ڈرون سے بیلسٹک میزائل تک، سعودی عرب مقدس شہروں کی حفاظت کیسے کرتا ہے؟

مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کی خبر سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ سعودی عرب اپنے مقدس شہروں اور اہم تنصیبات کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کس نوعیت کے دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس ایک ہی طرز کا دفاعی نظام نہیں بلکہ مختلف فاصلے اور مختلف نوعیت کے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیٹریاٹ، تھاڈ اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز سمیت متعدد نظام موجود ہیں۔ تاہم حالیہ واقعے نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ جدید ترین فضائی دفاع کے باوجود کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز جیسے نسبتاً چھوٹے اہداف کو روکنا کس قدر پیچیدہ چیلنج ہے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورس نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک ڈرون مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک کر تباہ کردیا۔ تاہم یمن کے حوثیوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ سعودی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے کس مخصوص دفاعی نظام کا استعمال کیا گیا، اسی لیے دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس کارروائی میں پیٹریاٹ، اینٹی ایئر کرافٹ گن یا کوئی دوسرا نظام استعمال ہوا۔
سعودی عرب نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ رواں برس مئی میں سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مختلف میزائل لانچرز، ریڈارز اور طیارہ شکن گنز دکھائی گئیں۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ان فضائی دفاعی فورسز کو مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ اور فضائی خطرات سے نمٹنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دفاعی امور کے محقق حماد ولید کے مطابق ویڈیو میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ دفاعی نظام کی بیٹریاں، میزائل لانچرز اور ریڈار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں کے تحفظ کے لیے پیٹریاٹ نظام کی تنصیب کی گئی ہے۔
سعودی فضائی دفاع میں پیٹریاٹ میزائل نظام ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ امریکی ساختہ نظام ڈرونز، طیاروں، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں جیسے مختلف فضائی خطرات کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق سعودی عرب کے پاس پیٹریاٹ ایڈوانسڈ کیپابیلیٹی 3 یعنی پی اے سی 3 نظام بھی موجود ہے، جو بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ لڑاکا طیاروں کے خلاف بھی دفاع فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس نظام میں جدید ریڈار شامل ہیں جو بیک وقت متعدد اہداف کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی میں مدد دیتے ہیں۔
لیکن ہر فضائی خطرے کے لیے مہنگے میزائل استعمال کرنا عملی یا معاشی طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ اسی لیے سعودی عرب کے دفاعی نظام میں 35 ملی میٹر اورلیکن اینٹی ایئر کرافٹ گنز بھی شامل ہیں۔ حماد ولید کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع کی ویڈیو میں نظر آنے والی یہ گنز خاص طور پر نسبتاً چھوٹے اور کم فاصلے کے فضائی اہداف کے خلاف استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ان کے مطابق 35 ملی میٹر کے گولے پیٹریاٹ میزائلوں کے مقابلے میں کم لاگت رکھتے ہیں، اس لیے چھوٹے ڈرونز جیسے اہداف کے لیے ایسی گنز کا استعمال دفاعی نقطۂ نظر سے زیادہ قابلِ عمل ہوسکتا ہے۔
اس فرق کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ سعودی فضائی دفاع ایک تہہ دار نظام کے طور پر کام کرتا ہے۔ بڑے اور زیادہ خطرناک میزائل یا دیگر فضائی اہداف کے لیے پیٹریاٹ جیسے میزائل نظام موجود ہیں، جبکہ نسبتاً چھوٹے اہداف کے لیے اینٹی ایئر کرافٹ گنز جیسے ہتھیار استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص واقعے میں کون سا نظام استعمال ہوا، اس کا فیصلہ متعلقہ سعودی حکام کی کارروائی اور دستیاب آپریشنل معلومات پر منحصر ہوتا ہے، اور مکہ کے حالیہ مبینہ ڈرون واقعے کے بارے میں ایسی تفصیل سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔
سعودی عرب نے اپنے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تھاڈ یعنی ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفینس نظام بھی حاصل کیا ہے۔ سعودی سرکاری ذرائع کے مطابق اس نظام کی پہلی بیٹری کی تعیناتی رواں برس ایک وسیع تر دفاعی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور اہم تزویراتی تنصیبات اور قومی مفادات کا تحفظ ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن کے مطابق تھاڈ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اسے پیٹریاٹ جیسے دوسرے میزائل دفاعی نظام کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
حماد ولید کے مطابق تھاڈ بنیادی طور پر بیلسٹک میزائلوں جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے اہم ہے، جبکہ چھوٹے ڈرونز کے خلاف اسے استعمال کرنا مہنگا اور غیر موزوں ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو مختلف نوعیت کے خطرات کے لیے مختلف دفاعی تہوں کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ایران یا حوثیوں کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں اور چھوٹے ڈرونز میں بنیادی فرق یہی ہے کہ دونوں کو تلاش کرنے، ٹریک کرنے اور روکنے کے لیے ایک ہی قسم کا دفاعی نظام یکساں طور پر مؤثر نہیں ہوتا۔
تاہم جدید فضائی دفاعی نظاموں کی موجودگی کے باوجود سعودی عرب کو ایک پیچیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ جیوپولیٹیکل افیئرز سے وابستہ تجزیہ کار اور مشرق وسطیٰ میں تعینات رہنے والے سابق امریکی فوجی اہلکار اینڈریو ڈیوڈسن کے مطابق سعودی عرب ممکنہ فضائی خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن مسلسل یا بڑے پیمانے پر حملوں کی صورت میں دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ وہ 2025 میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے پاس 108 پیٹریاٹ لانچرز ہونے کی بات کرتے ہیں، تاہم ان کے مطابق حالیہ تنازعات نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اہم اہداف جدید دفاعی نظام کے باوجود نشانہ بن سکتے ہیں۔
اصل مشکل صرف دفاعی نظاموں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی تعیناتی اور ترجیحات بھی ہیں۔ سعودی عرب کو مقدس مقامات، بڑے شہروں، فوجی اڈوں، تیل اور گیس کی تنصیبات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو بیک وقت محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر دفاعی وسائل کسی مخصوص مقام کے گرد زیادہ مرکوز کیے جائیں تو دوسرے علاقوں کے لیے دستیاب وسائل کم ہوسکتے ہیں۔
ڈرونز اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ کم بلندی پر پرواز کرنے والے چھوٹے ڈرونز کا سراغ لگانا بڑے بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ مسلسل حملوں کی صورت میں دفاعی میزائلوں اور دیگر انٹرسیپٹرز کے ذخائر بھی تیزی سے استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں جدید فضائی دفاعی نظاموں اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی طلب میں اضافے نے دفاعی ذخائر اور رسد کو بھی ایک اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت سعودی عرب کے لیے عام دفاعی ذمہ داری سے کہیں زیادہ حساس معاملہ ہے۔ اسی لیے سعودی دفاعی حکمت عملی میں مقدس مقامات کے گرد فضائی خطرات کی نگرانی اور ان کے خلاف فوری ردعمل کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن حالیہ مبینہ ڈرون واقعے کے حوالے سے یہ بات ابھی واضح نہیں کہ حملے کی نوعیت کیا تھی، ڈرون کہاں سے آیا، اسے کس نظام نے نشانہ بنایا اور کس مرحلے پر اسے روکا گیا۔
یوں مکہ کی جانب مبینہ ڈرون حملے کی کوشش نے صرف ایک فضائی واقعے کی بحث کو جنم نہیں دیا بلکہ سعودی عرب کے کثیر سطحی فضائی دفاع، پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید میزائل نظاموں، 35 ملی میٹر اینٹی ایئر کرافٹ گنز اور ڈرونز جیسے کم بلندی کے اہداف سے نمٹنے کی مشکلات کو بھی نمایاں کردیا ہے۔ سعودی عرب کے پاس جدید دفاعی وسائل ضرور موجود ہیں، لیکن مسلسل اور مختلف نوعیت کے فضائی حملوں کے ماحول میں اصل امتحان یہ ہے کہ ان تمام نظاموں کو کس طرح مربوط انداز میں استعمال کرتے ہوئے مقدس شہروں سمیت اہم تنصیبات کو مسلسل محفوظ رکھا جائے۔
