پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر، مظاہرے، ریلیاں

لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں، بھارتی مظالم کے خلاف مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں جن میں آزادی کی حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں غاصب فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
یوم شہدائے کشمیر پر آزادکشمیرسمیت مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں، مرکزی تقریب مظفرآباد کے وزیراعظم سیکرٹریٹ پر منعقد ہوئی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جزبہ آزادی کو نہیں دبا سکتے۔
یوم شہداء کی مناسبت سے مانکپیاں کیمپ میں بھی ریلی نکالی گئی جبکہ آزادی چوک سے کفن پوش کشمیریوں کے دستے نے بھی علمدار چوک تک مارچ کیا۔ شہداء کی یاد میں آزادکشمیر کے دیگر شہروں نیلم، ہٹیاں باغ، کوٹلی، میرپور، فارورڈ کہوٹہ اور بھمبھر میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر مقبوضہ کشمیر میں بھی یوم شہدا منایا جا رہاہے۔مقبوضہ کشمیر میں آج 89 ویں یوم شہدا پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے دیگر قائدین نے مکمل ہڑتال کی اپیل کی جس پر آج وادی میں ہڑتال کی جارہی ہے۔
یہ دن 13 جولائی 1931کو ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں سری نگر میں 22 بے قصور کشمیریوں کی شہادت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جارہا ہے۔آج ہی کے دن 1931 میں ڈوگرہ فوج نے 22 کشمیریوں کو فائرنگ کرکے شہیدکیا تھا، یہ شہدا عبدالقدیرخان غازی کے خلاف مقدمے پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے اور ڈوگر فوج نے سری نگر جیل کے باہر موجودکشمیریوں پر اذان دینے پرفائرنگ کردی تھی۔کشمیریوں کی شہادت پرڈوگرہ راج کے خلاف اٹھنا کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کی ابتداتھی اور 1931 سے اب تک کنٹرول لائن کے اطراف 13 کو یوم شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمےکے بعدبی جے پی حکومت نے یوم شہداکی چھٹی بھی ختم کردی تھی اور بی جے پی حکومت نے مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب آئینی دہشتگردی سے بدلنےکی کوشش کی۔
دوسری جانب نئے ڈومیسائل قانون کےتحت بھارت مئی سے 32 ہزار غیرکشمیریوں کو ڈومیسائیل سرٹیفیکٹس دےچکا ہے اور بھارت غیرکشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بساکر مسلم اکثریت ختم کرناچاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں آئین شکنی کی بھارتی کارروائیاں یواین قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔
