مریم نواز نے دوبارہ سیاسی محاذ کھولنے کا فیصلہ کرلیا


اس برس 15 جون کو غیر سیاسی ہوجانے کا اعلان کرنے والی مریم نواز نے ایک بار پھر سیاسی محاذ سنبھالتے ہوئے جج ارشد ملک کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کو نواز شریف کی بریت قرار دے دیا ہے۔
عدالت عالیہ کے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں جج ارشد ملک کی طرف سے دباؤ اور دھمکیوں کے تحت نواز شریف سے ملاقاتوں کے تمام دعوے مسترد کیے جانے کے بعد مریم نواز کا اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہنا ہے کہ جج کی طرف سے اعتراف جرم کے بعد نواز شریف کو سزا سنانے کے پس پردہ تمام مقاصد سامنے آ گئے ہیں۔ قوم جان چکی ہے کہ بغیر کسی ثبوت اور جرم کے نواز شریف کو سزا کیوں دلوائی گئی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ جب میری والدہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور ووٹ اپنی عزت کی جنگ لڑرہا تھا عین اس وقت سزا سنانے کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ آج سب پہ عیاں ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وطن کی مٹی گواہ ہے اور رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ دراصل نواز شریف کی بریت کا فیصلہ ہے۔
واضح رہے کہ 15 جون کو مریم نواز نے سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر اپنا اکاؤنٹ بناتے ہوئے اعلان کیا تو کہ یہ اکاؤنٹ بالکل غیر سیاسی ہو گا۔ انسٹا گرام اکاؤنٹ پر انھوں نے اپنا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے کہ وہ ایک بیٹی، تین جوان بچوں کی ماں اور نانی اماں ہیں۔ اپنے نام سے آفیشل اکاؤنٹ بناتے ہوئے مریم نواز نے وضاحت کی تھی کہ مذکورہ اکاؤنٹ کو وہ خود چلائیں گی اور یہ سیاسی کی بجائے ذاتی ہوگا اور وہ اس اکاؤنٹ کے ذریعے کوئی بھی سیاسی پیغام یا بات نہیں کریں گی بلکہ اس اکاؤنٹ کے ذریعے وہ اپنی اور اہل خانہ کی’غیر سیاسی’ باتیں عوام کے ساتھ شیئر کریں گی۔
لیکن اب مریم نواز کا ٹوئٹر پر یہ سیاسی پیغام ہائیکورٹ کی طرف سے جج ارشد ملک بارے میں انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ہے جس میں احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو مجرم قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے ارشد ملک بارے قرار دیا ہے کہ اس کے خود کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دیے جانے کے دعوے جھوٹے ہیں اور وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ شمولیت اختیار کر رکھی تھی اور اپنے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے معافی کی استدعا کی جس کو مسترد کرتے ہوئے اسکی برخاستگی کی گئی ہے۔ یہ انکشاف نواز شریف کو سزا سنانے والے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کیخلاف ویڈیو سکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں کیے گے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی طرف سے تیار کردہ 13 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں برطرف جج ارشد ملک کا بیان مسترد کرتے ہوئے قرار دیا گیا ہے کہ ارشد کی نواز شریف ،حسین نواز اور ناصربٹ سے ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا. ارشد ملک نے اپنے دباؤ کے تحت ملاقات کرنے کے بیان کے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جبکہ نواز شریف کے فیصلے کا آخری پیرا بھی جج کے بلیک میل کیے جانے کے بیان کی نفی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کے تحت کسی جج کو کسی فریق سے ملاقات نہیں کرنی چاہیئے ۔۔ ارشد ملک کا اپنے دفاع میں پریس ریلیز جاری کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھی۔ تاہم ارشد ملک نے جرم تسلیم کرتے ہوئے معافی کی استدعا کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button