حوثیوں کے سعودی آئل تنصیبات پر حملے پاکستانیوں کو کتنے مہنگے پڑنے والے ہیں؟

دنیا ایک بار پھر توانائی کے ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے جس کے اثرات صرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ گیس، بجلی، خوراک، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کو متاثر کرسکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور پائپ لائن پر حملوں، آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ اور بحیرۂ احمر کے راستے پیدا ہونے والے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک پر بھی پڑ سکتا ہے، جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر موجود ہیں۔
عالمی منڈی میں جولائی سے اب تک خام تیل کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے اور قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 5 ستمبر کو پٹرول 345.87 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر تھا، جو 17 ستمبر کو بڑھ کر بالترتیب 391.22 روپے اور 415.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ برقرار رہتا ہے تو پاکستان میں بھی پٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے مزید دباؤ پیدا ہوسکتا ہے، اگرچہ حتمی قیمت پر عالمی نرخ کے ساتھ ٹیکس، لیوی، شرحِ مبادلہ اور دیگر حکومتی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس بحران کی بنیادی وجہ عالمی توانائی کی رسد کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں کو متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات منتقل ہوتی تھیں، جبکہ مائع قدرتی گیس کی عالمی ترسیل کا بھی ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔ اگر اس اہم آبی گزرگاہ سے توانائی کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو عالمی منڈی میں رسد اور طلب کا توازن مزید خراب ہوسکتا ہے۔
جنگ کے بعد سعودی عرب نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے استعمال میں اضافہ کیا تھا۔ یہ پائپ لائن خلیج سے تیل کو بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے اور اس کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم سعودی عرب میں ڈرون حملے کے بعد اس پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا، جس سے عالمی منڈی میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر متبادل راستے بھی متاثر ہوئے تو عالمی تیل کی سپلائی پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے اہم راستے بھی اسی صورتحال سے جڑے ہوئے ہیں۔ باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے، جبکہ نہرِ سویز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اگر ان راستوں پر بھی حملوں یا سکیورٹی خطرات کے باعث جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو صرف تیل ہی نہیں بلکہ دیگر اشیا کی عالمی ترسیل بھی مہنگی اور مشکل ہوسکتی ہے۔ جہازوں کو طویل متبادل راستوں پر بھیجنے سے ایندھن، بیمہ اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کا اثر بالآخر صارفین تک پہنچتا ہے۔
سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے اس تشویش کو مزید بڑھایا ہے۔ سعودی حکام نے بعض حملوں کی ذمہ داری ایرانی حمایت یافتہ گروہوں پر عائد کی ہے، جبکہ خطے میں موجود مختلف فریق ان واقعات اور اہداف کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی توانائی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے واقعات نے سرمایہ کاروں اور عالمی توانائی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہ بنا دیا ہے کہ تیل کی پیداوار اور ترسیل کے موجودہ نظام میں رکاوٹ کتنی دیر برقرار رہ سکتی ہے۔
اگر سپلائی میں رکاوٹ عارضی ہو تو عالمی منڈی کچھ عرصے بعد معمول کی طرف واپس آسکتی ہے، لیکن اگر سعودی پائپ لائن، آبنائے ہرمز یا باب المندب جیسے اہم راستے طویل عرصے تک متاثر رہے تو صورتحال زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی صرف موجودہ پیداوار نہیں بلکہ مستقبل کی سپلائی کے خطرات کو بھی تیل کی قیمت میں شامل کررہی ہے۔
اس صورتحال پر ایک مختلف مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران کے بجائے روس اور یوکرین کی جنگ کو قرار دیا ہے۔ روس دنیا میں ڈیزل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرینی ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ان حملوں سے روسی توانائی کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہونے کی صورت میں ڈیزل کی عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم دیگر تجزیہ کار مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کو حالیہ توانائی قیمتوں میں اضافے کا اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔
اس پوری صورتحال کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مہنگا تیل صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، بجلی اور گیس کے اخراجات پر دباؤ آتا ہے اور اشیائے خورونوش کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی مہنگا ہوجاتا ہے۔ کسانوں کے لیے زرعی مشینری، ڈیزل اور کھاد کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ مینوفیکچرنگ اور تجارتی شعبوں میں اضافی اخراجات بالآخر صارفین تک منتقل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے ایک بڑے حصے کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی خام تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ درآمدی بل کو بڑھا سکتا ہے اور اگر پاکستانی روپے پر بھی دباؤ آئے تو درآمد شدہ ایندھن کی مقامی قیمت مزید متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ سے لے کر بجلی کی پیداوار اور صنعتی سرگرمیوں تک مختلف شعبوں پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ صرف مہنگائی تک محدود نہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازے کے مطابق اگر تیل کی قیمت میں مستقل 10 فیصد اضافہ ہو تو عالمی افراطِ زر میں تقریباً 0.4 فیصد اضافہ جبکہ عالمی مجموعی پیداوار کی شرح نمو میں تقریباً 0.2 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے مطابق بھی تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے قلیل مدت میں برطانیہ میں مہنگائی میں تقریباً 0.5 فیصد اضافہ اور معاشی نمو میں تقریباً 0.4 فیصد کمی آسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو دنیا کو بیک وقت دو بڑے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے: مہنگائی اور معاشی سست روی۔ مرکزی بینک مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرحِ سود بلند رکھنے یا بڑھانے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس سے کاروباری قرضے، گھریلو قرضے اور رہن کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ یوں ایک طرف پٹرول اور خوراک مہنگی ہوسکتی ہے تو دوسری طرف قرض حاصل کرنا بھی مشکل اور مہنگا ہوسکتا ہے۔
تاہم صورتحال کا ایک دوسرا ممکنہ رخ بھی موجود ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے، جنگ بندی یا کوئی وسیع تر معاہدہ سامنے آتا ہے اور توانائی کی ترسیل کے راستے دوبارہ معمول پر آتے ہیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آسکتی ہیں۔ اس سے پہلے بھی جنگی کشیدگی میں کمی کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جاچکی ہے۔ اس لیے موجودہ بحران کا مستقبل بڑی حد تک اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال کس سمت جاتی ہے۔
فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور متبادل ترسیلی راستوں پر دباؤ کتنی دیر برقرار رہتا ہے اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرۂ احمر میں توانائی کی ترسیل معمول پر کب آتی ہے۔ اگر رکاوٹیں محدود مدت تک رہیں تو عالمی منڈی انہیں جذب کرسکتی ہے، لیکن اگر بحران طویل ہوگیا تو اس کے اثرات پٹرول اسٹیشن سے نکل کر گھروں کے بجٹ، صنعت کی لاگت، خوراک کی قیمتوں اور عالمی معاشی نمو تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ عالمی منڈی میں آنے والا ہر بڑا جھٹکا بالآخر مقامی صارف اور معیشت تک پہنچنے کا راستہ تلاش کرلیتا ہے۔
