سہیل آفریدی بھی گنڈا پور کی طرح تماش بینیوں پر اتر آئے

علی امین گنڈاپور کی طرح موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی پنجاب کے دورے کے دوران اپنے طرزِ عمل، بچگانہ حرکتوں اور بے بنیاد دعوؤں کے باعث خود کو ایک غیر سنجیدہ سیاستدان ثابت کیا ہے جس کی ساری توجہ تماش بینیوں پر ہے تاکہ میڈیا پر سستی کوریج حاصل کر سکیں۔ ان کی جانب سے مسلسل ایسے الزامات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں جن کے برعکس موجود حقائق ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ آفریدی کی حرکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے بھی کہہ دیا ہے کہ سہیل کا طرز عمل نہایت امیچیور ہے اور وہ پوری پارٹی کا مذاق اڑانے کا سبب بن رہا ہے۔ اپنے دورہ پنجاب کے پہلے دن سہیل آفریدی کبھی دوڑ کر پولیس کی گاڑی میں بیٹھ جاتے اور یہ دعوی کرتے کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کبھی وہ ٹریفک کھلوانے کے لیے سڑک کے درمیان میں کھڑے ہو جاتے اور کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر آتے جاتے موٹر سائیکل سواروں کے ساتھ سیلفیاں بنوانے لگتے ہیں۔ لیکن تازہ ترین واقعے میں انہوں نے وزیرآباد میں خود کو قتل کرنے کے لیے بھیجے گئے ایک مبینہ قاتل کی گرفتاری اور اس سے پستول برآمدگی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم گوجرانوالہ پولیس کے مطابق موصوف نے جس شخص کو قاتل قرار دیا ہے وہ دراصل پولیس کانسٹیبل مقدس علی تھا جو خود وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تعینات تھا۔
سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ لاہور سے واپسی پر وزیرآباد پہنچنے کے دوران ایک شخص کو انہیں قتل کرنے کی نیت سے بھیجا گیا تھا۔ ان کے مطابق سادہ لباس میں موجود اس شخص کو ان کی سکیورٹی ٹیم نے پکڑا، اس سے پستول برآمد کی اور اسے مقامی ایس ایچ او کے حوالے کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واقعے کی ویڈیو اور مبینہ حملہ آور کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔
تاہم گوجرانوالہ پولیس نے وزیر اعلیٰ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پکڑا جانے والا شخص پولیس کانسٹیبل مقدس علی تھا جو خود وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھا۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل نے موقع پر اپنی شناخت ظاہر کی، محکمہ پولیس کا شناختی کارڈ بھی پیش کیا اور واضح طور پر بتایا کہ وہ وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہے۔ پولیس کے مطابق شناخت واضح ہونے کے باوجود کانسٹیبل مقدس علی کو وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی ٹیم کے ارکان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سٹی وزیرآباد کے ایس ایچ او کی موجودگی میں پیش آیا اور ایس ایچ او نے مداخلت کرکے بڑی مشکل سے کانسٹیبل کو سکیورٹی اہلکاروں سے چھڑایا۔ پولیس نے ڈیوٹی پر مامور اہلکار کو قاتل قرار دینے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے حقائق کو مسخ کیا گیا۔ خیال رہے کہ سہیل آفریدی کے پنجاب کے دورے کے دوران یہ پہلا متنازع دعویٰ نہیں ہے۔ اس سے قبل انہوں نے لاہور اور گوجرانوالہ میں اپنے قیام کے حوالے سے بھی کہا کہ جہاں وہ جاتے ہیں وہاں بجلی منقطع کردی جاتی ہے۔ ان کے مطابق گوجرانوالہ میں پہلے تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید کے گھر کے باہر لگے ٹینٹ اکھاڑ دیے گئے اور بجلی بند کردی گئی، جس کے بعد انہیں عمر ڈار کے گھر منتقل ہونا پڑا جہاں ان کے بقول بجلی بھی منقطع کردی گئی۔
وزیراعلیٰ نے مزید دعویٰ کیا کہ جس گھر میں وہ اس وقت موجود تھے وہاں بھی بجلی بند کردی گئی۔ لاہور میں بھی انہوں نے اسی نوعیت کا الزام عائد کیا تھا کہ ان کی آمد کے بعد بجلی منقطع کردی جاتی ہے، تاہم ان دعوؤں کی کسی متعلقہ بجلی کمپنی یا آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ سہیل آفریدی ان دنوں پنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج کے لیے کارکنوں کو متحرک کیا جا سکے۔ لاہور میں دو روز قیام کے بعد وہ گوجرانوالہ پہنچے جبکہ اس دوران پولیس کے ساتھ ان کے قافلے کی تلخ کلامی، رکاوٹوں اور پنجاب حکومت کی جانب سے کارروائیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔ اس سے قبل لاہور میں بھی سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پنجاب پولیس نے اغوا کیا اور بعدازاں سڑک کنارے چھوڑ دیا۔
پی ٹی آئی مارچ میں شریک وفاقی ملازمین خمیازہ کیسے بھگتیں گے؟
پنجاب حکومت نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ خود زبردستی پولیس کی گاڑی میں سوار ہوئے تھے تاکہ ویڈیوز بنوا سکیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں بھی انہیں پولیس گاڑی کی جانب دوڑتے اور اس میں سوار ہوتے دیکھا جا سکتا یے۔ دوسری جانب سہیل آفریدی نے پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، راستے بند کیے جانے، اور احتجاجی کیمپ اکھاڑے جانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں اپنے سیاسی دورے کے دوران کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں لوگ تحریک میں شامل ہو رہے ہیں اور 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب 20 لاکھ افراد پر مشتمل لانگ مارچ کیا جائے گا۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ حکومتیں ہمیشہ قائم نہیں رہتیں اور ’’اگلی باری ہماری ہے‘‘، جبکہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز بنائے جانے اور مستقبل میں ان کے احتساب کی بات بھی کی۔
