قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحاریک عدم اعتماد لانے کے تجاویز زیر غور ہیں۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ پاکستانی تاریخ میں آج دن تک وزیراعظم یااسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف کبھی بھی عدم اعتماد کی کوئی بھی تحریک کامیاب نہیں ہو پائی۔
ملکی سیاست میں کسی بھی حکومت کے سربراہ یعنی وزیراعظم‘ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے سپیکریا چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرنا ناممکن قرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جب کچھ ماہ پہلے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو اپوزیشن، زیادہ ممبران کی حمایت ہونے کے باوجود اس تحریک کو کامیاب کرانے میں ناکام ہوگئی تھی۔ اسی طرح ماضی میں جب سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تو اسے کامیاب بنانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ کچھ نادیدہ قوتیں بھی سرگرم عمل تھیں۔ اس کے باوجود بے نظیر بھٹو کے خلاف 1989ء کے آخری سہ ماہی میں پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد تین ووٹوں سے ناکام رہی۔ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے اپوزیشن نے سردھڑ کی بازی لگا دی تھی۔ ایک دوسرے کے ارکان کو خریدنے اور انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے روکنے کے حربے استعمال ہوئے تھے۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے جو اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے سرگرم تھے۔تب نواز شریف پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ انھوں نے کئی ممبران اسمبلی کو چھانگا مانگا لے جاکر بند کر دیا تھا اور عدم اعتماد کی تحریک والے دن باہر نکالا۔ بعض زیرک سیاستدانوں کی یہ رائے بھی تھی کہ اگر یہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی تو غلام مصطفے جتوئی وزیراعظم بن جاتے جس پر نوازشریف نے اس تحریک کو کامیاب بنانے میں دلچسپی کم کر دی اور تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی۔
اسی طرح سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف 2006 میں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی جو ناکام رہی۔ سابق سپیکر قومی اسمبکی چوہدری امیر حسین کے خلاف دو مرتبہ تحریک عدم اعتماد ناکام رہی ۔ پاکستان میں روایت یہی رہی ہے کہ حکومت وقت کے حمایت یافتہ سپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا اس پر اتفاق ہے کہ جب تک عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کا سو فیصد یقین نہ ہو تب تک ایسی کوئی تحریک پیش نہیں کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں اپوزیشن ذرائع اگست 2019 میں سینٹ چیئر مین کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک کا حوالہ دیتے ہیں جو کہ ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔یاد رہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی۔ سینیٹ میں اپوزیشن کو حکومتی اتحاد کے مقابلے میں واضح عددی برتری حاصل ہونے کے باوجود تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔ اپوزیشن نے اس تحریک کے نتائج کو دباؤ کے نتیجے میں وفاداری تبدیل کروانے کا عمل قرار دیا تھا۔ چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک کے حق میں 50 ووٹ آئے جبکہ اس کی کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے۔ صادق سنجرانی کے حق میں 45 ارکانِ سینیٹ نے ووٹ دیا جبکہ ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد 36 ہے اور یوں صادق سنجرانی چیئرمین کے عہدے پر برقرار رہے۔
اب ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس کا اعلان مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتیں اگر وزیر اعظم عمران خان اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحاریک عدم اعتماد لاتی ہیں تو اس کے حق میں 172 ووٹوں کی اکثریت ثابت کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہو گی۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی طرح اسپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد کا منظور ہونا بڑا دشوارگزار عمل ہے آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق سپیکر کو اراکین کی مجموعی تعداد کی اکثریت سے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ چونکہ تحاریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران حکومت کو اپنے ارکان کی پارلیمنٹ میں پیشی لازمی نہیں ہو گی اور ارکان کی غیر حاضری حکومت کے حق میں جائے گی۔ اس لئے مستقبل قریب میں وزیر اعظم یا سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ زمینی حقائق کے مطابق ماضی میں کبھی کوئی بھی وزیر اعظم یا سپیکر اسمبلی تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے گھر نہیں گیا۔ تحریک عدم اعتماد سے حکومتوں کو ہلایا ضرور گیا ہے تاہم ان کی وجہ سے کسی بھی حکومت کا دھرن تختہ آج تک نہیں ہو سکا۔ تاریخی مشاہدے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وزیر اعظم اور اسپیکر وغیرہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کوئی آسان نہیں ہوتی کیونکہ تحریک کی کامیابی کیلئے قومی اسمبلی کے 172 اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے اور عموماً اپوزیشن جماعتیں حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک عدم اعتماد یا عدم اعتماد بل اس وقت پارلیمان میں لایا جاتا ہے جب کوئی حکومت عہدیدار کوئی ایسا قدم اٹھاتا ہے جو آئین و قانون کیخلاف ہو یا ایسا اقدام جس سے ملک کی بدنامی اور نقصان ہو۔ پارلیمان میں اکثر عدم اعتماد کا بل حزب اختلاف کے جانب سے پیش کیا جاتا ہے جس پر ارکانِ پارلیمان اپنا ووٹ دیتے ہیں۔ اگر کسی وفاقی عہدیدار کو برطرف کرنا ہوتو وفاقی قانون ساز ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل پیش کیا جاتا ہے اور اگر صوبائی سطح پر کسی عہدیدار یعنی وزیراعلیٰ، سپیکر یا صوبائی وزیروغیرہ کو ہٹانا ہو تو صوبائی اسمبلی میں بل پیش کیا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کےضابطہ کار میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا طریقہ موجود ہے آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے ایوان کے کل ارکان کی تعداد کے 20 فیصد ارکان کے دستخط ضروری ہیں اگر تحریک عدم اعتماد ارکان کی اکثریت سے منظور ہو جائے تو قانونی طور پر وزیر اعظم عہدے پر قائم نہیں رہتے۔
