میر رضا قتل کیس: کیا JIT قاتلوں کو بے نقاب کر پائے گی؟

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کو 60 سے زائد دن گزرنے کے باوجود پولیس قاتل تک نہیں پہنچ سکی اور مقدمہ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں تفتیش کے طریقۂ کار، شفافیت اور رفتار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مقتول کے اہلخانہ اور ان کے وکیل پہلے ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ہائی پروفائل قتل کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی یا کم از کم اعلیٰ سطح کے افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جانی چاہیے تاکہ مختلف اداروں کی مہارت اور وسائل کو ایک ہی تفتیشی عمل میں استعمال کیا جاسکے۔

میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے جے آئی ٹی کے قیام کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے تفتیشی افسر کو شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کی استدعا منظور نہیں کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر اہلخانہ موجودہ تفتیشی ٹیم پر اعتماد نہیں کرتے تو انہیں قانون میں دستیاب مختلف راستے اختیار کرنے چاہییں، جن میں متعلقہ عدالت، محکمہ داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے باضابطہ رجوع کرنا شامل ہے۔

سابق چیف رینجرز پراسیکیوٹر اور قانونی ماہر ساجد محبوب ایڈووکیٹ کے مطابق اگر مقتول کے ورثا کو تفتیشی افسر یا موجودہ تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد نہیں تو وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 22 اے کے تحت درخواست دائر کرکے اپنے تحفظات بیان کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اعلیٰ سطح کی تفتیشی ٹیم کے قیام کے لیے محکمہ داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے بھی درخواست کی جاسکتی ہے، جبکہ ایسے حساس معاملے میں ایس پی یا ایس ایس پی رینک کے افسر کو تفتیش سونپنے کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ساجد محبوب کے مطابق اگر ان تمام قانونی راستوں کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے باقاعدہ بینچ سے بھی رجوع کیا جائے تو جے آئی ٹی کے قیام کے حوالے سے عدالت سے مناسب حکم حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاملے میں یہ سوال اہم ہے کہ اگر تفتیشی افسر کو خود کسی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی مدد درکار ہو تو کیا وہ ادارہ اسی سطح پر فوری اور مؤثر تعاون فراہم کرے گا؟ ان کا کہنا ہے کہ ہائی پروفائل مقدمات میں تفتیش کا معیار اور مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔

قانونی ماہر کے مطابق میر رضا قتل کیس میں گواہان کے بیانات بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ قتل کے محرکات، ملزم تک رسائی اور واقعے کے پس منظر سے متعلق اہم معلومات انہی بیانات سے سامنے آسکتی ہیں۔ اگر گواہان سے مکمل اور غیر جانب دارانہ انداز میں پوچھ گچھ کی جائے اور وہ کسی دباؤ یا مصلحت کے بغیر تمام معلومات فراہم کریں تو تفتیش کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق جے آئی ٹی کی صورت میں مختلف اداروں کے افسران ایک ہی ٹیم کا حصہ بن کر گواہان، شواہد اور دیگر تفتیشی پہلوؤں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

تاہم جے آئی ٹی کی تشکیل سے بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا۔ ماہر کرمنل وکیل طاہر اقبال ملک ایڈووکیٹ کے مطابق اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کا قانونی نتیجہ کیا نکلتا ہے اور اس کی رپورٹ کو مقدمے کے چالان کا حصہ بنایا جاتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے بعض ہائی پروفائل مقدمات میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، رپورٹس بھی تیار ہوئیں اور بعض افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا، لیکن اگر جے آئی ٹی کے افسران کو عدالت میں بطور گواہ پیش نہ کیا جائے یا جے آئی ٹی رپورٹ چالان کا حصہ نہ بنے تو اس تفتیش کی افادیت مقدمے کی سماعت کے مرحلے پر محدود ہوسکتی ہے۔

طاہر اقبال ملک کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری، عزیر بلوچ اور بعض ایم کیو ایم سے متعلق مقدمات میں بھی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی، لیکن ان کے مطابق ان تحقیقات کے قانونی نتائج پر یہ سوال اٹھتا رہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹس عدالت میں کس طرح پیش کی گئیں اور تحقیقاتی افسران کے بیانات کس حد تک ریکارڈ ہوئے۔ ان کے مطابق اگر کسی مقدمے میں اہم شواہد یا تحقیقات کا حصہ چالان میں شامل نہ ہو تو بعد ازاں عدالت میں اسے ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے اور اس کا فائدہ ملزم کو پہنچ سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمے میں بنیادی مقصد کسی مخصوص شخص کو ملزم ثابت کرنا نہیں بلکہ شواہد اکٹھے کرکے اصل حقائق تک پہنچنا ہوتا ہے۔ تفتیشی افسر کو جائے وقوعہ کا معائنہ، شواہد کا تحفظ، متعلقہ افراد کے بیانات، دستیاب ویڈیو ریکارڈ، ڈیجیٹل شواہد، ڈی این اے اور دیگر فارنزک مواد سمیت تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ضرورت کے مطابق مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ اور دیگر قانونی کارروائی بھی اسی تفتیش کا حصہ ہوتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 173 کے تحت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جاتی ہے جسے عام طور پر چالان کہا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں تفتیشی افسر کو اپنی تحقیقات اور فائنڈنگز پیش کرنا ہوتی ہیں۔ اسی لیے میر رضا کیس میں اگر جے آئی ٹی تشکیل دی جاتی ہے تو اس کی تحقیقات، حاصل شدہ شواہد، رپورٹ اور متعلقہ افسران کے کردار کو قانونی تقاضوں کے مطابق مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنانا انتہائی اہم ہوگا۔

میر رضا قتل کیس میں پولیس اب تک 53 افراد کو شاملِ تفتیش کرچکی ہے، جن میں مقتول کے اہلخانہ، دوست، رشتہ دار اور کاروباری شراکت دار شامل ہیں، جبکہ ان افراد کو گواہان کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کسی فرد کو باقاعدہ ملزم نامزد نہیں کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیشی حکام ابھی تک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

پولیس کو اس مقدمے میں مزید کئی اہم شواہد کا فرانزک جائزہ بھی درکار ہے۔ ان میں میر رضا کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ، ایپل واچ کا ڈیٹا، سم کارڈ سے متعلق معلومات، بائنانس اکاؤنٹ کی تفصیلات، کاروباری شراکت داروں کے موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ اور ایک یو ایس بی میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ شامل ہے۔ ان ڈیجیٹل شواہد سے واقعے سے پہلے اور بعد میں مقتول کی نقل و حرکت، رابطوں اور ممکنہ مشتبہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔

دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی عدالتی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا جاچکا ہے، جس کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کررہے ہیں۔ کمیشن کی کارروائی کے دوران میر رضا کے اہلخانہ، دوستوں، رشتہ داروں، کاروباری شراکت داروں، سرمایہ کاروں، پولیس سرجن کراچی، پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اور متعلقہ پولیس افسران سمیت مختلف افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی تاحال جاری ہے۔

یوں میر رضا قتل کیس میں اس وقت دو اہم تحقیقاتی راستے بیک وقت آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک طرف پولیس اپنی تفتیش مکمل کرنے اور باقی ماندہ فرانزک و ڈیجیٹل شواہد حاصل کرنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب جوڈیشل کمیشن واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایسے میں جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ اس بحث کا مرکز بن گیا ہے کہ کیا موجودہ تفتیشی ڈھانچہ اس ہائی پروفائل قتل کے تمام پہلوؤں تک پہنچنے کے لیے کافی ہے یا مختلف اداروں پر مشتمل خصوصی ٹیم کی ضرورت ہے۔

اصل امتحان صرف قاتل تک پہنچنا نہیں بلکہ ایسے ناقابلِ تردید شواہد جمع کرنا بھی ہے جو عدالت میں قانونی معیار پر پورے اتریں۔ اگر تفتیش میں ملزم تک پہنچ بھی لیا جائے لیکن شواہد، گواہوں کے بیانات، فرانزک مواد اور تفتیشی رپورٹ کو قانونی طریقے سے مقدمے کا حصہ نہ بنایا جائے تو عدالت میں کیس کمزور ہوسکتا ہے۔ اسی لیے میر رضا کیس میں آئندہ پیش رفت کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ پولیس مشتبہ شخص تک کب پہنچتی ہے بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اس تک پہنچنے کے بعد حاصل کیے گئے شواہد کو قانونی طور پر کس طرح محفوظ، دستاویزی اور عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

Back to top button