مریم نواز کی پنجاب حکومت نے اچانک 3ہزار پٹواری کیوں بدل دئیے؟

پنجاب میں ریونیو نظام کی نچلی سطح پر ایک بڑی انتظامی اکھاڑ پچھاڑ سامنے آئی ہے جہاں صوبائی حکومت نے حالیہ دنوں میں 3 ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلے کردیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام بدعنوانی کے خاتمے، سرکاری نظام میں بہتری اور عوام کو ریونیو سے متعلق خدمات کی فراہمی مؤثر بنانے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ تعداد کے اعتبار سے پٹواریوں کے اتنے بڑے پیمانے پر تبادلے اس لیے بھی اہم ہیں کہ پٹواری بظاہر نچلے گریڈ کا سرکاری اہلکار ہوتا ہے، لیکن زمین، جائیداد، انتقال، فرد، ملکیتی ریکارڈ اور دیگر ریونیو معاملات میں شہریوں کا براہ راست واسطہ اسی سطح کے اہلکاروں سے پڑتا ہے۔
محکمہ مال کا نظام عام شہری کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ زمین اور جائیداد سے متعلق معمولی سی کارروائی بھی کسی خاندان کے لیے مالی اور قانونی طور پر انتہائی اہم ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹواری کا عہدہ روایتی طور پر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ زمین کے ریکارڈ میں معمولی تبدیلی، انتقال کے اندراج، فرد کے اجرا یا ملکیت سے متعلق کسی دستاویز میں تاخیر کا براہ راست اثر شہری پر پڑتا ہے۔ اسی نظام میں اگر اختیارات کا غلط استعمال یا بدعنوانی کی شکایات پیدا ہوں تو اس کا بوجھ براہ راست عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق انسدادِ بدعنوانی کی مہم صرف محکمہ مال تک محدود نہیں بلکہ مختلف سرکاری محکموں تک پھیلائی گئی ہے۔ اس کارروائی کے دوران 764 پولیس اہلکاروں، محکمہ خوراک کے 179 اہلکاروں، بورڈ آف ریونیو کے 41 اہلکاروں، محکمہ ایکسائز کے 50 اہلکاروں، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 10 اہلکاروں اور محکمہ ہاؤسنگ کے 5 اہلکاروں کے تبادلے یا دیگر کارروائی کی گئی ہے۔
اس مہم میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چھاپوں اور دیگر کارروائیوں کے دوران 176 اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ محکمہ معدنیات و معدنی وسائل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اقدامات کے نتیجے میں ایک سال کے دوران 42 ارب روپے کی وصولی یا بازیابی ہوئی۔ تاہم اس رقم کے بارے میں مزید تفصیلات اہم ہیں کہ 42 ارب روپے میں کتنی رقم براہ راست وصول ہوئی، کتنی رقم ضائع ہونے سے بچائی گئی اور مبینہ بے ضابطگیوں یا مالی ردوبدل کی اصل نوعیت کیا تھی۔
3 ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلوں کو محض معمول کی انتظامی کارروائی سمجھنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ریونیو نظام میں پٹواری کی سطح پر ہونے والے فیصلے اور کارروائیاں براہ راست زمین کے مالکان، کسانوں، پراپرٹی ڈیلرز اور عام شہریوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ماضی میں بھی زمین کے ریکارڈ، انتقالات اور ملکیتی دستاویزات سے متعلق تاخیر، غلط اندراجات اور بدعنوانی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت کا مؤقف ہے کہ بڑے پیمانے پر تبادلے انتظامی اثر و رسوخ کو توڑنے اور نظام میں شفافیت لانے کی کوشش ہیں۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف پٹواریوں کے تبادلے سے کرپشن ختم ہوسکتی ہے؟ کسی بھی سرکاری نظام میں اگر بدعنوانی ایک فرد سے زیادہ پورے طریقہ کار کا مسئلہ بن جائے تو محض تبادلوں سے مستقل حل حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب زمین کا ریکارڈ زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل اور قابلِ رسائی بنایا جائے، شہری کو غیر ضروری طور پر سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں، ہر کارروائی کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہو اور کسی اہلکار کے لیے اختیارات کا غلط استعمال آسان نہ رہے۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حالیہ تبادلوں کے بعد شہریوں کو عملی طور پر کیا فرق محسوس ہوتا ہے۔ اگر زمین کے انتقال پہلے سے زیادہ تیزی سے ہونے لگیں، فرد کے حصول میں آسانی پیدا ہو، ریکارڈ میں غلطیوں کی شرح کم ہو، شہریوں کی شکایات کا ازالہ تیزی سے ہو اور رشوت یا غیر قانونی مطالبات کے واقعات میں کمی آئے تو حکومت کی کارروائی کے نتائج واضح طور پر سامنے آئیں گے۔ لیکن اگر صرف اہلکار تبدیل ہوتے رہیں اور نظام کے بنیادی مسائل وہیں موجود رہیں تو پھر یہ کارروائی ایک عارضی انتظامی تبدیلی بن کر رہ سکتی ہے۔
پنجاب حکومت کی انسدادِ بدعنوانی مہم کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا دائرہ پولیس، خوراک، ایکسائز، مواصلات و تعمیرات، ہاؤسنگ اور معدنیات جیسے مختلف شعبوں تک پھیلایا گیا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف ایک وسیع تر انتظامی مہم چلانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ تاہم اس مہم کی کامیابی کا اصل پیمانہ کارروائیوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں سرکاری خدمات کے معیار میں آنے والی بہتری اور عوامی شکایات میں کمی ہوگی۔
خاص طور پر ریونیو نظام میں اصلاحات کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ زمین اور جائیداد سے متعلق معاملات پاکستان میں طویل عرصے سے پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسائل کا شکار رہے ہیں۔ ایک شہری اگر اپنی ہی زمین کا ریکارڈ درست کروانے، انتقال درج کرانے یا ملکیتی دستاویز حاصل کرنے کے لیے کئی دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہو تو یہ صرف ایک اہلکار کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کی کارکردگی کا سوال بن جاتا ہے۔
اس لیے 3 ہزار سے زائد پٹواریوں کے تبادلے پنجاب حکومت کے لیے ایک بڑا انتظامی قدم ضرور ہیں، مگر اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کارروائی کے بعد ریونیو نظام زیادہ شفاف، تیز، جواب دہ اور عوام دوست بنتا ہے۔ اگر زمین کے ریکارڈ سے متعلق شہریوں کی مشکلات کم ہوتی ہیں، بدعنوانی کے مواقع محدود ہوتے ہیں اور سرکاری اہلکار اپنے اختیارات کے استعمال میں زیادہ جواب دہ ہوجاتے ہیں تو یہ اقدام ایک وسیع تر انتظامی اصلاحات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یوں پنجاب حکومت کی موجودہ کارروائی نے ایک بنیادی سوال ضرور اٹھا دیا ہے: کرپشن کے خلاف جنگ میں صرف چہرے تبدیل ہوں گے یا وہ نظام بھی بدلے گا جو بدعنوانی کے مواقع پیدا کرتا ہے؟ آنے والے مہینوں میں پٹواریوں سمیت مختلف محکموں میں کی جانے والی کارروائیوں کے عملی نتائج ہی اس سوال کا اصل جواب فراہم کریں گے۔
