لاہور ہائی کورٹ : محمد رضوان کی این سی سی آئی اے نوٹسز کے خلاف درخواست مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے بھیجے گئے نوٹسز کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے مسترد کردی۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست پر سماعت کی۔محمد رضوان نے درخواست میں این سی سی آئی اے کے دائرہ اختیار اور تحقیقات کی نوعیت پر سوالات اٹھائے جب کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک این سی سی ائی اے کی کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔
وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے درخواست میں مؤقف اپنایاکہ این سی سی آئی اے طلب کرنےسے متعلق کوئی مخصوص الزام نہیں بتایاگیا،این سی سی آئی اے کسی نامعلوم الزام کی تحقیقات کیوں کررہا ہے؟
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیاکہ کیا آپ کو این سی سی آئی اے کی جانب سے نوٹس موصول ہوا ہے؟ وکیل درخواست گزار نےجواب دیاکہ این سی سی آئی اے کی جانب سے 10 ستمبر کو نوٹس موصول ہوا تھا۔چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا آپ اس تاریخ کو این سی سی آئی اے میں پیش ہوئے تھے؟ وکیل نے جواب دیاکہ جی۔
درخواست گزار اس تاریخ کو این سی سی آئی اے میں پیش ہوئےتھے، تاہم اب دوبارہ این سی سی آئی اے کی جانب سے بلایا جارہا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ وہاں جاکر اپنا موقف پیش کریں۔
عدالت کے سوالات پر درخواست گزار کے وکیل تسلی بخش جواب نہ دےسکے۔
چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے طلبی کے نوٹس چیلنج کیےہیں۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ این سی سی آئی اے کے شوکاز نوٹس کا جواب دیں اور وہاں پیش ہوں۔
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے محمد رضوان کی درخواست خارج کر دی۔
