پاکستانی اور بھارتی بحری جہازوں کی ٹکر، کشیدگی بڑھنے کا خطرہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندر میں پاکستانی اور بھارتی بحری جہازوں کی مبینہ ٹکر نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا کردیا ہے۔ واقعے کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی نے ایک دوسرے پر بین الاقوامی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ دونوں جانب سے اپنے اپنے بحری یونٹ کے طرزِ عمل کو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ معاملہ اس وقت مزید اہم ہوگیا جب دونوں ملکوں کی وزارتِ خارجہ نے ایک دوسرے کے سفارتی نمائندوں کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان کی بحریہ اپنی مشق ’’سی سپارک 26‘‘ کے تحت خصوصی اقتصادی زون میں سرگرم تھی۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ بھارتی بحری جہاز پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب آیا اور جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہاز آپس میں ٹکرا گئے۔ پاکستان نے اس اقدام کو اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کیا اور باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک بحری حادثہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور اپریل 1991 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے فوجی مشقوں، جنگی نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی ہے۔ پاکستان نے خاص طور پر ایسے دوطرفہ انتظامات کا حوالہ دیا ہے جن کا مقصد دونوں ملکوں کی فوجی سرگرمیوں کے دوران غلط فہمی، خطرناک قربت اور کسی بڑے تصادم کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

اسلام آباد نے نئی دہلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود دوطرفہ معاہدوں کی مکمل پاسداری کرے، خصوصاً سمندر میں فوجی سرگرمیوں کے دوران ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بھارت سے جارحانہ رویہ ترک کرنے اور ایسے اقدامات سے اجتناب کی اپیل کرے جن سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہو۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھی بھارتی وزارتِ خارجہ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔

دوسری جانب بھارت نے واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس میں بھارتی بحری جہاز کو پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز نے ٹکر ماری۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، تاہم پاکستانی بحریہ کے یونٹ کے مبینہ غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کا مؤقف بھی 1991 کے معاہدے ہی سے جڑا ہوا ہے۔ نئی دہلی کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرزِ عمل اپریل 1991 میں طے پانے والے فوجی مشقوں اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی براہِ راست خلاف ورزی تھا۔ بھارت نے پاکستانی سفارتکار کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود معاہدوں کا احترام کیا جائے اور فوجی یونٹس مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

بھارت نے اسلام آباد میں موجود اپنے ناظم الامور کو بھی پاکستانی وزارتِ خارجہ کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرانے کی ہدایت دی ہے۔ یوں ایک ہی واقعے کے بعد دونوں دارالحکومتوں میں سفارتی سطح پر تقریباً یکساں کارروائی دیکھنے میں آئی، جہاں ہر فریق نے دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ 15 ستمبر کی شب شمالی بحیرۂ عرب میں پیش آیا۔ بھارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی بحری جہاز تیز رفتاری سے بھارتی بحریہ کے ایک جنگی جہاز سے ٹکرایا جو معمول کے نگرانی مشن پر موجود تھا۔ تاہم بھارتی وار شپ کا نام سرکاری طور پر سامنے نہیں لایا گیا، جبکہ بھارتی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ واقعے میں پاکستانی بحریہ کا آف شور پیٹرول ویسل پی این ایس حنین ملوث تھا۔

اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ برسوں میں زمینی اور فضائی محاذوں کے ساتھ ساتھ سمندری سرگرمیوں پر بھی حساسیت موجود رہی ہے۔ بحری جہازوں کی ایک دوسرے کے انتہائی قریب نقل و حرکت کسی بھی وقت غلط فہمی یا حادثے کو جنم دے سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب دونوں ممالک اپنی بحری صلاحیتوں اور نگرانی کے نظام کو فعال رکھے ہوئے ہوں۔

فی الحال واقعے کی ذمہ داری کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مؤقف ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ پاکستان اسے بھارتی بحری جہاز کی جارحانہ نقل و حرکت کا نتیجہ قرار دے رہا ہے، جبکہ بھارت پاکستانی بحری جہاز کو ٹکر کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ دونوں جانب سے 1991 کے معاہدے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ واضح نہیں کہ اصل تصادم کس طرح ہوا، دونوں جہازوں کی پوزیشن اور رفتار کیا تھی اور واقعے کے فوری اسباب کیا تھے۔

یہ معاملہ اب سفارتی احتجاج سے آگے بڑھ کر اس سوال کو بھی اہم بنا رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندر میں فوجی سرگرمیوں کے دوران حادثات اور غلط فہمیوں کی روک تھام کے لیے موجود معاہدے عملی طور پر کس حد تک مؤثر ہیں۔ اگر ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات اور دونوں جانب سے رابطہ کاری کے ذریعے وضاحت نہ ہوئی تو ایک معمولی بحری حادثہ بھی موجودہ حساس علاقائی ماحول میں مزید سفارتی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔

Back to top button