ایئر فورس کے بعد پاک بحریہ نے بھی بھارتی جہاز ٹھوک دیا

پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ایک بھارتی جہاز کو ٹھوک دیا ہے جس پر بھارتی حکام نے شدید احتجاج کیا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ بحیرۂ عرب کے گہرے پانیوں میں پی این ایس حنین نامی پاکستانی جنگی بحری جہاز تیزی سے آیا اور ایک انڈین نیول شپ کے پیچھے جا ٹکرایا۔ بھارت نے اس ٹکر کو دانستہ قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے اور اسے بین الاقوامی پانیوں میں طے شدہ ضوابط اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس واقعے کے اگلے روز نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو بھارتی وزارت خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کی ٹکر سے کوئی بڑا نقصان تو نہیں ہوا لیکن اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور آئندہ ایسے ٹکراؤ سے گریز کرنا چاہیے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹ کے ’’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابل قبول طرز عمل‘‘ پر شدید احتجاج کیا گیا۔ بھارتی مؤقف کے مطابق پاکستانی بحری جہاز نے معمول کی نگرانی کے مشن پر موجود بھارتی بحری جہاز کو پیچھے سے آ کر ٹکر ماری، تاہم ٹکر کے نتیجے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ یہ گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگی کشیدگی کے بعد کھلے پانیوں میں دونوں ملکوں کی بحری افواج کے درمیان سامنے آنے والا پہلا واقعہ ہے جس پر سفارتی سطح پر احتجاج کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا اور خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جسے موجودہ صورتحال میں معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق واقعہ 15 ستمبر کی شب شمالی بحیرۂ عرب میں بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، جہاں بھارتی بحریہ کا ایک جنگی جہاز معمول کی نگرانی کے مشن پر مامور تھا۔ بھارتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی بحری جہاز تیز رفتاری سے بھارتی جنگی جہاز کے قریب آیا اور محفوظ فاصلہ برقرار نہ رکھ سکا، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں ٹکر ہوئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے میں ملوث پاکستانی بحری جہاز کی شناخت پی این ایس حنین کے نام سے ہوئی ہے جو پاکستان نیوی کا آف شور پیٹرول ویسل ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق ٹکر کے بعد پاکستانی جہاز کو معمولی نقصان پہنچا اور وہ اپنی بندرگاہ کی جانب روانہ ہوگیا، جبکہ بھارتی بحری جہاز معمول کے آپریشن میں مصروف رہا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرز عمل اپریل 1991 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق اس شق کے تحت دونوں ملکوں کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کو بین الاقوامی پانیوں میں ایک دوسرے سے کم از کم تین ناٹیکل میل کا فاصلہ برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔
نئی دہلی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ناظم الامور کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ معاہدوں کا احترام کیا جائے اور تمام فوجی یونٹس سمندر میں نقل و حرکت کے دوران مناسب احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات اپنے ناظم الامور کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستانی وزارت خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ اس طرح واقعے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر رابطہ بھی شروع ہوگیا ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے ابھی تک اس واقعے کی تصدیق، تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔
بھارتی ذرائع کے مطابق واقعہ عمان کے ساحل سے تقریباً 220 کلومیٹر مشرق میں پیش آیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس وقت سمندر میں موسم کی صورتحال بھی سخت تھی اور پاکستانی جہاز نے بھارتی بحری جہاز کو عبور کرتے ہوئے مطلوبہ فاصلہ برقرار نہیں رکھا۔
بھارتی میڈیا نے اس واقعے کو 2011 میں پیش آنے والے ایک سابقہ بحری واقعے کی یاد دہانی بھی قرار دیا ہے، جب پاکستانی بحری جہاز پی این ایس بابر اور بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس گوداوری کے درمیان خلیج عدن میں انتہائی قریب سے گزرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت بھی بھارت نے پاکستان کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ حالیہ واقعے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد بحیرۂ عرب میں دونوں بحری افواج کی سرگرمیاں خصوصی اہمیت اختیار کرچکی ہیں۔ بین الاقوامی پانیوں میں دونوں ممالک کے جنگی جہاز معمول کی نگرانی اور گشت کرتے ہیں اور ایسے کسی بھی واقعے سے سفارتی سطح پر نئی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
سہیل آفریدی بھی گنڈا پور کی طرح تماش بینیوں پر اتر آئے
پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال خاموشی کے باعث واقعے کے اصل اسباب، دونوں جہازوں کی نقل و حرکت اور ٹکر سے قبل پیش آنے والے واقعات کے بارے میں مکمل تصویر سامنے نہیں آسکی۔ اب نگاہیں پاکستان نیوی اور دفتر خارجہ کے ممکنہ باضابطہ ردعمل پر مرکوز ہیں جس سے یہ واضح ہوسکے گا کہ بھارتی دعووں اور احتجاج کے بارے میں پاکستان کا مؤقف کیا ہے۔
