مکہ مکرمہ پر حوثی ڈرون حملے کی وائرل ویڈیو جعلی نکلی

مکہ مکرمہ میں حوثی ڈرون کے مبینہ حملے کو روکنے سے متعلق سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ویڈیو نے لاکھوں صارفین کی توجہ حاصل کرلی، لیکن فیکٹ چیک کے بعد اس ویڈیو کی حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔ مختلف سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے حوثی ڈرون کو تباہ کردیا، جبکہ بعض پوسٹس میں اسے مقدس شہر پر حوثیوں کی جانب سے حملے کی کوشش قرار دیا گیا۔ تاہم تحقیق سے معلوم ہوا کہ وائرل ویڈیو موجودہ واقعے کی نہیں بلکہ ستمبر 2025 میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پرانی فوٹیج ہے۔

وائرل ویڈیو میں ایک فضائی ہدف کو روکنے یا تباہ کیے جانے کا منظر دکھائی دیتا ہے اور اسی بنیاد پر اسے مکہ مکرمہ میں ہونے والے حالیہ واقعے سے جوڑ دیا گیا۔ ویڈیو ایکس سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی اور بعض پوسٹس کو لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس کے ساتھ ایسے دعوے کیے گئے جن سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے حوثی ڈرون کے خلاف کارروائی کی ہے۔

غلط فہمی کی ایک بڑی وجہ یہ بنی کہ 15 ستمبر کو سعودی حکام نے واقعی مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو روکنے کی اطلاع دی تھی۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔ یہی تازہ واقعہ بعد میں پرانی ویڈیو کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور یوں ایک سال پرانی فوٹیج کو موجودہ واقعے کی تصویر بنا کر پیش کیا گیا۔

فیکٹ چیک کے دوران وائرل ویڈیو کے اصل ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے کلیدی الفاظ اور ریورس امیج سرچ کا استعمال کیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہی فوٹیج ستمبر 2025 میں مختلف میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی جاچکی تھی۔ اس وقت اسے مدینہ منورہ کے حوالے سے مختلف دعووں کے ساتھ نشر کیا گیا تھا، لیکن سعودی حکام کی جانب سے اس مخصوص ویڈیو یا اس میں دکھائی دینے والے واقعے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔

ستمبر 2025 میں ایک میڈیا پلیٹ فارم نے یہ ویڈیو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے قریب مبینہ دھماکے اور آسمان پر میزائل نما شے دیکھے جانے کی اطلاعات کے ساتھ شیئر کی تھی۔ ایک دوسرے پلیٹ فارم نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے مسجد نبوی ﷺ کے قریب پرواز کرنے والے میزائل کو روک لیا، جبکہ ایک غیر سرکاری پلیٹ فارم نے ذرائع کے حوالے سے مدینہ منورہ میں ایک غیر مجاز ڈرون کو روکے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی اس وقت بھی سعودی حکام کی جانب سے واضح اور باضابطہ تصدیق موجود نہیں تھی۔

یوں موجودہ معاملے میں دو الگ واقعات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ ایک طرف ستمبر 2025 کی پرانی ویڈیو ہے جس کی اصل نوعیت کے بارے میں اس وقت بھی مکمل سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی تھی، جبکہ دوسری طرف ستمبر 2026 میں مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثی ڈرون کو روکنے سے متعلق سعودی حکام کا تازہ بیان ہے۔ ان دونوں واقعات کو ایک ہی واقعہ قرار دینا درست نہیں۔

سعودی حکام کے مطابق حالیہ واقعے میں ڈرون کو مکہ مکرمہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرل ویڈیو میں دکھائے جانے والے منظر کو موجودہ کارروائی کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ حوثی جانب سے مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید بھی سامنے آئی ہے، جس کے باعث اس معاملے میں مختلف فریقوں کے بیانات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو نئے واقعات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا کس قدر آسان ہوگیا ہے۔ خاص طور پر جنگ، دہشت گردی اور مقدس مقامات سے متعلق حساس خبروں میں ایک پرانی ویڈیو چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ سکتی ہے اور اس کے ساتھ منسلک نیا دعویٰ لوگوں کے لیے حقیقت اور افواہ میں فرق کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔

فیکٹ چیک کا بنیادی نتیجہ واضح ہے: مکہ مکرمہ کے قریب حالیہ حوثی ڈرون واقعے کی خبر اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ وائرل ویڈیو ستمبر 2025 میں پہلے ہی سامنے آچکی تھی اور اسے ستمبر 2026 کے مکہ مکرمہ کے واقعے سے جوڑنا درست نہیں۔ حالیہ واقعے سے متعلق سعودی حکام کا مؤقف یہ ہے کہ ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا گیا تھا۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کو مکہ مکرمہ پر حوثی حملے یا سعودی فضائی دفاع کی حالیہ کارروائی کی مستند ویڈیو قرار دینا گمراہ کن ہے۔ حساس نوعیت کے ایسے واقعات میں کسی بھی ویڈیو کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے اصل وقت، مقام اور ماخذ کی تصدیق ضروری ہے، کیونکہ ایک پرانی فوٹیج کے ساتھ نیا دعویٰ جوڑ کر پوری صورتحال کا تاثر تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

Back to top button