے بدنامِ زمانہ فلیٹس سمیت متعدد آف شور اثاثوں کی مبینہ ملکیت کے معاملے نے مریم نواز کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔
اندرونی چپقلش اور تنقید کے باوجود مریم نواز نے پارٹی کی نائب صدر کے طور پر کم جبکہ اپنے والد کی روایتی سیاست کا دفاع زیادہ کیا۔ ایسا کرنے سے وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف بن گئیں جوکہ ریلیوں میں اپنے کارکنان کے سامنے ان ججوں اور جرنیلوں کا نام لیتی رہیں جنہوں نے ان کے والد کے ساتھ غلط کیا۔مریم نواز نے برسوں لگا کر احتیاط سے اپنی سیاسی شخصیت کو بنایا ہے جبکہ انہوں نے مریم اورنگزیب جیسے شعلہ بیان رہنماؤں کو اپنے ساتھ رکھا ہے جو جلد ہی جماعت کے اہم عہدوں پر فائز ہوں گے۔
مریم نواز نے اب تک جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اس میں سے زیادہ تر ان کے والد کے حق کی لڑائی ہے لیکن پہلی خاتون وزیراعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی وہ اب صرف اپنے باپ کی بیٹی نہیں رہ سکتیں۔ بلکہ وہ سب سے زیادہ آبادی والے اور دیگر حوالوں سے ملک کے سب سے طاقتور صوبے کے انتظامی امور کی ذمہ دار ہیں۔گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں اپنی تقریر میں انہوں نے کہا ’میں اپوزیشن کو بتانا چاہتی ہوں جو اس وقت موجود نہیں تھی کہ اگر آپ کو اپنے حلقے میں کسی مسئلے کا سامنا ہے تو میں آپ کو بھی اسی طرح دستیاب ہوں گی جیسے مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی کے لیے ہوں گی۔ کیونکہ میں اب مسلم لیگ (ن) کی وزیراعلیٰ نہیں بلکہ 12 کروڑ عوام کی نمائندہ ہوں‘۔خاندانی استحقاق کی علامت کے طور پر دیکھے جانے سے لے کر اپنے طور پر ایک لیڈر بننے تک کا مریم نواز کا سفر ایک ایسی سچائی کی بازگشت ہے جو سیاست سے بالاتر ہے اور وہ یہ ہے کہ حقیقی طاقت صرف میراث حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنی سیاسی شناخت بنانا ہے۔
